جلد پانڈا بانڈ جاری کر رہے ہیں، وزیر خزانہ: غزہ میں قتل عام نہیں رکا، قطر
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی+ نوائے وقت رپورٹ) پاکستان نے اہم معاشی کامیابیاں حاصل کی ہیں، پاکستان ڈیفالٹ کے قریب پہنچ گیا تھا۔ حکومت اس بات کا جائزہ لے رہی ہے کہ ڈالر، یورو یا اسلامی سکوک بانڈ جاری کیا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان جلد ہی اپنی تاریخ کا پہلا پانڈا بانڈ بھی متعارف کرانے کی تیاری کر رہا ہے۔سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈاووس میں ورلڈ اکنامک فورم کے موقع پر پاکستانی وفد، جس کی قیادت وزیراعظم شہباز شریف کر رہے ہیں، عالمی سرمایہ کاروں کو یہ پیغام دے رہا ہے کہ پاکستان کی معیشت بہتر ہو چکی ہے اور سرمایہ کاری کے لیے تیار ہے، خاص طور پر معدنیات، زراعت اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں۔وزیرِ خزانہ نے کہا کہ پاکستان نے معاشی استحکام کے میدان میں اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ ان کے مطابق مہنگائی، شرحِ سود، مالی خسارہ اور کرنٹ اکاؤنٹ سمیت تمام بڑے معاشی اشاریے بہتر سمت میں جا رہے ہیں۔پاکستان 2022 ء کے بعد عالمی بانڈ مارکیٹ سے تقریباً باہر ہو گیا تھا، کیونکہ یہی پائیدار ترقی کا واحد حل ہے۔’’وفاقی وزیر برائے خزانہ و محصولات، سینیٹر محمد اورنگزیب نے ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم کے سالانہ اجلاس کے موقع پر متحدہ عرب امارات کے وزیر مملکت برائے مالی امور، محمد الحسینی سے ملاقات کی۔اس ملاقات میں دونوں فریقین کو جاری اقتصادی تعاون کا جائزہ لینے اور پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان قریبی اور ہمہ جہت تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کا موقع ملا۔ اماراتی وزیر نے اس سے اتفاق کیا اور اقتصادی استحکام اور طویل المدتی ترقی کے لیے سرمایہ کاری پر مبنی تعاون کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ اماراتی وزیر نے ان پیش رفتوں کا خیرمقدم کیا، اور اس اعتماد کا اظہار کیا کہ ان شعبوں میں تعاون مزید وسعت اختیار کرے گا۔ دریں اثناء اقتصادی امور احد خان چیمہ اور عالمی بینک کے علاقائی نائب صدرعثمان ڈیون کے درمیان ملاقات ہوئی ،پاکستان اور عالمی بینک کا باہمی دلچسپی کے مختلف شعبوں میں دوطرفہ اسٹریٹجک تعاون مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا ،فریقین نے عالمی بنک کے کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک برائے 2026–2035ء کے تحت اقتصادی ترقی، گڈ گورننس کے فروغ پر زور دیا، ملاقات میں توانائی، غذائی تحفظ، زراعت، بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور ٹرانسپورٹ جیسے اہم شعبوں میں ممکنہ تعاون پر گفتگو کی گئی ۔ ادھر قطری وزیراعظم حمد بن عبدالرحمان الثانی نے ڈیوس میں عالمی اقتصادی فورم میں گفتگو میں کہا ہے کہ غزہ میں جنگ بندی کے باوجود قتل عام نہیں رکا، مشرق وسطیٰ بہت زیادہ کشیدگی سے گزر رہا ہے، میرے خیال میں ہمیں دانشمدانی سے کام لینا چاہئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹواقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔
اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔
صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔