روپے کی قدر میں مضبوطی، پاکستانی معیشت کو کیسے متاثر کر سکتی ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے چیئرمین ملک بوستان نے ڈالر کے 250 روپے سے نیچے جانے کے امکانات ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ روپے کی قدر میں بہتری کے متعدد عوامل موجود ہیں، جن میں دفاعی برآمدات میں اضافہ، عالمی مارکیٹ میں جے ایف 17 طیاروں کی بڑھتی ہوئی طلب اور اسٹاک مارکیٹ کی مضبوط بحالی شامل ہیں۔
ان کے مطابق روپے کی حقیقی قدر پہلے کے مقابلے میں نمایاں طور پر بہتر ہو گئی ہے اور مستقبل میں مزید مضبوط ہونے کے قوی امکانات ہیں۔
مگر دوسری جانب ماہرین کا کہنا ہے کہ روپے کی قدر میں فی الحال مضبوطی پاکستانی معیشت کے لیے منفی اثر پیدا کر سکتی ہے، مگر ایسا کیوں؟
یہ بھی پڑھیں: سنہ 2025 پاکستانی روپے کے لیے بہتر سال رہا، سال نو کیسا رہے گا؟
اس حوالے سے بات کرتے ہوئے معاشی ماہر راجہ کامران نے خبردار کیا ہے کہ روپے کی قدر میں غیر فطری کمی یا تیزی سے مضبوطی معیشت میں عدم توازن پیدا کر سکتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی کرنسی کی قدر کا تعین برآمدات، درآمدات اور مہنگائی جیسے اہم عوامل سے جڑا ہوتا ہے، اگر کوئی ملک اپنی برآمدات بڑھانا چاہتا ہے تو وہ کرنسی کی قدر کم رکھتا ہے۔
’۔۔۔تاکہ عالمی منڈی میں اس کی مصنوعات سستی ہوں، جبکہ درآمدات پر انحصار رکھنے والی معیشتیں مہنگائی کو قابو میں رکھنے کے لیے کرنسی کو مستحکم رکھتی ہیں۔‘
مزید پڑھیں:
راجہ کامران کے مطابق اگر روپے کی قدر 250 روپے فی ڈالر تک آ جاتی ہے تو اس کے ملکی معیشت پر ہمہ جہتی اثرات مرتب ہوں گے۔
’روپے کی قدر میں اضافے سے درآمدات سستی ہو جائیں گی، جس سے درآمدی اشیا کی طلب بڑھے گی، تاہم اس کے برعکس برآمد کنندگان کو ڈالر کے عوض کم روپے ملیں گے، جس سے برآمدات کی حوصلہ شکنی ہوگی۔‘
راجہ کامران سمجھتے ہیں کہ روپے کی قدر میں بہتری کے نتیجے میں مہنگائی میں کمی اور بعض صورتوں میں ڈیفلیشن بھی ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیں:
مثال کے طور پر اگر ایک ڈالر میں خریدی جانے والی اشیا، جیسے پیٹرول، 280 روپے کے بجائے 250 روپے میں دستیاب ہوں تو درآمد کنندگان کو فائدہ ہوگا، تاہم مقامی صنعت اور مینوفیکچرنگ کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر روپے کو مصنوعی طور پر مضبوط کیا گیا تو درآمدات میں اضافہ جبکہ برآمدات میں کمی واقع ہو سکتی ہے، جس سے معیشت میں عدم توازن پیدا ہوگا اور مقامی طور پر تیار کردہ مصنوعات مہنگی جبکہ درآمدی اشیا نسبتاً سستی ہو جائیں گی۔
معاشی امور کے ماہر شہباز رانا نے ڈالر کے ممکنہ ریٹ سے متعلق زیرِ گردش خبروں کو قیاس آرائیاں قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس وقت مارکیٹ میں ڈالر کی موجودہ قیمت تقریباً 280 روپے کم تصور کی جا رہی ہے اور متعدد ماہرین کے نزدیک اس کی اصل مارکیٹ بیسڈ قیمت 4 سے 5 فیصد زیادہ ہونی چاہیے۔
مزید پڑھیں:
ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر قائم کیے گئے ایک ورکنگ گروپ اور پینل نے بھی یہی تجویز دی ہے کہ ڈالر کی قیمت کو مکمل طور پر مارکیٹ فورسز کے مطابق طے کیا جائے، نہ کہ کسی مصنوعی سطح پر رکھا جائے۔
شہباز رانا کے مطابق اس پینل نے اپنی سفارشات وزیراعظم کو پیش کر دی ہیں، جن میں ڈالر کو اس کی حقیقی مارکیٹ ویلیو کے مطابق ایڈجسٹ کرنے کی تجویز شامل ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ اس وقت ڈالر کو 250 روپے تک لانے یا اس سے نیچے جانے کی کوئی تجویز زیرِ غور نہیں اور نہ ہی حکومتی سطح پر اس حوالے سے کوئی فیصلہ جاری ہوا ہے۔
مزید پڑھیں:
ان کے مطابق ماضی میں اس طرح کی باتیں ضرور ہوتی رہی ہیں، تاہم موجودہ معاشی حالات میں حکومت کای توجہ کرنسی کو مارکیٹ بیسڈ اور مستحکم رکھنے پر مرکوز ہے، نہ کہ اسے مصنوعی طور پر مضبوط کرنے پر۔
شہباز رانا کا کہنا تھا کہ اگر ڈالر کی قیمت کو مارکیٹ فورسز کے برخلاف دبایا گیا تو اس سے نہ صرف برآمدات متاثر ہوں گی بلکہ درآمدات میں غیر ضروری اضافہ ہو سکتا ہے، جو تجارتی توازن کے لیے نقصان دہ ہوگا۔ ’اسی لیے پالیسی ساز اس وقت کرنسی مینجمنٹ میں محتاط حکمتِ عملی اپنانے کے حامی ہیں۔‘
معاشی ماہر عابد سلہری کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ڈالر کی قیمت میں نمایاں کمی کے لیے غیر ملکی زرِ مبادلہ کے ذخائر میں مضبوط اور پائیدار اضافہ ناگزیر ہے، جو اس وقت موجود نہیں۔
مزید پڑھیں:
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے موجودہ زرِ مبادلہ کے ذخائر بنیادی طور پر آئی ایم ایف پروگرام، قرضوں کے رول اوور اور مشرقِ وسطیٰ و چین سے حاصل ہونے والی مالی معاونت کی بدولت برقرار ہیں، نہ کہ برآمدات یا سرمایہ کاری سے حاصل ہونے والی مستحکم آمدن کے نتیجے میں۔ ایسی صورتحال میں روپے کے تیزی سے مضبوط ہونے کی گنجائش محدود ہے۔
عابد سلہری کے مطابق موجودہ حالات میں بہترین ممکنہ منظرنامہ یہی ہے کہ روپیہ اپنی موجودہ سطح پر مستحکم رہے، جیسا کہ اس وقت دکھائی دے رہا ہے۔
مزید پڑھیں:
تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر عالمی سطح پر کوئی جیو پولیٹیکل بحران پیدا ہوتا ہے یا تیل کی قیمتوں میں دوبارہ اضافہ ہو جاتا ہے، جس سے درآمدی دباؤ بڑھتا ہے، تو روپے پر دباؤ آ سکتا ہے اور اس کی قدر میں کمی کا امکان پیدا ہو سکتا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ موجودہ معاشی حالات میں روپے کے نمایاں طور پر مضبوط ہونے یا ڈالر کے مقابلے میں قدر بہتر ہونے کے آثار نظر نہیں آتے، البتہ منفی عالمی یا علاقائی عوامل کی صورت میں روپے کی قدر میں کمی کا خطرہ موجود ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ڈالر راجہ کامران روپیہ زر مبادلہ شہباز رانا عابد سلہری کرنسی معاشی ماہر ورکنگ گروپ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ڈالر راجہ کامران روپیہ زر مبادلہ عابد سلہری معاشی ماہر ورکنگ گروپ کہ روپے کی قدر میں کا کہنا تھا کہ راجہ کامران مزید پڑھیں کے مطابق انہوں نے ڈالر کی کی قیمت سکتا ہے سکتی ہے روپے کے ڈالر کے کے لیے کیا کہ
پڑھیں:
حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔