ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے چیئرمین ملک بوستان نے ڈالر کے 250 روپے سے نیچے جانے کے امکانات ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ روپے کی قدر میں بہتری کے متعدد عوامل موجود ہیں، جن میں دفاعی برآمدات میں اضافہ، عالمی مارکیٹ میں جے ایف 17 طیاروں کی بڑھتی ہوئی طلب اور اسٹاک مارکیٹ کی مضبوط بحالی شامل ہیں۔

ان کے مطابق روپے کی حقیقی قدر پہلے کے مقابلے میں نمایاں طور پر بہتر ہو گئی ہے اور مستقبل میں مزید مضبوط ہونے کے قوی امکانات ہیں۔

مگر دوسری جانب ماہرین کا کہنا ہے کہ روپے کی قدر میں فی الحال مضبوطی پاکستانی معیشت کے لیے منفی اثر پیدا کر سکتی ہے، مگر ایسا کیوں؟

یہ بھی پڑھیں: سنہ 2025 پاکستانی روپے کے لیے بہتر سال رہا، سال نو کیسا رہے گا؟

اس حوالے سے بات کرتے ہوئے معاشی ماہر راجہ کامران نے خبردار کیا ہے کہ روپے کی قدر میں غیر فطری کمی یا تیزی سے مضبوطی معیشت میں عدم توازن پیدا کر سکتی ہے۔

 ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی کرنسی کی قدر کا تعین برآمدات، درآمدات اور مہنگائی جیسے اہم عوامل سے جڑا ہوتا ہے، اگر کوئی ملک اپنی برآمدات بڑھانا چاہتا ہے تو وہ کرنسی کی قدر کم رکھتا ہے۔

’۔۔۔تاکہ عالمی منڈی میں اس کی مصنوعات سستی ہوں، جبکہ درآمدات پر انحصار رکھنے والی معیشتیں مہنگائی کو قابو میں رکھنے کے لیے کرنسی کو مستحکم رکھتی ہیں۔‘

مزید پڑھیں:

راجہ کامران کے مطابق اگر روپے کی قدر 250 روپے فی ڈالر تک آ جاتی ہے تو اس کے ملکی معیشت پر ہمہ جہتی اثرات مرتب ہوں گے۔

’روپے کی قدر میں اضافے سے درآمدات سستی ہو جائیں گی، جس سے درآمدی اشیا کی طلب بڑھے گی، تاہم اس کے برعکس برآمد کنندگان کو ڈالر کے عوض کم روپے ملیں گے، جس سے برآمدات کی حوصلہ شکنی ہوگی۔‘

راجہ کامران سمجھتے ہیں کہ روپے کی قدر میں بہتری کے نتیجے میں مہنگائی میں کمی اور بعض صورتوں میں ڈیفلیشن بھی ہو سکتی ہے۔

مزید پڑھیں:

مثال کے طور پر اگر ایک ڈالر میں خریدی جانے والی اشیا، جیسے پیٹرول، 280 روپے کے بجائے 250 روپے میں دستیاب ہوں تو درآمد کنندگان کو فائدہ ہوگا، تاہم مقامی صنعت اور مینوفیکچرنگ کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر روپے کو مصنوعی طور پر مضبوط کیا گیا تو درآمدات میں اضافہ جبکہ برآمدات میں کمی واقع ہو سکتی ہے، جس سے معیشت میں عدم توازن پیدا ہوگا اور مقامی طور پر تیار کردہ مصنوعات مہنگی جبکہ درآمدی اشیا نسبتاً سستی ہو جائیں گی۔

معاشی امور کے ماہر شہباز رانا نے ڈالر کے ممکنہ ریٹ سے متعلق زیرِ گردش خبروں کو قیاس آرائیاں قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس وقت مارکیٹ میں ڈالر کی موجودہ قیمت تقریباً 280 روپے کم تصور کی جا رہی ہے اور متعدد ماہرین کے نزدیک اس کی اصل مارکیٹ بیسڈ قیمت 4 سے 5 فیصد زیادہ ہونی چاہیے۔

مزید پڑھیں:

ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر قائم کیے گئے ایک ورکنگ گروپ اور پینل نے بھی یہی تجویز دی ہے کہ ڈالر کی قیمت کو مکمل طور پر مارکیٹ فورسز کے مطابق طے کیا جائے، نہ کہ کسی مصنوعی سطح پر رکھا جائے۔

شہباز رانا کے مطابق اس پینل نے اپنی سفارشات وزیراعظم کو پیش کر دی ہیں، جن میں ڈالر کو اس کی حقیقی مارکیٹ ویلیو کے مطابق ایڈجسٹ کرنے کی تجویز شامل ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ اس وقت ڈالر کو 250 روپے تک لانے یا اس سے نیچے جانے کی کوئی تجویز زیرِ غور نہیں اور نہ ہی حکومتی سطح پر اس حوالے سے کوئی فیصلہ جاری ہوا ہے۔

مزید پڑھیں:

ان کے مطابق ماضی میں اس طرح کی باتیں ضرور ہوتی رہی ہیں، تاہم موجودہ معاشی حالات میں حکومت کای توجہ کرنسی کو مارکیٹ بیسڈ اور مستحکم رکھنے پر مرکوز ہے، نہ کہ اسے مصنوعی طور پر مضبوط کرنے پر۔

شہباز رانا کا کہنا تھا کہ اگر ڈالر کی قیمت کو مارکیٹ فورسز کے برخلاف دبایا گیا تو اس سے نہ صرف برآمدات متاثر ہوں گی بلکہ درآمدات میں غیر ضروری اضافہ ہو سکتا ہے، جو تجارتی توازن کے لیے نقصان دہ ہوگا۔ ’اسی لیے پالیسی ساز اس وقت کرنسی مینجمنٹ میں محتاط حکمتِ عملی اپنانے کے حامی ہیں۔‘

معاشی ماہر عابد سلہری کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ڈالر کی قیمت میں نمایاں کمی کے لیے غیر ملکی زرِ مبادلہ کے ذخائر میں مضبوط اور پائیدار اضافہ ناگزیر ہے، جو اس وقت موجود نہیں۔

مزید پڑھیں:

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے موجودہ زرِ مبادلہ کے ذخائر بنیادی طور پر آئی ایم ایف پروگرام، قرضوں کے رول اوور اور مشرقِ وسطیٰ و چین سے حاصل ہونے والی مالی معاونت کی بدولت برقرار ہیں، نہ کہ برآمدات یا سرمایہ کاری سے حاصل ہونے والی مستحکم آمدن کے نتیجے میں۔ ایسی صورتحال میں روپے کے تیزی سے مضبوط ہونے کی گنجائش محدود ہے۔

عابد سلہری کے مطابق موجودہ حالات میں بہترین ممکنہ منظرنامہ یہی ہے کہ روپیہ اپنی موجودہ سطح پر مستحکم رہے، جیسا کہ اس وقت دکھائی دے رہا ہے۔

مزید پڑھیں:

تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر عالمی سطح پر کوئی جیو پولیٹیکل بحران پیدا ہوتا ہے یا تیل کی قیمتوں میں دوبارہ اضافہ ہو جاتا ہے، جس سے درآمدی دباؤ بڑھتا ہے، تو روپے پر دباؤ آ سکتا ہے اور اس کی قدر میں کمی کا امکان پیدا ہو سکتا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ موجودہ معاشی حالات میں روپے کے نمایاں طور پر مضبوط ہونے یا ڈالر کے مقابلے میں قدر بہتر ہونے کے آثار نظر نہیں آتے، البتہ منفی عالمی یا علاقائی عوامل کی صورت میں روپے کی قدر میں کمی کا خطرہ موجود ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ڈالر راجہ کامران روپیہ زر مبادلہ شہباز رانا عابد سلہری کرنسی معاشی ماہر ورکنگ گروپ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ڈالر راجہ کامران روپیہ زر مبادلہ عابد سلہری معاشی ماہر ورکنگ گروپ کہ روپے کی قدر میں کا کہنا تھا کہ راجہ کامران مزید پڑھیں کے مطابق انہوں نے ڈالر کی کی قیمت سکتا ہے سکتی ہے روپے کے ڈالر کے کے لیے کیا کہ

پڑھیں:

مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ

ایک نئی سائنسی تحقیق میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال یادداشت اور ذہنی صلاحیتوں میں تیزی سے آنے والی کمی سے تعلق رکھ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ اجزا چینی کے متبادل کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں، تاہم ان کے طویل المدتی اثرات دماغی صحت کے لیے تشویش کا باعث بن سکتے ہیں۔

یہ تحقیق امریکن اکیڈمی آف نیورولوجی کے جریدے نیورولوجی میں شائع ہوئی، جس میں تقریباً 13 ہزار بالغ افراد کی آٹھ برس تک نگرانی کی گئی۔ تحقیق کے دوران کم یا بغیر کیلوریز والی مٹھاس کے سات عام اجزا کا جائزہ لیا گیا، جن میں ایسپارٹیم، سیکرین، ایسی سلفیم کے، اریتھریٹول، زائیلیٹول، سوربیٹول اور ٹیگاٹوز شامل تھے۔

تحقیقی نتائج کے مطابق وہ افراد جو روزانہ اوسطاً 191 ملی گرام مصنوعی مٹھاس استعمال کرتے تھے، جو تقریباً ایک کین ڈائٹ سوڈا میں موجود ایسپارٹیم کے برابر مقدار ہے، ان میں کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں یادداشت اور ذہنی کارکردگی میں کمی کی رفتار 62 فیصد زیادہ دیکھی گئی۔

اسی طرح درمیانی مقدار میں مصنوعی مٹھاس استعمال کرنے والے افراد میں بھی ذہنی صلاحیتوں میں کمی کا خطرہ نمایاں رہا، جہاں یہ شرح کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں 35 فیصد زیادہ ریکارڈ کی گئی۔

محققین کے مطابق یہ تعلق 60 سال سے کم عمر افراد اور ذیابیطس کے مریضوں میں زیادہ نمایاں دیکھا گیا، کیونکہ یہ افراد عام چینی کے بجائے مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال کرتے ہیں۔

تحقیق میں شامل سات میٹھے اجزا میں سے صرف ٹیگاٹوز ایسا جز تھا جس کا ذہنی صلاحیتوں میں تیز رفتار کمی سے واضح تعلق سامنے نہیں آیا، جبکہ باقی چھ اجزا اس خطرے سے منسلک پائے گئے۔

تحقیق کی مرکزی مصنفہ، یونیورسٹی آف ساؤ پالو سے وابستہ ڈاکٹر کلاڈیا کیمی سوئیموتو نے کہا کہ مصنوعی مٹھاس کو عموماً صحت مند متبادل سمجھا جاتا ہے، لیکن تحقیق کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بعض مصنوعی میٹھے اجزا طویل عرصے تک استعمال کیے جانے کی صورت میں دماغی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔

یہ مصنوعی مٹھاس عام طور پر ڈائٹ سوڈا، فلیورڈ واٹر، انرجی ڈرنکس، دہی اور دیگر کم کیلوریز والی پراسیسڈ غذاؤں میں استعمال کی جاتی ہے۔

تاہم محققین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ ایک مشاہداتی تحقیق ہے، اس لیے اس سے یہ حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ مصنوعی مٹھاس ہی براہِ راست یادداشت میں کمی کی وجہ بنتی ہے۔ ان کے مطابق ان نتائج کی مزید تصدیق اور مختلف متبادل میٹھے اجزا کے اثرات جانچنے کے لیے مزید سائنسی تحقیق کی ضرورت ہے۔


 

متعلقہ مضامین

  • سونے کی قیمت میں نمایاں کمی،فی تولہ نئی قیمت جانئے
  • نئی امریکی ویزا پالیسی پاکستانی طلبہ کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے
  • بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
  • سونے کی قیمت میں اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے ہوگیا
  • لاہور میں موسلا دھار بارش، سڑکیں زیر آب، معمولات زندگی متاثر
  • میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
  • پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ