ملک بھر میں ڈیجیٹل تفریق کا خاتمہ کرینگے، وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
اسلام آباد (ارسلان لون )وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزہ فاطمہ خواجہ نے کہا ہے کہ حکومت ملک بھر میں ڈیجیٹل تفریق کو ختم کرنے اور دور دراز علاقوں کو تیز ترین انٹرنیٹ سے منسلک کرنے کیلئے ہمہ وقت کوشاں ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے وزارتِ آئی ٹی کے ذیلی ادارے یونیورسل سروس فنڈ اور جاز کے مابین براڈ بینڈ سروسز کے منصوبوں پر دستخط کی تقریب میں بطور مہمانِ خصوصی کیا۔تقریب میں یو ایس ایف کے چیف ایگزیکٹیو آفیسرچوہدری مدثر نوید اور جاز کے چیف ایگزیکٹیو عامر ابراہیم نے معاہدوں پر دستخط کیئے، جس کے تحت پنجاب اور خیبرپختونخوا کے 9 اضلاع میں ہائی اسپیڈ براڈ بینڈ کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔ چوہدری مدثر نوید نے یو ایس ایف کی کارکردگی کے حوالے سے تقریب کے شرکاء کو مفصل آگاہ کیا جبکہ عامر ابراہیم نے براڈ بینڈ سروسز کے پھیلاؤ کو وقت کی ضرورت قرار دیا۔وفاقی وزیر شزہ فاطمہ خواجہ نے بتایا کہ ایک ارب 16 کروڑ روپے کی لاگت سے 4 بڑے منصوبوں کا اجراء کیا جا رہا ہے۔ ان منصوبوں سے پنجاب کے اضلاع چنیوٹ، اٹک، سرگودھا، خوشاب، بہاولنگر، فیصل آباد، شیخوپورہ، حافظ آباد اور خیبرپختونخوا کے ضلع ایبٹ آباد سمیت 9 اضلاع مستفید ہوں گے۔ ان منصوبوں کے ذریعے 203 پسماندہ دیہاتوں ( موضع) کے تقریباً 5 لاکھ 33 ہزار افراد کو ہائی اسپیڈ کنیکٹیویٹی اور وائس سروسز میسر آئیں گی۔انہوں نے واضح کیا کہ یہ تمام منصوبے 6 سے 18 ماہ کی مختصر مدت میں مکمل کیے جائیں گے۔وفاقی وزیر آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن نے مزید کہا کہ کنیکٹیویٹی کے مسائل مستقل بنیادوں پر حل کرنے کے لیے اسپیکٹرم میں اضافہ اور فائیو جی (5G) سروسز کے آغاز کا عمل آخری مراحل میں ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ گزشتہ 6 ماہ کے دوران یو ایس ایف کے تحت 20 ارب 54 کروڑ روپے سے زائد کے نئے منصوبے منظور کیے گئے ہیں تاکہ ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو مزید مستحکم کیا جا سکے۔ جبکہ سندھ اور بلوچستان کیلئے بھی 6 منصوبے اس عمل کا حصہ ہیں اور جلد ہی ہم دیگر صوبوں میں بھی پراجیکٹس اجراء کی تقاریب کا انعقاد کریں گے۔شزہ فاطمہ خواجہ نے یو ایس ایف کی کارکردگی پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ ادارے نے اپنے قیام سے اب تک مجموعی طور پر 136 ارب 70 کروڑ روپے سے زائد کے منصوبے جاری کیے ہیں۔ ان میں 95 ارب 27 کروڑ روپے سے زائد کی لاگت کے براڈ بینڈ سروسز کے 107 منصوبے شامل ہیں، جن میں سے 94 منصوبے مکمل ہو چکے ہیں۔ ان کوششوں کے نتیجے میں پسماندہ اور دیہی علاقوں کے 3 کروڑ 94 لاکھ افراد ڈیجیٹل دنیا سے منسلک ہو چکے ہیں۔مزید برآں، 2 ہزار 585 کلومیٹر طویل موٹرویز اور نیشنل ہائی ویز پر کنیکٹیویٹی فراہم کی جا چکی ہے، جبکہ 41 ارب 43 کروڑ روپے کی لاگت سے 19 ہزار 169 کلومیٹر طویل آپٹیکل فائبر کیبل بچھانے کے 28 منصوبے شروع کیے گئے ہیں۔تقریب کے آخر میں وفاقی وزیر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت نجی شعبے کے اشتراک سے پاکستان کو ایک مکمل “ڈیجیٹل نیشن” بنانے کی جانب تیزی سے پیش قدمی جاری رکھے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: وفاقی وزیر یو ایس ایف براڈ بینڈ کروڑ روپے سروسز کے
پڑھیں:
حکومت کا چینی شہریوں کیلئے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
حکومتِ پاکستان نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کر لیا۔سرکاری دستاویزات کے مطابق 95.049 ملین روپے مالیت کی یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکرٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود، ماہرین اور دیگر اہم شخصیات کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کا کہنا ہے کہ چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ترجیح ہے، اسی مقصد کے تحت نئی بلٹ پروف گاڑی خریدی جا رہی ہے۔دستاویزات کے مطابق یہ گاڑی پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم دو ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنہیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی سکیورٹی کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا جن کی خریداری کا عمل جاری ہے۔سی پیک سیکرٹریٹ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث بروقت بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے۔دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ نجی مارکیٹ سے بلٹ پروف گاڑیاں کرائے پر حاصل کرنا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی مالی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔حکومت کو تین ٹویوٹا ڈیلرز کی جانب سے قیمتیں موصول ہوئیں، جن میں ٹویوٹا سینٹرل موٹرز نے 95.049 ملین روپے، ٹویوٹا پورٹ قاسم نے 95.25 ملین روپے اور ٹویوٹا سوسائٹی نے 95.45 ملین روپے کی پیشکش کی، حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔دستاویزات کے مطابق سی پیک سیکرٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ فنڈز دستیاب نہیں تھے، جس کے بعد وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا، تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث خریداری کا آرڈر جاری نہیں ہو سکا۔وزارت نے فنڈز کی فراہمی کے لیے مختلف منصوبوں سے رقم مختص کی، جن میں سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے ایک کروڑ 88 لاکھ روپے، وفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے، مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے ایک کروڑ 10 لاکھ روپے اور پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے ایک کروڑ 60 لاکھ روپے شامل ہیں، ان فنڈز میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص کیے گئے تھے۔