آیت اللہ خامنہ ای کو نشانہ بنایا تو اُن کی دنیا کو آگ لگا دیں گے؛ ایران
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
ایران نے ایک بار پھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو آیت اللہ خامنہ ای کو نشانہ بنانے کی دھمکی پر سخت الفاظ میں خبردار کیا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایرانی مسلح افواج کے ترجمان جنرل ابوالفضل شکارچی نے روحانی پیشوا آیت اللہ خامنہ ای کی حفاظت سے متعلق ایک سرکاری بیان جاری کیا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے خلاف کوئی بھی جارحانہ یا براہِ راست اقدام کے انتہائی سنگین اور دور رس نتائج سامنے آئیں گے۔
ایرانی مسلح افواج کے ترجمان نے مزید کہا کہ اگر ہمارے رہبر معظم کی جانب کسی نے ہاتھ بڑھایا تو ہم وہ ہاتھ کاٹ دیں گے اور ان کی دنیا کو آگ لگا دیں گے۔
انھوں نے مزید کہا کہ ایران اپنی قیادت اور خودمختاری کے دفاع کے لیے کسی بھی حد تک جانے سے گریز نہیں کرے گا۔
دوسری جانب ایرانی صدر نے بھی خبردار کیا ہے کہ سپریم لیڈر پر کسی بھی قسم کا حملہ مکمل جنگ کا باعث بن سکتا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ خطے میں کسی نئی محاذ آرائی کی ذمہ داری صرف اور صرف امریکا پر عائد ہوگی اور ایران بری الذمہ ہوگا۔
یا رہے کہ ایران کا یہ سخت ردعمل ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ انٹرویو میں آیت اللہ خامنہ ای پر تنقید کرتے ہوئے ایران میں نئی قیادت کی ضرورت پر بات کی تھی۔
ایران اور امریکا کے درمیان اس تازہ کشیدگی اس وقت شدت اختیار کرگئی جب ایران میں خراب معاشی حالات کے خلاف ملک گیر احتجاج جاری ہے۔
ایران ان پپرتشدد مظاہروں کے پیچھے امریکا کا ہاتھ سمجھتا ہے جب کی صدر ٹرمپ بھی دھمکی دے چکے ہیں اگر گرفتار مظاہرین کو پھانسی دی گئی تو وہ بڑا حملہ کردیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اللہ خامنہ ای
پڑھیں:
بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
امریکہ کی ریاست ایڈاہو کے ایک خاموش اور خوبصورت پہاڑی علاقے سن ویلی(Sun Valley) میں ہر سال جولائی کے مہینے میں ایک ایسی تقریب ہوتی ہے جہاں دنیا کے امیر ترین اور بااثر افراد اکٹھے ہوتے ہیں۔
اس خاص اور خفیہ محفل کو غیر رسمی طور پر ”ارب پتیوں کا سمر کیمپ“ کہا جاتا ہے۔ یہاں دنیا کے نامور اور طاقتور لوگ جیسے جیف بیزوس، مارک زکربرگ، بل گیٹس اور ایلن مسک بغیر کسی دکھاوے کے ایک ساتھ وقت گزارتے ہیں۔
یہ سلسلہ 1983 سے چلا آ رہا ہے جسے ایلن اینڈ کمپنی نامی ایک معاشی ادارہ منعقد کرواتا ہے۔ اس تقریب میں شامل ہونے کے لیے کوئی ٹکٹ نہیں خریدی جا سکتی اور نہ ہی انٹرنیٹ پر کوئی رجسٹریشن ہوتی ہے۔ یہاں صرف وہی لوگ آ سکتے ہیں جنہیں ذاتی طور پر دعوت نامہ بھیجا جاتا ہے۔ منتظمین کی طرف سے اس تقریب کی کوئی باقاعدہ مہمانوں کی فہرست یا شیڈول جاری نہیں کیا جاتا۔ اس سال یہ تقریب 7جولائی سے 11 جولائی 2026 تک منعقد ہوئی۔
اس کانفرنس کی سب سے بڑی بات یہ ہے کہ یہ روایتی دفتری میٹنگز کی طرح نہیں ہوتی۔ یہاں نہ طویل اجلاس ہوتے ہیں اور نہ ہی بڑی بڑی پریزنٹیشنز۔
امیر ترین شخصیات سوٹ بوٹ پہننے کے بجائے عام جوتوں اور آرام دہ کپڑوں میں نظر آتی ہیں۔ لوگ دن کے وقت پہاڑوں پر سیر کرتے ہیں، گولف کھیلتے ہیں، سائیکل چلاتے ہیں، مچھلی پکڑتے ہیں اور شام کو مل کر کھانا کھاتے ہیں۔
مزیدپڑھیں:عالمی منڈی میں سونے کی قیمت میں کمی
اس سال کی ملاقات میں جدید ترین ٹیکنالوجی اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس یعنی اے آئی کا موضوع سب سے زیادہ چھایا رہا۔ اس تقریب میں ٹیکنالوجی اور کاروبار کی دنیا کے کئی بڑے نام شامل ہوئے۔
اگرچہ اس کیمپ میں میڈیا اور کیمروں کی اجازت نہیں ہوتی اور نہ ہی کوئی بڑا باضابطہ اعلان کیا جاتا ہے، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا کے کئی بڑے کاروباری معاہدوں کی بنیاد اسی خاموش جگہ پر رکھی جاتی ہے جو بعد میں دنیا کے سامنے آتے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ بہت سے شرکا اپنے اہلِ خانہ کو بھی ساتھ لاتے ہیں، جس کی وجہ سے یہ تقریب ایک کاروباری اجلاس سے زیادہ ایک پُرتعیش خاندانی تعطیلات کا منظر پیش کرتی ہے۔ تاہم، اس کے باوجود دنیا بھر کی نظریں ہر سال اس خفیہ سمر کیمپ پر لگی رہتی ہیں، کیونکہ یہاں ہونے والی ملاقاتیں مستقبل کی عالمی معیشت اور ٹیکنالوجی کی سمت کا تعین بھی کر سکتی ہیں۔