data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

لاہور(نمائندہ جسارت)امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے بورڈ آف پیس میں پاکستان کی شمولیت کے حکومتی فیصلے کو مسترد کرتے ہیں۔ ٹرمپ کا بورڈ آف پیس نو آبادیاتی نظام کی نئی شکل ہے جس میں عراق کو تباہ کرنے والے ٹونی بلیئر جیسے مجرم موجود ہیں۔ سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس پر اظہار خیال کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ بورڈ آف پیس فلسطینیوں کے وسائل اور زمینوں پر قبضے کا نیا نظام ہے۔ تعمیر نو کے نام پر غزہ پر امریکی قبضہ ناقابل قبول ہے۔ پاکستانی وزارت خارجہ کا یہ موقف کہ پاکستان نے سلامتی کونسل کی قرارداد کے تحت غزہ امن منصوبے کی حمایت کا اعلان کیا حقائق کے برعکس ہے۔ خود ٹرمپ کہہ چکا ہے کہ اس کا بورڈ آف پیس ایک دن اقوام متحدہ کی جگہ لے سکتا ہے۔ ٹرمپ کے اس مؤقف کے بعد پاکستان کا بورڈ میں شمولیت کا کیا جواز؟ ہم ایک بار پھر بہت واضح انداز میں کہتے ہیں پاکستان کی فوج کسی صورت بھی غزہ نہیں جانی چاہیے۔

پشاور(نمائندہ جسارت)امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ پے درپے ملٹری آپریشنوں کے نتیجے میں خیبرپختونخوا اور اس کے ملحقہ قبائلی اضلاع کے محب وطن عوام کو بے گھرکرنے کا سلسلہ بند کیا جائے، بندوق اور طاقت کے ذریعے مسائل کا حل کبھی بھی دیرپا ثابت نہیں ہوسکتا، حکومت مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کرے، کسی بھی ملٹری آپریشن سے قبل سابق آپریشنوں کا جائزہ لیا جائے اور قوم کو بتایا جائے کہ ان آپریشنوں کے نتیجے میں کتنا امن قائم ہوا؟ جماعت اسلامی ملٹری آپریشن کے نتیجے میں پرامن عوام کو گھروں سے نکال کرذلیل کرنے کی کبھی حمایت نہیں کرے گی۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے صوبائی ہیڈکوارٹر مرکز اسلامی پشاور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان پروفیسرمحمد ابراہیم خان، امیر خیبرپختونخوا وسطی عبدالواسع، سابق رکن قومی اسمبلی اورصوبائی جنرل سیکرٹری صابرحسین اعوان بھی موجود تھے۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ مرکزی اورصوبائی حکومتوں کی ترجیحات میں عوام کو ریلیف کی فراہمی دور دور تک نظر نہیں آرہی ہے۔ شدید سردی میں ضلع تیراہ کے لاکھوں متاثرین کو بے گھرکرنے میں وفاقی و صوبائی حکومتیں برابر کی شریک ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے مشرف دور سے امریکا کی ایما پر ڈالروں کے لیے لوگوں کو ملٹری آپریشنوں کے ذریعے بے گھر کرنے کی جو پالیسی اختیار کی گئی تھی اس کے بعد آنے والی ہرحکومت اسی راستے پر گامزن رہی۔ مشرف کے بعد زرداری،نواز شریف،عمران خان اور اب شہباز شریف کی حکومت ایک دوسرے کا تسلسل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قبائلی علاقے قیام پاکستان سے لے کر مشرف دور تک محفوظ سمجھے جاتے تھے، لیکن پھر امریکی مفادات کی جنگ میں ہمارے حکمرانوں نے اس پرامن علاقوں کو بارودکے ڈھیر اور بدامنی کی آماجگاہ بنا دیا۔ انہوں کہا کہ ضلع تیراہ کی ڈھائی لاکھ آبادی کو بے گھرکیا جارہا ہے اور اس عمل میں مرکزی اور صوبائی حکومتیں ایک پیج پر ہیں۔ صوبے کے وزیراعلیٰ کا اپنا آبائی علاقہ تیراہ اس وقت ملٹری آپریشن کی زدمیں ہے اور وزیراعلیٰ صاحب اپنے لیڈر کی رہائی کے لیے پنجاب اور سندھ کے دورے کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں عوامی رائے کے برعکس حکومتوں کو مسلط کرنے کا سلسلہ جاری ہے جس کے نتیجے میں برسراقتدار حکمران خود کو عوام کے سامنے جواب دہ نہیں سمجھتے یہی وجہ ہے کہ ملک مسلسل عدم استحکام کا شکار ہے۔امیر جماعت اسلامی نے گزشتہ روز باجوڑ میں جماعت اسلامی کے رہنما مولانا وحید گل کے گھر کو دھماکے سے نقصان پہنچانے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ چند ماہ قبل حکومت باحوڑ میں ملٹری آپریشن کے ذریعے علاقے کوبدامنی سے پاک کرنے کے دعوے کررہی تھی۔ انھوں نے کہا کہ موجودہ مسائل اور مشکلات کو عوام کی رائے سے بننے والی حکومت ہی ختم کرسکتی ہے، لیکن یہاں عوامی رائے کو سبوتاژ کرنے کی شرمناک پالیسی رائج ہے۔ کراچی میں جماعت اسلامی نے میئر کا الیکشن واضح اکثریت سے جیتا، لیکن ہمارے مینڈیٹ پر ڈاکا ڈالا گیا اور کراچی پر پیپلز پارٹی کا قابض میئر مسلط کر دیا گیا، پیپلزپارٹی گزشتہ 40سال سے سندھ پر برسراقتدار ہے۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ متناسب نمائندگی کے ذریعے عوامی مینڈیٹ سے بننے والی حکومت ہی ملک کو حقیقی تبدیلی سے ہمکنار کرسکتی ہے۔

امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن مرکز اسلامی پشاور میں پریس کانفرنس سے خطاب کررہے ہیں

نمائندہ جسارت سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ملٹری ا پریشن کے نتیجے میں بورڈ ا ف پیس نے کہا کہ کے ذریعے کرنے کی

پڑھیں:

ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی

امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔

رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔

خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔

اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔

ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔

یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • فیفا ورلڈکپ: ٹرمپ کی مداخلت پر فیصلہ تبدیل، ناروے کا فیفا کیخلاف بڑا اقدام اٹھانے کا فیصلہ
  • مسجد اقصیٰ کی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش مسترد، 8 اسلامی ممالک کا اسرائیل کو فوری انتباہ
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل