اسلام آباد+ ڈیووس (خبر نگار خصوصی+ نوائے وقت رپورٹ) وزیراعظم شہبازشریف نے ڈیووس میں پاکستان پویلین میں تقریب سے خطاب میں کہا ہے کہ پاکستان الحمدللہ ! مشکل حالات سے باہر آ گیا ہے۔ ملک اقتصادی استحکام کی راہ پر گامزن ہے۔ پاکستان کو برآمدات پر ترقی کی راہ کو اپنانا ہو گا۔انہوںنے کہا معاشی اعشاریے بہتر بنانے کیلئے مشترکہ کوششیں جاری ہیں۔ پالیسی ریٹ 22.

5 سے کم ہوکر 10.5 فیصد ہوگیا ہے۔ وزیراعظم پاکستان نے کہا مہنگائی کی شرح 20فیصد سے کم ہوکر 5.5فیصد ہوگئی ہے۔ان دنوں آئی ایم ایف خاصی احتیاط کے ساتھ پاکستان کی کامیابی کو دیگر ممالک کیلئے ایک مثال کے طور پر پیش کر رہا ہے۔شہبازشریف نے کہا ہم ریونیو اکٹھا کرنے کیلئے نظام میں اصلاحات لا رہے ہیں۔ چین کے ساتھ ہمارے مضبوط معاشی روابط ہیں۔ ہم نے امریکی اور چینی کمپنیوں کے ساتھ معاہدے کیے اور مفاہمتی یاداشتوں پر دستخط کر رہے ہیں۔وزیراعظم پاکستان نے کہا پاکستان میں اب معدنیات کے شعبے میں بڑی سرمایہ کاری ہو رہی ہے۔ نوجوانوں کو ہُنر اور تربیت کی فراہمی کیلئے متعدد پروگرام شروع کیے ہیں۔ نوجوان خلیجی ممالک اور دنیا کے دیگر حصوں میں ملازمتوں کے لئے تیار ہیں، سال کی زرعی برآمدات اشیائی حوصلہ افزا تھیں۔ انسداد دہشتگردی میں بھی مختلف ملکوں کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں۔ پاکستان دہشتگردی کے خاتمے کیلئے اقدامات کر رہا ہے۔ پی آئی اے کی کامیابی سے نجکاری کی گئی۔ پوری قوم نے دیکھا نجکاری کے عمل میں لین دین بالکل شفاف تھا۔ شہبازشریف نے کہا اب ہم نجکاری کے دیگر اداروں میں بھی آگے بڑھ رہے ہیں جن میں ہوائی اڈوں کی آئوٹ سورسنگ‘ بجلی کے شعبے کی نجکاری، تقسیم کار کمپنیاں، ترسیلی لائنیں وغیرہ شامل ہے۔یوٹیلٹی سٹورز سے عام آدمی کو غیرمعیاری اشیاء فراہم کی جاتی تھیں اس لئے انہیں بند کردیا گیا۔مفادپرست عناصر کی جانب سے احتجاج کی صورت میں دبائو بھی آیا لیکن ہم ثابت قدم رہے کیونکہ اگر ہم یہ اقدامات نہ کرتے تو نہ اپنے ساتھ انصاف ہوتا اور نہ پاکستان کے عوام کے ساتھ انصاف ہوتا۔یہ تمام کامیابیاں مشترکہ ٹیم ورک سے حاصل ہوئی ہیں۔انہوں نے کہا پاکستان قدرتی وسائل سے مالا مال ہے۔ کان کنی اور معدنیات کے میدان میں کامیابی سے داخل ہو چکے ہیں۔ کرپٹو اے آئی اور آئی ٹی کے شعبے میں بھی تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ علاوہ ازیں ڈیووس میں وزیراعظم شہبازشریف نے عالمی اقتصادی فورم کے 56ویں سالانہ اجلاس کے موقع پر آج سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا سے ملاقات کی۔معاشی اشاریوں میں بہتری، استحکام کی کوششوں اور ادارہ جاتی اصلاحات پر پیش رفت سے آگاہ کیا۔ انہوں نے مالیاتی نظم و ضبط، محصولات کو متحرک کرنے اور پائیدار ترقی کے لئے پاکستان کے عزم پر زور دیا۔ ایم ڈی آئی ایم ایف نے پاکستان کی اصلاحاتی کوششوں کا اعتراف کیا اور ان کوششوں کی تعریف کی۔ انہوں نے طویل مدتی اقتصادی لچک کو یقینی بنانے کے لیے اصلاحات کی رفتار کو برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔ دونوں فریقین نے عالمی اقتصادی نقطہ نظر، ابھرتی ہوئی معیشتوں کو درپیش چیلنجز اور اقتصادی استحکام کے تحفظ میں کثیرالجہتی تعاون کی اہمیت پر تبادلہ خیال کیا۔ علاوہ ازیں ورلڈ اکنامک فورم کے موقع پر وزیراعظم شہیازشریف سے فلسطین کے وزیراعظم محمد مصطفی نے ملاقات کی۔ فلسطین کے وزیراعظم خود چل کر وزیراعظم شہبازشریف کے پاس آئے اور اپنا تعارف کرایا۔ مستقل، اصولی اور غیر متزلزل حمایت پر شہبازشریف کا دلی شکریہ ادا کیا۔ محمد مصطفی نے عالمی فورمز پر فلسطین کے مؤقف کی بھرپور حمایت اور فلسطینی کاز کے لئے پاکستان کے مؤثر کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ فلسطینی عوام کے حق میں آواز بلند کی ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: شہبازشریف نے کے ساتھ رہے ہیں

پڑھیں:

سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان

پاکستان نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی آئل ٹینکر پر حملے اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے اور سعودی عرب کی سلامتی و خودمختاری کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے بحرِ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔وزیراعظم نے حملے کو بزدلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں. یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں“۔وزیراعظم نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں خود، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت اور مملکت کے برادر عوام کے ساتھ مضبوطی اور عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ پاکستان مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور بحرِ احمر، آبنائے ہرمز اور خطے میں سمندری تجارت کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔گفتگو کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کی اس مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قائم قریبی برادرانہ تعلقات کی تعریف کی۔ اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نے خادمِ حرمین شریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے بھی نیک خواہشات اور خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔

دوسری جانب، دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”گزشتہ ہفتے بھی حوثیوں کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا. جس کی وزیراعظم پاکستان نے فوری مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا تھا“۔طاہر اندرابی نے کہا کہ ہمارے بحری جہازوں پر حملہ ریڈلائن ہوگی. ہم سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ تمام معاہدوں کی پاسداری کریں گے۔انہوں نے خبردار کیا کہ یمن کے مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی عرب پر ایسے حملے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، اس لیے پاکستان تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مسائل کا پرامن حل سفارتی راستے سے نکالنے کی اپیل کرتا ہے۔خطے میں امن قائم کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان نے اپنی سفارتی رفت و آمد میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ترجمان کے مطابق حال ہی میں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور وفاقی وزیر داخلہ سمیت اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں تاکہ علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔اس کے علاوہ پاکستان اور کویت کے وزرائے خارجہ کے درمیان رابطہ ہوا، جبکہ منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصر، عمان، فلپائن، روس اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ اہم ملاقاتیں کیں۔ان ملاقاتوں کی تفصیل بتاتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ”مصر کے وزیر خارجہ سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے تمام ممالک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے احترام پر زور دیا، جبکہ عمان کے وزیر خارجہ نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن و استحکام کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا“۔اس کے ساتھ ساتھ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان سے بھی باہمی تعلقات اور تعاون کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید بتایا کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اب شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک پہنچیں گے. جہاں ان کی کرغزستان کے صدر اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے بھی حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا ہے، جو گزشتہ بیس سالوں میں کسی کینیڈین وزیر خارجہ کا پہلا دورہ تھا  اور اس دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کے لیے اعلیٰ سطح پر بات چیت کی گئی۔

متعلقہ مضامین

  • پاک فوج کے چیف آف جنرل اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل عامر رضا کو فور اسٹار جنرل کے عہدے پر ترقی دیدی گئی
  • وزیراعظم نے لیفٹیننٹ جنرل عامر رضا کو فور اسٹار جنرل کے عہدے پر ترقی دیدی
  • وزیراعظم کا لیفٹیننٹ جنرل عامر رضا کو فور سٹار جنرل کے عہدے پر ترقی دینے، کمانڈر نیشنل سٹرٹیجک کمانڈ مقرر کرنے کا اعلان
  • لیفٹیننٹ جنرل عامر رضا کی فور اسٹار جنرل کے عہدے پر ترقی، کمانڈر نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ مقرر کردیا گیا
  • جنرل عامر رضا نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ کے نئے کمانڈر مقرر
  • لیفٹیننٹ جنرل عامر رضا کی فور سٹار جنرل کے عہدے پر ترقی  
  • عالمی منڈی میں سونے کی قیمت میں کمی
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت