مستقبل انتہائی پُرامید،ملکی ترقی کی راہیں روشن ہیں،وزیراعظم
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
اتحاد اور مشترکہ کوششوں کے ذریعے کامیابی حاصل ہو گی،پاکستان مشکلات سے باہر آ چکاہے
شہباز شریف کی ڈیوس میں پاکستان پویلین میں بریک فاسٹ میں شرکت،شرکاء سے خطاب
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ مستقبل انتہائی پُرامید،ملکی ترقی کی راہیں روشن ہیں، اتحاد اور مشترکہ کوششوں کے ذریعے ہی کامیابی حاصل ہو گی،پاکستان مشکلات سے باہر آ چکاہے،اقتصادی استحکام کی جانب گامزن ہے، شرح سود22۔5فیصد سے کم ہوکر10۔5فیصد ہوگئی، سماجی اشاریے بہتر بنانے کیلئے مشترکہ اور مسلسل کوششیں جاری ہیں۔وزیراعظم نے ڈیوس میں پاکستان پویلین میں بریک فاسٹ میں شرکت کی اور خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو برآمدات پر مبنی ترقی کی راہ اپنانا ہوگی، ملکی نظام میں بنیادی ڈھانچہ جاتی اصلاحات کی گئی ہیں، ریونیو کلیکشن سسٹم مکمل ڈیجیٹل کر دیا گیا، گزشتہ سال کی زرعی برآمدات انتہائی حوصلہ افزا رہیں، پاکستان میں اب معدنیات کے شعبے میں بڑی سرمایہ کاری ہو رہی ہے، گلگت بلتستان،آزاد کشمیر میں قدرتی وسائل کی بدولت ترقی کے مواقع کھلے، کیپی اور بلوچستان میں قدرتی وسائل کی بدولت ترقی کے نئے مواقع کھلے، آئی ٹی اور دیگر برآمدات میں حوصلہ افزا ترقی دیکھی گئی۔شہباز شریف نے کہا کہ آئی ٹی کی برآمدات بڑھانے کیلئے تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں، نوجوانوں کو ہنرمند اور تربیت کی فراہمی کیلئے متعدد پروگرام شروع کیے، نیوٹیک نوجوانوں کو عالمی معیار کے سرٹیفکیٹ کے ساتھ تربیت فراہم کر رہا ہے، نوجوان خلیجی ممالک اور دنیا کے دیگر حصوں میں ملازمتوں کیلئے تیار ہیں، انسداد دہشتگردی میں بھی مختلف ممالک کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں، پی آئی اے کی نجکاری مکمل شفافیت کے ساتھ کی گئی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں نجکاری کا عمل مکمل شفافیت سے عمل میں لایا جا رہا ہے، پی ڈبلیوڈی،پاسکو اور یوٹیلیٹی اسٹورز جیسے غیر مؤثر ادارے بند کیے گئے، غیر مؤثر اداروں میں قوم کے اربوں روپے ضائع ہو رہے تھے، اختلافات ہو سکتے ہیں،مشترکہ پروگرام کیلئے اتفاق سب سے اہم ہے، مستقبل انتہائی پُرامید،ملکی ترقی کی راہیں روشن ہیں، اتحاد اور مشترکہ کوششوں کے ذریعے ہی کامیابی حاصل ہو گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
پڑھیں:
ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
اسلام آباد:قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کا کہنا ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔
ایکسپریس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ بیس برس کے دوران ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر تفصیلی غور کیا گیا۔
جاوید حنیف خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔
اجلاس میں رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلو جلد خراب ہو جاتے ہیں انہیں برآمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ عالیہ کامران نے مزید کہا کہ ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی تو موجود ہے لیکن تاحال اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے جبکہ ایسا سازگار ماحول بھی پیدا نہیں ہو رہا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کریں۔
قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ کمپنی کا نام اسٹیٹ لائف انشورنس لمیٹڈ رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے استفسار کیا کہ آیا یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ لمیٹڈ ہوگی یا سرکاری ادارہ ہوگا اس پر حکام نے وضاحت کی کہ اگر حکومت کے پاس 51 فیصد شیئرز ہوں گے تو کمپنی پبلک شمار ہوگی، بصورت دیگر اسے پرائیویٹ تصور کیا جائے گا۔
سیکریٹری تجارت جواد پال نے مزید بتایا کہ کمپنی وزارت کے ماتحت ہی رہے گی تاہم اس کا بورڈ آزاد ہوگا اس پر کمیٹی کے ایک رکن نے رائے دی کہ اگر بورڈ کو آزاد بنانا مقصود ہے تو اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔
چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ یہ کمپنی بہرحال ایس او ایز ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔
سیکریٹری تجارت نے واضح کیا کہ کسی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے غیر محدود شیئرز نہیں ہو سکتے۔
اجلاس کے دوران صوبائی قوانین اور اثاثوں کی منتقلی کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ پراپرٹی یا اثاثوں کی منتقلی پر صوبائی قوانین نافذ ہوتے ہیں لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی قانون کو کیسے بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی یا متعلقہ فیسوں کے حوالے سے صوبے کسی بھی وقت سوال اٹھا سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں انشورنس کے تقریباً دو ٹریلین روپے کے اثاثے موجود ہیں اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے اثاثوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی مالیت کتنی ہوگی؟چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو صوبوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہو۔