کراچی: نالوں میں کچرا، ملبہ یا کسی بھی قسم کی چیز پھینکنے پر پابندی عائد
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
کراچی: شہر میں نالوں میں کچرا، ملبہ یا کسی بھی قسم کا فضلہ پھینکنے پر باضابطہ طور پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ اس حوالے سے کمشنر کراچی کی جانب سے نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے، جس کے تحت نالوں کو آلودہ کرنے والے عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ نالوں میں کچرا، تعمیراتی ملبہ یا کوئی اور چیز پھینکنا قانوناً ممنوع ہوگا۔ یہ پابندی دفعہ 144 کے تحت نافذ کی گئی ہے اور اس کا اطلاق دو ماہ کے لیے ہوگا۔ پابندی کا دورانیہ 22 جنوری سے شروع ہو کر 22 مارچ تک جاری رہے گا۔
حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد نالوں کی صفائی کو یقینی بنانا، نکاسیٔ آب کے نظام کو بہتر بنانا اور ممکنہ شہری مسائل، خصوصاً بارشوں کے دوران اربن فلڈنگ سے بچاؤ ہے۔ نوٹیفکیشن میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پابندی کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور ذمہ دار افراد کو قانون کے مطابق سزا دی جا سکتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
اسلان درانی : فیصل آباد میں حکومت اور پٹرول پمپ مالکان کے درمیان مذاکرات کامیاب نہ ہو سکے، جس کے بعد پٹرول پمپ مالکان نے ہڑتال کا اعلان کر دیا, ہڑتال کے باعث شہر میں متعدد پٹرول پمپس پر پٹرول کی فراہمی معطل ہو گئی، جس سے شہریوں کو ایندھن کے حصول میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
اطلاعات کے مطابق پاکستان اسٹیٹ آئل (PSO) اور گو (GO) کے چند پمپس کے علاوہ بیشتر مقامات پر پٹرول دستیاب نہیں، جبکہ کھلے پمپس پر بھی گاڑیوں کی لمبی قطاریں دیکھی جا رہی ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ پٹرول تک رسائی ان کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
شہریوں نے شکایت کی کہ پٹرول پہلے ہی مہنگا ہو چکا ہے اور اب اس کی عدم دستیابی نے مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ بعض شہریوں کا کہنا ہے کہ پٹرول پمپ مالکان سپلائی میں تعطل کو جواز بنا رہے ہیں، جس سے عام صارفین متاثر ہو رہے ہیں۔
شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ عوامی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری اقدامات کیے جائیں، پٹرول کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے اور حکومت و پٹرول پمپ مالکان کے درمیان پیدا ہونے والے تنازع کو جلد از جلد حل کیا جائے تاکہ معمولاتِ زندگی متاثر نہ ہوں۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ