سوئٹزرلینڈ میں وزیر اعظم شہبازشریف کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے کان میں سرگوشیاں توجہ کا مرکز بن گئیں
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
ڈیووس(ڈیلی پاکستان آن لائن)سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں وزیر اعظم شہبازشریف کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے کان میں سرگوشیاں توجہ کا مرکز بن گئیں۔جمعرات کو پاکستان سمیت مختلف ملکوں نے ڈیووس میں غزہ بورڈ آف پیس معاہدے پر دستخط کردیے۔
وزیراعظم شہبازشریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے بھی تقریب میں شرکت کی۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے پاکستان کی طرف سے معاہدے پر دستخط کیے۔اس موقع پر وزیراعظم کی امریکی صدر سے خوشگوار موڈ میں گفتگو ہوئی۔ وزیر اعظم شہبازشریف کی صدر ٹرمپ کے کان میں سرگوشیاں توجہ کا مرکز بن گئیں۔
پہلے ہی آئین و قانون پر عوام کا اعتماد کم ہوتا جا رہا ہے آپ مزید خرابی پیدا کر رہے ہیں:علامہ راجہ ناصر عباس
صدر ٹرمپ نے تقریب کے دوران فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا مسکراہٹ کے ساتھ خیرمقدم کیا۔پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت تقریب میں عالمی رہنماؤں کی توجہ کا مرکز بنی رہی۔اس موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ غزہ بورڈ آف پیس میں شمولیت پر تمام ممالک کا مشکور ہوں، بورڈ آف پیس پر اقوام متحدہ سمیت دیگر ممالک کے ساتھ کام جاری رکھوں گا۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: اعظم شہبازشریف توجہ کا مرکز امریکی صدر کی صدر
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔