اسلام آباد : ای سی او کی دسویں وزارتی کانفرنس کا انعقاد
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
سٹی 42 : اسلام آباد میں آج ای سی او کی دسویں وزارتی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔
سفارتی ذرائع کے مطابق دسویں اقتصادی تعاون تنظیم وزارتی کانفرنس اسلام آباد میں ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن سے متعلق منعقد کی گئی۔ ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن سے متعلق دسویں اقتصادی تعاون تنظیم وزارتی کانفرنس میں ای سی او سیکرٹری جنرل اسد مجید خان نے خصوصی شرکت کی۔
سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ دسویں اقتصادی تعاون تنظیم وزارتی کانفرنس کی قیادت این ڈی ایم اے نے کی۔ اجلاس میں ای سی او فریم ورک برائے ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن (ECORFDRR) کی تازہ ترین صورت پر بات چیت کی گئی۔ کانفرنس میں اسلام آباد اعلامیہ اور ای سی او کے نئے مجوزہ ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن منصوبوں کی منظوری بھی دی گئی، اس پیش رفت سے اس اہم شعبے میں علاقائی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی راہ ہموار ہوئی ہے۔
مسلسل تیزی کو بریک لگ گئی، سونے کی قیمتوں میں بڑی کمی
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: وزارتی کانفرنس اسلام آباد
پڑھیں:
کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔
7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔
نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاریترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔
شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔
متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔