برطانیہ کی وزیر خارجہ ایویٹ کوپر نے کہا ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے ممکنہ طور پر غزہ امن بورڈ میں شامل ہونے کے خدشات کے باعث برطانیہ ابھی تک امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بورڈ آف پیس میں دستخط نہیں کرے گا۔

یہ بھی پڑھیں: 8 عرب اسلامک ممالک کا غزہ بورڈ آف پیس میں شمولیت کی امریکی دعوت کا خیرمقدم، مشترکہ اعلامیہ جاری

برطانوی خبررساں ادارے کے مطابق ایویٹ کوپر کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بورڈ میں شامل ہونے کی دعوت ملی تھی لیکن وہ عالمی اقتصادی فورم ڈیوس میں ہونے والی تقریب میں دستخط نہیں کرے گا۔

ٹرمپ کے بورڈ آف پیس کو امریکی حکومت نے ایک نئے بین الاقوامی ادارے کے طور پر پیش کیا ہے جو تنازعات کے حل کے لیے کام کرے گا۔ تاہم کوپر نے اسے ایک قانونی معاہدہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے وسیع نوعیت کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں اور اس کا مقصد صرف غزہ کے اسرائیل حماس جنگ کا خاتمہ نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں: غزہ امن بورڈ میں شمولیت کے لیے ایک ارب ڈالر دینا ہوں گے، ٹرمپ انتظامیہ نے 60 ممالک کو چارٹر بھیج دیا

کئی روایتی اتحادی ممالک نے بھی بورڈ میں شمولیت نہیں کی اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مستقل رکن ممالک چین، فرانس، روس اور برطانیہ نے ابھی تک شرکت کا اعلان نہیں کیا۔

ڈیوس میں بورڈ کی تقریب میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ یہ اقوام متحدہ کا متبادل نہیں بلکہ عالمی امن کے لیے ایک اہم ادارہ بن سکتا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ روسی صدر پیوٹن نے اس میں شمولیت کی دعوت قبول کرلی ہے، تاہم پیوٹن نے ابھی تک اس کی تصدیق نہیں کی اور کہا ہے کہ وہ دعوت پر غور کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: سعودی کابینہ نے غزہ بورڈ آف پیس کی حمایت کردی، امن منصوبے کے دوسرے مرحلے کا خیرمقدم

برطانوی وزیرخارجہ کا کہنا ہے کہ برطانیہ ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے کی حمایت کرتا ہے اور فیز ٹو میں اپنا کردار ادا کرنا چاہتا ہے، لیکن پیوٹن کے امن کے عمل میں شامل ہونے کے بارے میں کوئی واضح اشارہ نہیں ملا۔

انہوں نے کہا کہ خاص طور پر یوکرین میں جاری جنگ کے پیش نظر برطانیہ یوکرین کا ایک مضبوط حامی رہا ہے اور روس کے ساتھ امن مذاکرات میں اس کی حمایت جاری ہے، جبکہ ڈیوس میں ڈونلڈ ٹرمپ اور یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی کے درمیان ملاقات متوقع ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news برطانیہ روس غزہ بورڈ آف پیس ولادیمیر پیوٹن.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: برطانیہ غزہ بورڈ ا ف پیس ولادیمیر پیوٹن میں شمولیت شامل ہونے کے لیے

پڑھیں:

ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا

سیالکوٹ(نیوز ڈیسک) ٹک ٹاکر حکیم بابر سے متعلق مبینہ زہر خوری کیس میں نامزد ملزم صفدر کے بھائی ملک سلیم کھوکھر کا ویڈیو بیان منظر عام پر آگیا جس میں انہوں نے تمام الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔

ویڈیو بیان میں ملک سلیم کھوکھر نے دعویٰ کیا کہ محمد افضل عرف حکیم بابر نے سوشل میڈیا پر ویوز حاصل کرنے کیلئے خود کو زہر خورانی کا شکار ظاہر کرنے کا ڈرامہ رچایا، اسپتال کی رپورٹ میں بھی یہ بات سامنے آئی ہے کہ حکیم بابر کو کسی قسم کا زہر نہیں دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ حکیم بابر نشے کے عادی ہیں اور کسی مبینہ اوور ڈوز کے واقعے کو ان کے خاندان پر ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے، ان کے خاندان کا حکیم بابر کے ساتھ کسی قسم کا کوئی ذاتی تنازع یا دشمنی موجود نہیں۔

ملک سلیم کھوکھر انکشاف کیا کہ حکیم بابر کا اصل نام افضل ہے اور وہ کوئی مستند حکیم نہیں بلکہ تعلیمی طور پر بھی میٹرک پاس نہیں ہیں، جھوٹے مقدمے کی وجہ سے میرا خاندان شدید ذہنی دباؤ اور پریشانی کا شکار ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ رات کے وقت پولیس کی جانب سے دو بار گھر پر چھاپے مارے گئے، کو ہراساں مت کیا جائے۔

انہوں نے ڈی پی او سیالکوٹ اور آئی جی پنجاب سے اپیل کی کہ کیس کی شفاف اور میرٹ پر انکوائری کی جائے اور حقائق کی روشنی میں فیصلہ کیا جائے۔

مزید پڑھیں۔مشرق وسطیٰ کی صورتحال، خام تیل کی قیمتوں میں 2 فیصد اضافہ

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • پہلی ہی گیند پر وکٹ: شاہین آفریدی پاکستان کے عظیم کپتانوں کی فہرست میں شامل
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • شانگلہ: مکان کی چھت گرگئی، 6بچے جاں بحق
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا