کراچی:

ایم جناح روڈ پر واقع گل پلازہ پر آتشزدگی کے چھٹے روزہ بھی ریکوری اینڈ سرچ آپریشن جاری ہے اور اس دوران مزید 2 افراد کی باقیات برآمد کرلی گئی ہیں۔

ریسکیو حکام نے بتایا کہ گل پلازہ میں تلاش کا عمل کا جاری ہے جو ایسوسی ایشن کی مدد سے کی جا رہی ہے اور کہا گیا کہ تلاش کا عمل جلد مکمل کرلیا جائے گا۔

حکام کے مطابق مزید دو افراد کی باقیات ملنے کے بعد سانحے میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 62 ہوگئی ہے تاہم مزید تلاش ابھی جاری ہے۔

ریسکیو نے مزید بتایا کہ پلازہ کی چھت سے 61 میں سے 16 موٹرسائکلیں اتار لی گئی ہیں اور ملبہ ہٹانے کا کام بھی جاری اور اسی دوران مزید باقیات ملی ہیں، ملنے والی باقیات کو قانونی کارروائی کے لیے سول اسپتال منتقل کیا جا رہا ہے۔

سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی پلازہ منہدم کرنے کی شفارش

سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی اور پاکستان انجینئرنگ کونسل نے گل پلازہ کا دورہ کیا اور ٹینینکل کمیٹی نے گل پلازہ کو مخدوش قرار دے دیا اور سفارش کی کہ گل پلازہ کو ریسکیو آپریش کے بعد منہدم کیا جائے۔

مزید پڑھیں

سانحہ گل پلازہ؛ ملبے سے مزید ایک لاش برآمد، اموات کی تعداد 29 تک پہنچ گئی

گل پلازہ کا 40 فیصد حصہ منہدم، شاپنگ کیلئے مشہور عمارت کی دردناک کہانی

سانحہ گل پلازہ میں جاں بحق 26 افراد میں سے 13 لاشوں کی شناخت ہوگئی، 1 لاپتہ فہرست میں شامل تھا

سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارتی نے بتایا کہ گل پلازہ 8124 گز اور 1102 دکانوں پر مشتمل ہے، گل پلازہ میں ہفتے کی شب آگ لگنے کے بعد پورا پلازہ جل گیا تھا، گل پلازہ سے متصل پلازوں کا بھی معائنہ کیا گیا ہے۔

میئر کراچی کی متاثرین کے گھر آمد

میئر کراچی مرتضیٰ وہاب سانحہ گل پلازہ کے متاثرین رحمان، حسام اور سرفراز کے گھر پہنچے اور اہل خانہ سے ہمدردی کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا کہ انسانی جان کا کوئی نعم البدل نہیں، متاثرین کی مکمل بحالی تک سکون سے نہیں بیٹھیں گے۔

میئر کراچی نے متاثرہ خاندان کے کاروبار کی بحالی کا اعلان بھی کیا اور کہا کہ حکومت سندھ متاثرین کی مکمل بحالی تک چین سے نہیں بیٹھے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ بلدیہ عظمیٰ کراچی کے ریسکیو اہلکار تاحال ریسکیو آپریشن میں مصروف ہیں، ہماری کوشش ہے کہ متاثرین کے پیاروں کو جلد از جلد ان کے اہل خانہ کے حوالے کیا جائے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: سانحہ گل پلازہ افراد کی

پڑھیں:

کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا

کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا۔

اتوار کو دھابیجی پمپنگ اسٹیشن پر کے الیکٹرک کے جبری شٹ ڈاؤن سے کراچی کو پانی کی فراہمی معطل ہوئی جبکہ پیر کو کے الیکٹرک کی مین کیبل میں فالٹ کے باعث حب پمپنگ اسٹیشن کی بجلی معطل ہونے سے پانی کی فراہمی مزید کم ہوگئی۔

موجودہ صورتحال میں بوند بوند کو ترستے شہری ٹینکرز مافیا کے ہاتھوں مہنگا پانی خریدنے پر مجبور ہیں۔

کراچی واٹر کارپوریشن کے ترجمان کا کہنا ہے کہ حب سے کراچی کو یومیہ 85 ملین گیلن پانی کی فراہمی متاثر ہے۔

دوسری جانب کے الیکٹرک کے ترجمان مطابق حب پمپنگ اسٹیشن پر بجلی کی فراہمی متبادل ذرائع سے جاری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں گیس سلینڈر دھماکے سے تباہی، 1 جاں بحق
  • مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
  • لاہور بلدیاتی الیکشن، 159 یوسیز کا اضافہ، مجموعی تعداد 433 ہوگئی
  • خیبرپختونخوا میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش، مختلف واقعات میں 20 سے زیادہ افراد زخمی
  • سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
  • اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
  • سوات: گھر کی چھت اور ہوٹل کا کمرہ گرنے سے بچیوں سمیت 3 افراد جاں بحق
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا
  • کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ کی تلاش جاری، بھارتی سرپرستی اور اور ریاست مخالف پروپیگنڈے کے شواہد برآمد
  • واشنگٹن میں کیمیائی ٹینک دھماکہ: ہلاکتوں کی تعداد 11 ہوگئی، تمام لاپتا افراد کی لاشیں برآمد