ایم کیو ایم کا کراچی کو وفاق کا حصہ بنانے، 18ویں ترمیم ختم کرنے کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
ایم کیو ایم کا کراچی کو وفاق کا حصہ بنانے، 18ویں ترمیم ختم کرنے کا مطالبہ WhatsAppFacebookTwitter 0 22 January, 2026 سب نیوز
کراچی (سب نیوز)متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما و وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال نے سانحہ گل پلازہ کے بعد کراچی کو وفاق کا حصہ بنانے اور اٹھارویں ترمیم کے خاتمے کا مطالبہ کر دیا ہے۔
کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ریاست نے کراچی کو کس کے حوالے کر رکھا ہے، پورا شہر سوال کر رہا ہے کہ آخر کچھ کیوں نہیں کیا جا رہا، کراچی کے عوام ریاست کی طرف دیکھ رہے ہیں کہ وہ آگے بڑھ کر ان کی بات سنے، کراچی کے عوام کی نسل کشی کی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ جب سندھ حکومت سے شکایت کی جاتی ہے تو ایم کیو ایم پر بلدیہ فیکٹری، بھتہ خوری اور بوری بند لاشوں کے الزامات لگا دیے جاتے ہیں، حالانکہ ان جرائم سے ایم کیو ایم کا کوئی تعلق نہیں۔ مصطفی کمال نے کہا کہ پیپلزپارٹی کی ناراضگی کی وجہ سے وزیراعظم چاہتے ہوئے بھی کچھ چیزیں نہیں کرسکتے، بینظیر بھٹو کی شہادت پر شہر کو آگ بھی ایم کیو ایم نے لگائی؟ 2008کی حکومت میں سارے کیسز ایم کیو ایم نے ختم کیے؟ آپ 18سال سے صوبے میں ہیں تو ہمیں پھانسی پر کیوں نہیں لٹکاتے؟۔انہوں نے کہا کہ سارے کام ایم کیو ایم نے کیے ہیں تو ہمیں پھر پھانسی پرلٹکا، جو غلط عمارتیں ہم نے بنائیں کیا 18سال میں ان کو کسی نے روکا؟ آپ بلدیہ فیکٹری اوربوری بند لاشوں کی بات کرتے ہیں، اسی دور میں آپ کی پارٹی کے صدر ایم کیو ایم کی درگاہ پر آتے تھے۔
انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ حکومت کو چلانے کے لیے پیپلز پارٹی کو کھلی چھوٹ دی گئی ہے، جس کے باعث نظام درہم برہم ہو چکا ہے، اگر نظام کو بچانے کے لیے کراچی کو قربانیاں دینی پڑیں گی تو ریاست واضح طور پر بتا دے کہ مزید کتنی جانیں درکار ہیں، کراچی کو بھٹو کے دیے گئے آئین کے مطابق ملک کا فنانشل کیپیٹل بنایا جائے اور اسے وفاق کے تحت لیا جائے، کیونکہ موجودہ نظام میں یہ لوگ ٹھیک ہونے والے نہیں۔انہوں نے الزام لگایا کہ اٹھارویں ترمیم کے ذریعے کراچی کے عوام کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے اور یہ ترمیم ملک کے لیے ناسور بن چکی ہے، اٹھارویں ترمیم کوئی مقدس شق نہیں، پاکستان کو بچانے کے لیے اسے واپس لینا ہوگا، انہوں نے آرٹیکل 148 اور 149 کے تحت وفاقی مداخلت کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایم کیو ایم صوبے میں اقلیت میں بھی رہے تو کیا شہریوں کو پانی، سڑکیں اور بنیادی سہولیات نہیں دی جائیں گی؟۔انہوں نے پیپلز پارٹی پر الزام عائد کیا کہ ایم کیو ایم کی جانب سے وزیراعظم سے فنڈز حاصل کرنے پر وزیراعلی سندھ انہیں رکوا دیتے ہیں، یہ جمہوری دہشت گردی ہے جسے سندھ میں فوری طور پر ختم ہونا چاہئے، امید ہے کہ حکومتِ پاکستان اور ریاستِ پاکستان بات سنیں گے اور کراچی کے عوام کو انصاف فراہم کیا جائے گا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرگرین لینڈ ہمارا مسئلہ نہیں، امریکا اور ڈنمارک خود نمٹ لیں، پیوٹن گرین لینڈ ہمارا مسئلہ نہیں، امریکا اور ڈنمارک خود نمٹ لیں، پیوٹن برطرف اور ڈیلی ویجر ملازمین سے متعلق سفارشات پر عمل درآمد روکنے کا فیصلہ برقرار اگر مقامی حکومتیں نہیں ہوتیں تو صوبائی حکومت کے ہونے کا بھی کوئی جواز نہیں، چیف الیکشن کمشنر وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی بل گیٹس سے ملاقات، تعاون مضبوط بنانے پر اتفاق سی ڈی اے میں اکھاڑ پچھاڑ ، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر آئی سی ٹی صاحبزادہ محمد یوسف ڈائریکٹر سالڈ ویسٹ مینجمنٹ تعینات زراعت اور لائیو اسٹاک کی بہتری کیلئے پاکستان کا آسٹریلوی مہارت سے استفادے کا عزمCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: کراچی کے عوام ایم کیو ایم کا مطالبہ نے کہا کہ انہوں نے کراچی کو ایم کی کے لیے
پڑھیں:
کراچی، رینجرز اور ایس آئی یولیس کے ساتھ مقابلے میں 3 بھتہ خور ہلاک، ایک زخمی گرفتار
کراچی:ملیر 15 کے علاقے میں سندھ رینجرز اور اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ (ایس آئی یو) پولیس کے مشترکہ آپریشن کے دوران مبینہ مقابلے میں تین ملزمان ہلاک جبکہ ایک زخمی حالت میں گرفتار کر لیا گیا۔
چھیپا حکام کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں اور مبینہ بھتہ خوروں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ تقریباً آدھے گھنٹے تک جاری رہا جس کے بعد تین ملزمان مارے گئے جبکہ ایک زخمی حالت میں گرفتار ہوا۔
فائرنگ ختم ہونے کے بعد ہلاک اور زخمی ملزمان کو ریسکیو کی ایمبولینسوں کے ذریعے جناح اسپتال منتقل کیا گیا۔
حکام کے مطابق ہلاک ہونے والے ملزمان کی شناخت شاہ رخ، راحب اور علی حمزہ کے ناموں سے ہوئی ہے جبکہ زخمی حالت میں گرفتار ملزم کی شناخت محمد وسیم کے نام سے کی گئی ہے۔
ابتدائی معلومات کے مطابق ہلاک اور گرفتار ملزمان بھتہ خوری سمیت دیگر سنگین جرائم میں ملوث تھے۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے واقعے کی مزید تفتیش کر رہے ہیں اور ملزمان کے ممکنہ ساتھیوں کی تلاش بھی جاری ہے۔