کانگریس لیڈر نے کہا کہ قواعد و ضوابط میں موجود خامیوں کو دور کرنے کے بجائے بی جے پی حکومت نے ادارے کو مکمل طور پر بند کر دیا، جس سے عوام کو شدید نقصان پہنچا اور تقریباً 300 ملازمین کا مستقبل تاریکی میں ڈال دیا گیا۔ اسلام ٹائمز۔ کانگریس پارٹی نے جموں و کشمیر کو مکمل ریاستی درجہ کی بحالی کی جاری تحریک کو کمزور کرنے کے لئے بعض عناصر کی جانب سے لگائے جانے والے تقسیم پسند نعروں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خطے کی جغرافیائی شناخت اتحاد اور سالمیت کو برقرار رکھتے ہوئے جلد از جلد مکمل ریاستی درجہ بحال کرنے کے مطالبے کو دہرایا ہے۔ جموں میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے ورکنگ صدر رمن بھلہ اور چیف ترجمان رویندر شرما نے کہا کہ کانگریس جموں و کشمیر کے تمام خطوں کی وحدت سالمیت اور علاقائی شناخت کی حامی ہے اور مکمل ریاستی درجہ کی بحالی کے لئے مسلسل جدوجہد کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فرقہ وارانہ اور تقسیم پسند پالیسیوں کے ذریعے ریاستی درجہ بحالی کی تحریک کو کمزور کرنے کی کوششیں ناقابل قبول ہیں۔

رمن بھلہ نے بی جے پی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے سوال اٹھایا کہ جموں و کشمیر سے تعلق رکھنے والے 29 ارکانِ اسمبلی اور اراکینِ پارلیمنٹ مکمل ریاستی درجہ کے معاملے پر مکمل خاموشی کیوں اختیار کئے ہوئے ہیں، حالانکہ انہیں عوام نے بڑی اکثریت کے ساتھ منتخب کیا ہے، تاکہ وہ جموں و کشمیر بالخصوص جموں خطے کے عوام کے حقوق کے لئے آواز اٹھائیں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے اقدامات جموں خطے کے مفادات کے خلاف ہیں۔

ورکنگ صدر نے کروڑوں روپے کی سرمایہ کاری کے باوجود سیشن کے آغاز کے فوراً بعد ایس ایم یو ڈی آئی ایم ای جیسے اہم تعلیمی ادارے کی بندش کو نوجوانوں اور جموں کی عوام کے لئے ایک اور "تحفہ" قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ قواعد و ضوابط میں موجود خامیوں کو دور کرنے کے بجائے بی جے پی حکومت نے ادارے کو مکمل طور پر بند کر دیا، جس سے عوام کو شدید نقصان پہنچا اور تقریباً 300 ملازمین کا مستقبل تاریکی میں ڈال دیا گیا۔ کانگریس نے مطالبہ کیا کہ ضروری اصلاحات کرکے فوری طور پر کالج کو دوبارہ شروع کیا جائے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: مکمل ریاستی درجہ نے کہا کہ بی جے پی کرنے کے کے لئے

پڑھیں:

پی ٹی آئی کے علاوہ سب کو انتخابی مہم کی اجازت ہے، شفیع جان

تحریک انصاف کے رہنما شفیع جان نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان میں پی ٹی آئی کے علاوہ باقی تمام جماعتوں کو انتخابی مہم چلانے کی اجازت ہے، نواز شریف اور بلاول بھٹو زرداری بھی کیمپین کر رہے ہیں۔

ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ اگر تحریک انصاف کا کوئی وزیر وہاں ہوتا تو الیکشن کمیشن حرکت میں آچکا ہوتا۔ الیکشن کمیشن کی یہ خاموشی ہمیں سمجھ نہیں آرہی۔

شفیع جان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نے گلگت بلتستان ڈیموکریٹک موومنٹ سے الحاق کیا تو اُس کو بھی کینسل کر دیا گیا اور ہمارے اُمیدواروں کو آزاد ڈیکلیئر کر دیا گیا ۔

انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام فیصلہ کر چکے ہیں، 7 جون کو تحریک انصاف کامیاب ہو گی۔ ہم اپنے ووٹ کو محفوظ بنانے کے مکینزم پر کام کر رہے ہیں۔

پی ٹی آئی رہنما کا کہنا تھا کہ فارم 47 کی ایک اور واردات کی تیاری کی جارہی ہے وہ ہم کرنے نہیں دیں گے۔ اس کے خلاف ہمیں اگر گلگت بلتستا ن بند کرنا پڑا تو یہ بھی کریں گے۔

متعلقہ مضامین

  • پی ٹی آئی کے علاوہ سب کو انتخابی مہم کی اجازت ہے، شفیع جان
  • بابوسر ٹاپ 8 جون تک ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بند
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان