جموں و کشمیر کے ریاستی درجہ بحالی کی تحریک کو کمزور کرنے کی کوششیں ناقابل قبول، کانگریس
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
کانگریس لیڈر نے کہا کہ قواعد و ضوابط میں موجود خامیوں کو دور کرنے کے بجائے بی جے پی حکومت نے ادارے کو مکمل طور پر بند کر دیا، جس سے عوام کو شدید نقصان پہنچا اور تقریباً 300 ملازمین کا مستقبل تاریکی میں ڈال دیا گیا۔ اسلام ٹائمز۔ کانگریس پارٹی نے جموں و کشمیر کو مکمل ریاستی درجہ کی بحالی کی جاری تحریک کو کمزور کرنے کے لئے بعض عناصر کی جانب سے لگائے جانے والے تقسیم پسند نعروں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خطے کی جغرافیائی شناخت اتحاد اور سالمیت کو برقرار رکھتے ہوئے جلد از جلد مکمل ریاستی درجہ بحال کرنے کے مطالبے کو دہرایا ہے۔ جموں میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے ورکنگ صدر رمن بھلہ اور چیف ترجمان رویندر شرما نے کہا کہ کانگریس جموں و کشمیر کے تمام خطوں کی وحدت سالمیت اور علاقائی شناخت کی حامی ہے اور مکمل ریاستی درجہ کی بحالی کے لئے مسلسل جدوجہد کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فرقہ وارانہ اور تقسیم پسند پالیسیوں کے ذریعے ریاستی درجہ بحالی کی تحریک کو کمزور کرنے کی کوششیں ناقابل قبول ہیں۔
رمن بھلہ نے بی جے پی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے سوال اٹھایا کہ جموں و کشمیر سے تعلق رکھنے والے 29 ارکانِ اسمبلی اور اراکینِ پارلیمنٹ مکمل ریاستی درجہ کے معاملے پر مکمل خاموشی کیوں اختیار کئے ہوئے ہیں، حالانکہ انہیں عوام نے بڑی اکثریت کے ساتھ منتخب کیا ہے، تاکہ وہ جموں و کشمیر بالخصوص جموں خطے کے عوام کے حقوق کے لئے آواز اٹھائیں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے اقدامات جموں خطے کے مفادات کے خلاف ہیں۔
ورکنگ صدر نے کروڑوں روپے کی سرمایہ کاری کے باوجود سیشن کے آغاز کے فوراً بعد ایس ایم یو ڈی آئی ایم ای جیسے اہم تعلیمی ادارے کی بندش کو نوجوانوں اور جموں کی عوام کے لئے ایک اور "تحفہ" قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ قواعد و ضوابط میں موجود خامیوں کو دور کرنے کے بجائے بی جے پی حکومت نے ادارے کو مکمل طور پر بند کر دیا، جس سے عوام کو شدید نقصان پہنچا اور تقریباً 300 ملازمین کا مستقبل تاریکی میں ڈال دیا گیا۔ کانگریس نے مطالبہ کیا کہ ضروری اصلاحات کرکے فوری طور پر کالج کو دوبارہ شروع کیا جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: مکمل ریاستی درجہ نے کہا کہ بی جے پی کرنے کے کے لئے
پڑھیں:
5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: 5 اگست کے احتجاج پر پی ٹی آئی کی واضح حکمت عملی اب تک سامنے نہ آسکی
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔
بڑی احتجاجی کال پر تحفظاتپارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔
ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔
مزید پڑھیے: اڈیالہ جیل کے باہر ہنگامہ آرائی، پی ٹی آئی میں انتشار کھل کر سامنے آگیا، جماعت کے سیاسی کلچر پر سنگین سوالات
پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔
9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکاپارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔
26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔
مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کا علیمہ خان اور بشریٰ بی بی کو ایکسپوز کرنے کا فیصلہ، اقبال آفریدی سے عہدہ واپس
اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔
عمران خان کی قید کو 3 سال مکملعمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔
پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔
5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے بڑھتے اندرونی اختلافات سے پشاور کے عوام پریشان
ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اڈیالہ جیل بشریٰ بی بی پاکستان تحریک انصاف پی ٹی آئی پی ٹی آئی کا 5 اگست کو احتجاج علی امین گنڈاپور عمران خان کے قید میں 3 برس