خیبرپختونخوا میں صوبائی حکومت کی اجازت کے بغیر فوجی آپریشنز مسلط کیے جا رہے ہیں، وزیراعلی سہیل آفریدی
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
خیبرپختونخوا میں صوبائی حکومت کی اجازت کے بغیر فوجی آپریشنز مسلط کیے جا رہے ہیں، وزیراعلی سہیل آفریدی WhatsAppFacebookTwitter 0 22 January, 2026 سب نیوز
پشاور(آئی پی ایس )خیبرپختونخوا کے وزیراعلی محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت اور اسمبلی کی اجازت کے بغیر خیبرپختونخوا میں ملٹری آپریشنز مسلط کیے جارہے ہیں اور وفاق متاثرین کی اعلان کردہ مالی تعاون بھی نہیں کر رہا ہے۔وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے صوبائی کابینہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت عمران خان اور بشری بی بی کو تنہائی میں رکھنے اور ملاقاتوں سے روکنے کی شدید مذمت کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ عمران خان کو 90 دن سے زائد تنہائی میں رکھا جا رہا ہے، فیملی اور دوستوں سے ملاقات نہیں کروائی جا رہی ہے، بشری بی بی کو بھی تنہائی میں رکھا گیا ہے اور ان کی فیملی سے ملاقات کی اجازت نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ عمران خان اور بشری بی بی کو سردی کا سامان فراہم نہ کرنا ظلم ہے، جعلی حکومت آمریت کے تمام ریکارڈ توڑ رہی ہے۔سہیل آفریدی نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے ساتھ امتیازی اور سوتیلی ماں جیسا سلوک ہو رہا ہے، ایکشن ان ایڈ آف سول پاور واپس لینے کا فیصلہ ہو چکا ہے، وفاق کی جانب سے دہشت گردوں کی حراستی مراکز کی تفصیلات نہ ملنے کے باعث واپس لینے کے عمل میں تاخیر ہو رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ دہشت گرد قیدیوں کی تفصیلات نہ ملنے پر ایکشن ان ایڈ آف سول پاور واپسی سے سیکیورٹی خدشات پیدا ہو سکتے ہیں۔ وزیراعلی خیبرپختونخوا نے کہا کہ وفاق کی جانب سے انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت سیاسی جماعتوں کو کالعدم قرار دینا غلط ہے اور شیڈول فور میں شامل سیاسی کارکنان کی فہرست ری وزٹ کر کے ریلیف دینے کی ہدایت کردی۔ان کا کہنا تھا کہ وفاق کی جانب سے نادرن بائی پاس منصوبہ 2010 سے تاخیر کا شکار ہے، لاگت 3 ارب سے 31 ارب روپے تک پہنچ گئی ہے، صوبائی حکومت نے 5 ارب روپے دے کر منصوبہ تیز کیا۔
انہوں نے کہا کہ 8 فروری انتخابات میں مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کے لیے صوبائی اسمبلی میں اسپیشل کمیٹی قائم کر رہے ہیں، صوبائی ملازمین کو طلب کر کے انتخابی دھاندلی پر پوچھ گچھ کی جائے گی۔ان کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی فورسز ہمارے محافظ ہیں، گلہ اپنوں سے ہوتا ہے، ایک طرف سے دہشت گرد مارتے ہیں تو دوسری طرف سے کولیٹرل ڈیمیج میں سویلین شہادتیں ہوتی ہیں، ڈرون اور فضائی حملوں میں شہریوں کی شہادتوں پر قانون سازی کی ضرورت ہے۔سہیل آفریدی نے کہا کہ وفاق ٹی ڈی پیز کے لیے وعدہ شدہ فنڈز نہیں دے رہا، صوبائی حکومت اب تک 7.
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرورلڈ اکنامک فورم،وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر عالمی رہنماوں کی توجہ کا مرکز بن گئے ورلڈ اکنامک فورم،وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر عالمی رہنماوں کی توجہ کا مرکز بن گئے امریکی آزادی کو منانے کے لیے ناظم الامور نیٹلی بیکر نے لبرٹی بیل مہم کا افتتاح کردیا پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس، پیپلزپارٹی قانون سازی میں حکومت سے تعاون پر تیار اگر پی ٹی آئی 8فروری کو لوگ نہ نکال سکی تو 6 مہینے پیچھے چلی جائے گی، شیر افضل مروت پرتشدد مظاہروں کے دوران 3117افراد ہلاک ہوئے، ایران نے حیران کن اعدادوشمار جاری کردیئے پنجاب پولیس نے سی سی ڈی پر جعلی پولیس مقابلوں کے تمام الزامات مسترد کردیےCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: ان کا کہنا تھا کہ کی اجازت کے بغیر انہوں نے کہا کہ سہیل آفریدی نے خیبر پختونخوا پختونخوا میں صوبائی حکومت مسلط کیے جا ارب روپے رہے ہیں رہا ہے کے لیے
پڑھیں:
حکومت کاچینی شہریوں کیلئے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)حکومتِ پاکستان نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کر لیا۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق سرکاری دستاویزات کے مطابق 95.049 ملین روپے مالیت کی یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکرٹریٹ کے استعمال کیلئےحاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود، ماہرین اور دیگر اہم شخصیات کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کا کہنا ہے کہ چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ترجیح ہے، اسی مقصد کے تحت نئی بلٹ پروف گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سٹاک مارکیٹ میں مندی، انڈیکس ایک لاکھ 70 ہزار پوائنٹس کی حد کھو بیٹھا
دستاویزات کے مطابق یہ گاڑی پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم دو ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنہیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی سکیورٹی کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا جن کی خریداری کا عمل جاری ہے۔
سی پیک سیکرٹریٹ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث بروقت بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے۔
دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ نجی مارکیٹ سے بلٹ پروف گاڑیاں کرائے پر حاصل کرنا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی مالی بوجھ پڑتا ہے۔
ٹرمپ کو بغیر سوچے سمجھے جارحیت کی قیمت چکانا پڑے گی: عباس عراقچی
حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
حکومت کو تین ٹویوٹا ڈیلرز کی جانب سے قیمتیں موصول ہوئیں، جن میں ٹویوٹا سینٹرل موٹرز نے 95.049 ملین روپے، ٹویوٹا پورٹ قاسم نے 95.25 ملین روپے اور ٹویوٹا سوسائٹی نے 95.45 ملین روپے کی پیشکش کی، حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
دستاویزات کے مطابق سی پیک سیکرٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ فنڈز دستیاب نہیں تھے، جس کے بعد وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا، تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث خریداری کا آرڈر جاری نہیں ہو سکا۔
پیٹرول اور ڈیزل کے بعد مٹی کے تیل کی نئی قیمت کا اعلان
وزارت نے فنڈز کی فراہمی کے لیے مختلف منصوبوں سے رقم مختص کی، جن میں سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے ایک کروڑ 88 لاکھ روپے، وفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے، مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے ایک کروڑ 10 لاکھ روپے اور پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے ایک کروڑ 60 لاکھ روپے شامل ہیں، ان فنڈز میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص کیے گئے تھے۔