کراچی سمیت ملک بھر کے میدانی علاقوں میں بارش‘پہاڑوں پر برفباری
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی/اسلام آباد (اسٹاف رپورٹر+ مانیٹرنگ ڈیسک) کراچی سمیت ملک بھر کے میدانی علاقوں میں بارش اور پہاڑوں پر برفباری جاری ہے، شہر قائد میں یخ بستہ ہواؤں کا راج ہے جس کے باعث سردی کی شدت میں اضافہ ہوگیا،کراچی میں پارہ سنگل ڈیجیٹ میں جانے کا امکان جبکہ محکمہ موسمیات کی جانب سے آج بھی بارش کی پیش گوئی کی گئی ہے دوسری جانب پنجاب، پختونخوا اور بلوچستان کے مختلف علاقوں میںبھی بادل برس پڑے،کوئٹہ میں درجہ حرارت نقطہ انجماد سے نیچے چلاگیا،شمالی علاقوں میں ہائی ویز برف سے ڈھک گئیں۔ تفصیلات کے مطابق تفصیلات کے مطابق کراچی کے مختلف علاقوں گلستان جوہر،گلشن اقبال، اورنگی ٹائون، سرجانی تاؤن، بلدیہ ٹاؤن،صدر، گارڈن، ماڑی پور گل پلازہ اور مشرف کالونی،نارتھ کراچی، ناگن چورنگی، بفرزون، گڈانی سمیت دیگر ملحقہ علاقوں میں جمعرات کے روزکہی ہلکی اور تیز بارش ہوئی۔ بارش کے آغاز کے ساتھ ہی تیز ہواؤں کے باعث سردی کی شدت میں اضافہ ہوگیاہے۔جبکہ حب شہر اور گردونواح میں گرج چمک کے ساتھ بارش ہوئی ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق مغربی ہواؤں کا سلسلہ سندھ پر اثر انداز ہو رہا ہے،جس کے سبب آج بروز جمعے کو بھی کراچی میں گرد آلود تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش متوقع ہے۔محکمہ موسمیات نے بتایا کہ کراچی میں آج سے اتوار کے دوران سردی کی شدت میں اضافہ ہوگا، اس دوران کم سے کم درجہ حرارت 7 ڈگری سینٹی گریڈ اور زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 20 ڈگری سینٹی گریڈ تک رہ سکتا ہے۔علاوہ ازیں پنجاب کے صوبائی دارالحکومت میں بھی بادل برس پڑے، ایبٹ روڈ، لکشمی، گوالمنڈی سمیت شہر کے مختلف علاقوں میں بارش ہوئیجس کے باعث لیسکو کے 150 سے زائد فیڈرز ٹرپ کر گئے،لاہور اسلام آباد موٹروے ایم 2 کے مختلف مقامات پر بوندا باندی ہوئی، پنڈی بھٹیاں ملتان موٹروے ایم 4 کے مختلف حصوں میں ہلکی بوندا باندی ہوئی، موٹروے ایم 5 ملتان تا رحیم یار خان اور لاہور سیالکوٹ موٹروے ایم 11 پر بھی بارش ہوئی، قومی شاہراہ پر مانگا منڈی، پتوکی، اوکاڑہ میں ہلکی بارش ہوئی، میاں چنوں، خانیوال، بہاولپور، احمد پور شرقیہ اور رحیم یار خان میں بارش ہوئی۔ محکمہ موسمیات کے مطابق بلوچستان کے متعدد علاقوں میں رات سے بارش کا سلسلہ جاری ہے، زیارت، کان مہترزئی، مسلم باغ، توبہ کاکڑی اور توبہ اچکزئی میں بارش کے ساتھ برفباری بھی جاری ہے۔ بارش اور برفباری کے باعث کوئٹہ اور دیگر علاقوں میں سردی کی شدت میں اضافہ ہوگیا ہے، برفباری سے درجہ حرارت نقطہ انجماد سے نیچے چلا گیا، منفی ایک سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا ہے، کوڑک ٹاپ اور خواجہ عمران میں منفی 3 سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ این ایچ اے اور پی ڈی ایم اے کی جانب سے شمالی علاقوں میں ہائی ویز سے برف ہٹانے کا سلسلہ جاری ہے۔ادھرآزاد جموں و کشمیر کے بیشتر علاقوں میں موسم ابر آلود ہوگیا، بلند و بالا پہاڑوں پر ہلکی برفباری شروع ہوگئی، جبکہ زیریں علاقوں میں سردی بڑھ گئی ہے۔ پشاور میں موسم ابر آلود ہوگیا ہے جبکہ شہر اور گرد و نواح میں گہرے بادلوں سے بارش شروع ہوگئی، جس کے باعث موسم مزید سرد ہوگیا ہے۔ جنوبی وزیرستان اپر اور لوئر، شمالی وزیرستان کے مختلف علاقوں میں برف باری شروع ہوگئی، جنوبی وزیرستان اپر کے علاقوں لدھا، مکین شوال، بدر اور کاروان مانزہ میں برفباری جاری ہے۔ شمالی وزیرستان کے رزمک و دیگر پہاڑی علاقوں میں برفباری جاری ہے، پی ڈی ایم اے کے مطابق برفباری اور بارشوں کا یہ سپیل شدید سے شدید ترین ہو سکتا ہے، شہریوں کو حفاظتی اقدامات اختیار کرنے کی ہدایات کر دی گئیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سردی کی شدت میں اضافہ کے مختلف علاقوں محکمہ موسمیات سینٹی گریڈ موٹروے ایم علاقوں میں بارش ہوئی کے مطابق جاری ہے کے باعث کے ساتھ ہواو ں
پڑھیں:
گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری
گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں کے باعث آنے والے سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ نے نظامِ زندگی مفلوج کر دیا، متعدد شاہراہیں، پل اور رابطہ سڑکیں بہہ جانے سے ہزاروں افراد، جن میں سیاح بھی شامل ہیں، مختلف علاقوں میں پھنس گئے۔
محکمہ موسمیات نے 26 جولائی تک گلگت بلتستان میں مزید بارشوں کی پیش گوئی کرتے ہوئے گلیشیائی جھیلیں پھٹنے سے اچانک سیلاب آنے کے خطرے سے خبردار کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پورا ہفتہ موسلا دھار مون سون بارشیں، محکمہ موسمیات کا ملک گیرالرٹ، شہریوں کو احتیاطی تدابیر اپنانے کا انتباہ
گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق قراقرم شاہراہ داسو سے ہنزہ اور نگر تک کئی مقامات پر بند ہے، جبکہ بابوسر روڈ، بلتستان روڈ، نلتر شاہراہ، غذر۔شندور روڈ، استور ویلی روڈ اور دیگر اہم راستے بھی سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے ناقابلِ استعمال ہوگئے ہیں۔
مسلسل سیلابی صورتحال کے باعث امدادی اور بحالی کی سرگرمیاں بھی متاثر ہو رہی ہیں، جبکہ کئی علاقے پل اور رابطہ سڑکیں تباہ ہونے کے بعد ملک کے دیگر حصوں سے منقطع ہو گئے ہیں۔
روندو سب ڈویژن کے تورمک نالہ میں شدید سیلاب سے کم از کم تین اہم پل، جن میں ملان پل بھی شامل ہے، بہہ گئے۔ خرمانگ، گانچھے اور شگر اضلاع میں سڑکوں، پلوں، زرعی زمینوں، فصلوں اور بنیادی ڈھانچے کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے، جبکہ ہراموش میں معلق پل اور بجلی گھر متاثر ہوئے ہیں۔
استور، تانگیر، تھور اور ضلع دیامر کے دیگر علاقوں میں بجلی، پانی اور مواصلاتی نظام معطل ہو گیا ہے۔ پینے کے پانی کی اسکیمیں، آبپاشی کے نہری نظام اور حفاظتی پشتے بھی تباہ ہو گئے، جبکہ کئی دیہات کا زمینی رابطہ منقطع ہوگیا۔
یہ بھی پڑھیں: گلگت بلتستان، خیبرپختونخوا میں شدید بارشوں کی پیشگوئی، گلیشیئر پھٹنے اور سیلابی صورتحال کا الرٹ جاری
استور، تھور ویلی، تانگیر اور دیگر علاقوں میں درجنوں خاندان سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث بے گھر ہو گئے ہیں۔
ضلع غذر میں متعدد مقامات پر سڑکیں بند، مقامی سطح پر سیلابی صورتحال اور دو گھروں کو جزوی نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں، جبکہ احتیاطی تدابیر کے تحت حساس علاقوں سے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔
ہنزہ نگر دریا میں پانی کی سطح بلند ہونے سے گلگت کے جوتل علاقے میں آٹھ گھروں کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے، جبکہ یاسین ویلی، شیلی آباد، امیت اور دیگر علاقوں میں دریا کے کٹاؤ سے زرعی اراضی اور درختوں کو نقصان پہنچا ہے۔ غذر۔شندور اور غذر۔گلگت سڑکیں بھی تاحال بند ہیں۔
حکام نے شہریوں اور سیاحوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے۔
گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق ضلعی انتظامیہ، ریسکیو 1122 اور دیگر ادارے مشترکہ طور پر امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ متاثرہ خاندانوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جارہا ہے اور انہیں خیمے، راشن، ادویات اور صاف پانی فراہم کیا جارہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 6 سے 10 اپریل کے دوران بارشیں اور ژالہ باری، این ڈی ایم اے کا الرٹ جاری
وزیراعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین نے متاثرہ علاقوں میں امدادی اور بحالی کے کام تیز کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے تمام متعلقہ اداروں کو چوبیس گھنٹے الرٹ رہنے کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے خوراک، صحت، پینے کے پانی، ادویات اور دیگر ضروری اشیاء کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے اور تباہ شدہ سڑکوں، پلوں اور بنیادی ڈھانچے کی فوری بحالی کے لیے بھاری مشینری استعمال کرنے کی بھی ہدایت کی۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ گلگت بلتستان کی حکومت متاثرہ عوام کو تنہا نہیں چھوڑے گی اور تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا کر متاثرین کی بحالی اور ہر ممکن امداد فراہم کی جائے گی۔
انہوں نے اسلام آباد میں قومی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے ہیڈکوارٹرز کا دورہ بھی کیا، جہاں چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے انہیں بتایا کہ گلگت بلتستان میں گلیشیئرز کی جدید سائنسی طریقوں سے مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے اور ہر گلیشیئر کو منفرد شناختی کوڈ دیا گیا ہے تاکہ ممکنہ خطرات کا بروقت اندازہ لگایا جا سکے۔
وزیراعلیٰ امجد حسین نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات اب ایک حقیقت بن چکے ہیں اور گلگت بلتستان ان سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں شامل ہے، جہاں گلیشیائی جھیلیں پھٹنے، اچانک سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے خطرات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے وفاقی اور صوبائی اداروں کے درمیان مؤثر تعاون پر زور دیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news بارش تباہی سیلاب گلگت بلتستان