غزہ میں فوجیوں کی تعیناتی کے لیے تیار ہیں: وزیرخارجہ ترکیہ
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT
غزہ میں فوجیوں کی تعیناتی کے لیے تیار ہیں: وزیرخارجہ ترکیہ WhatsAppFacebookTwitter 0 23 January, 2026 سب نیوز
ڈیوس (آئی پی ایس) ترکیہ نے غزہ میں فوج تعینات کرنے پر آمادگی کا اظہار کردیا۔
ڈیوس میں ورلڈ اکنامک فورم کے موقع پر ایک خصوصی انٹرویو کے دوران ترکیہ کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے کہا امن منصوبے کے تحت غزہ میں فوجیوں کی تعیناتی کے لیے تیار ہیں۔
ہاکان فیدان کا کہنا تھا کہ جس طرح ترکیہ بورڈ آف پیس کا حصہ بنا ہے، اسی طرح اب غزہ سے متعلق ایگزیکٹو کمیٹی میں بھی فعال کردار ادا کر رہا ہے اور انسانی امداد میں نمایاں تعاون فراہم کر رہا ہے۔
ہاکان فیدان کا مزید کہنا تھا کہ ان کا ملک غزہ امن منصوبے میں ہر ممکن تعاون کے لیے تیار ہے اور وہ بین الاقوامی استحکام فورس کا حصہ بننے کے لیے بھی تیار ہے۔
ترکیہ کے وزیرخارجہ نے واضح کیا کہ غزہ میں پائیدار امن کے قیام کے لیے ہر ممکن اقدام پر غور کیا جائے گا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرسانحہ گل پلازہ میں جاں بحق افراد کی تعداد 67 ہوگئی، 77 افراد تاحال لاپتہ سانحہ گل پلازہ میں جاں بحق افراد کی تعداد 67 ہوگئی، 77 افراد تاحال لاپتہ وادی تیراہ میں بارش اور شدید برفباری، 100 کےقریب گاڑیاں روڈ پرپھنس گئیں، ریسکیو آپریشن جاری مری میں اب تک 4انچ سے زائد برفباری، 10ہزار سے زائد گاڑیاں داخل، ڈی پی او ڈاکٹر محمد رضا تنویر سپرا جوانوں کا حوصلہ... چیئرمین پی پی بلاول بھٹو کی عالمی اقتصادی فورم اجلاس کے موقع پر وزیراعظم اور فیلڈ مارشل سے ملاقات خیبرپختونخوا میں صوبائی حکومت کی اجازت کے بغیر فوجی آپریشنز مسلط کیے جا رہے ہیں، وزیراعلی سہیل آفریدی ورلڈ اکنامک فورم،وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر عالمی رہنماوں کی توجہ کا مرکز بن گئے
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: کے لیے تیار
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔