data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

ایرانی پاسداران انقلاب گارڈز کے سربراہ جنرل محمد پاکپور نے ایران کے خلاف کسی بھی ممکنہ عسکری اقدام پر سخت اور فوری ردِعمل کی وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی افواج ہر سطح پر جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں، دشمن کسی خوش فہمی میں نہ رہے، ایران کی دفاعی قوت ہمہ وقت چوکس ہے اور کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق ایرانی پاسداران انقلاب گارڈز کے سربراہ جنرل محمد پاکپور نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ ایران کے مخالفین یہ حقیقت ذہن نشین کرلیں کہ ہماری عسکری صلاحیت محض بیانات تک محدود نہیں، ہمارا ہاتھ دفاع کے ٹریگر پر ہے اور اگر ملک پر حملہ کیا گیا تو جواب فوری اور فیصلہ کن ہوگا۔

پاسدارانِ انقلاب کے سربراہ نے امریکا اور اسرائیل کو براہِ راست مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ایران کی طاقت کے بارے میں غلط اندازے لگانے کی قیمت انہیں بھاری پڑسکتی ہے، حالیہ بارہ روزہ جنگ کے بعد دشمنوں کو کم از کم یہ اندازہ ضرور ہوگیا ہوگا کہ ایران کے خلاف کسی بھی مہم جوئی کا انجام انتہائی خطرناک ثابت ہوسکتا ہے، جس کا پچھتاوا بعد میں خود انہیں ہوگا۔

جنرل پاکپور نے مزید کہا کہ ماضی کے مقابلے میں آج ایرانی مسلح افواج نہ صرف زیادہ منظم بلکہ ہر ممکن صورتحال سے نمٹنے کے لیے پہلے سے کہیں زیادہ بہتر طور پر تیار ہیں، چاہے صیہونی ریاست ہو یا امریکا، اگر کسی جانب سے بھی سازش یا جارحیت کی کوشش کی گئی تو ایران اس کا بھرپور اور مؤثر جواب دے گا۔

دوسری جانب امریکا نے ایران کی جانب اپنی فوجی موجودگی میں نمایاں اضافہ کرتے ہوئے جنگی بحری جہازوں اور جدید طیاروں پر مشتمل بڑی فورس روانہ کر دی ہے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکی حکام نے تصدیق کی ہے کہ ایک کیریئر اسٹرائیک گروپ سمیت اضافی فوجی دستے مشرقِ وسطیٰ کی جانب روانہ کر دیے گئے ہیں، جن میں طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن، جنگی بحری جہاز اور لڑاکا طیارے شامل ہیں، جسے خطے میں سیکیورٹی صورتحال کے تناظر میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

ویب ڈیسک دانیال عدنان

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کہ ایران

پڑھیں:

بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے بھارت کو مؤثر جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت خود امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ۔

قرارداد 2788 کے تناظر میں تنازعات کے پرامن حل پر مباحثے کے دوران پاکستان مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حق جواب میں  کہا کہ ایک وفد نے تنازعات کے پُرامن حل پر ہونے والی بحث کو حقائق مسخ کرنے، انکار اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔

پاکستانی مندوب برائے اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا نام نہاد اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ؛ بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ بھارت خود جموں و کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، مگر آج اسی کونسل کی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔ قراردادوں کی کوئی میعاد ختم نہیں ہوتی۔

قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔  ایک طرف سیاسی آزادی ہے، دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔ کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور سے بے اعتنائی کا مظہر ہے۔

پاکستانی مندوب نے حق جواب میں کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔ ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات علاقائی امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک ہے؛ ہزاروں بے گناہ شہریوں کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد حقیقی ہے۔

قونصلر صائمہ سلیم کا کہنا تھا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک علاقائی حدود سے نکل کر عالمی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کیس اس کا ایک واضح ثبوت ہے۔ بھارت میں ہندوتوا پر مبنی انتہا پسند نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کا رنگ دے دیا ہے، جبکہ اقلیتیں امتیازی سلوک اور جبر کا سامنا کر رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اشتعال انگیزی اور جارحیت کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پُرامن حل کو ترجیح دی۔ جنوبی ایشیا میں امن کا راستہ انکار یا ہٹ دھرمی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری سے ہو کر گزرتا ہے۔

پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے معاہداتی وعدے پورے کرے اور جموں و کشمیر تنازع کے پُرامن حل کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرے۔

 

متعلقہ مضامین

  • ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • قاتل وہیل کا انوکھا طرز عمل: دیوہیکل دشمن کی لاش کو زور دار ٹکریں مارنے کی وجہ کیا ہے؟
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار