بھارت میں اقلیتوں کی نسل کشی کیخلاف آزربائیجان میں بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT
عالمی سطح پر بھارتی مظالم کا پردہ چاک ہوتے ہی مودی ایک مرتبہ پھر پاکستان فوبیا کا شکار ہوگیا ہے۔
آذربائیجان میں اقلیتوں پر بھارتی مظالم کےخلاف پہلی عالمی کانفرنس ہونے جارہی ہے جس میں شرکا نے شدید اظہارِ تشویش کیا ہے۔
عالمی نشریاتی ادارہ آزر ٹیک نیوز کے مطابق آذربائیجان میں اقلیتوں کیخلاف بھارت کی جابرانہ پالیسیوں پر پہلی عالمی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ عالمی کانفرنس بھارتی درندگی کو عالمی انسانی حقوق کے ایجنڈے میں تبدیل کرنے کا واضح اشارہ ہے۔
آزر ٹیک نیوز کے مطابق 1984 کے فسادات میں 8 سے 17 ہزار سکھوں کے منظم قتل پر ریاستی خاموشی سوالیہ نشان ہے۔ 50 ہزار سے زائد سکھ ہجرت پر مجبور جبکہ 90-1980 تک بے تحاشا جبری گمشدگیاں اور ماورائے عدالت قتل کیے گئے۔
پاکستان کی مؤثر اور متوازن خارجہ پالیسی اور بھارتی مظالم کےخلاف آواز بلند ہونے پر گودی میڈیا تلملا اٹھا ہے۔ عالمی کانفرنس کے بعد گودی میڈیا نے پاکستان، ترکیہ اور آذربائیجان پر من گھڑت الزامات لگا دیے ہیں۔
بھارتی نیوز 18 نے اقلیتوں کیخلاف مودی کے مذموم عزائم کا پردہ چاک کرنے والے سکھ رہنماؤں کو انتہا پسند قرار دے دیا۔ کانفرنس میں بھارتی مظالم کو منظم نسل پرستی اور نسل کشی قرار دینے پر گودی میڈیا بوکھلاہٹ کا شکار ہوگیا۔
مقبوضہ کشمیر کے مؤقف پر بھی بھارتی میڈیا نے آذربائیجان پر پاکستانی بیانیہ اپنانے کا الزام بھی لگادیا۔ اس سے قبل کینیڈا سمیت بیشتر ممالک سکھ رہنماؤں کے قتل میں بھارتی سرپرستی کے شواہد پیش کر چکے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: عالمی کانفرنس بھارتی مظالم
پڑھیں:
سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
ممبئی: سلمان خان بیان ایک بار پھر سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بن گیا ہے۔ بالی ووڈ سپر اسٹار سلمان خان نے بھارت میں طلباء کے احتجاج پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ بہتر تعلیمی نظام کے لیے نوجوانوں کی آواز سنی جانی چاہیے اور اس معاملے کو سیاسی رنگ دینے سے گریز کیا جائے۔
سلمان خان نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ابتدا میں یہ ایک پرامن تحریک تھی، تاہم بعد میں اس کا پرتشدد رخ اختیار کرنا افسوسناک ہے۔ انہوں نے احتجاج کے دوران متاثر ہونے والے طلباء اور ان کے اہل خانہ سے ہمدردی کا اظہار بھی کیا۔
اداکار نے کہا کہ پیپر لیک جیسے معاملات انتہائی سنجیدہ نوعیت کے ہیں اور انہیں فوری توجہ کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق یہ خوش آئند بات ہے کہ طلباء بہتر تعلیمی نظام کے مطالبے کے لیے متحد ہوئے، جبکہ والدین نے بھی ان کی جدوجہد میں بھرپور ساتھ دیا۔
سلمان خان بیان میں مزید کہا گیا کہ طلباء نے اپنے عزم، محنت اور خلوص سے ثابت کیا ہے کہ وہ تعلیم حاصل کر کے ملک کے روشن مستقبل میں کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں کے جذبے، ہمت اور تعلیم سے وابستگی کو قابلِ تعریف قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہی نسل مستقبل میں ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گی۔
بالی ووڈ اسٹار نے زور دیا کہ طلباء کے مطالبات کو سیاسی تنازع نہ بنایا جائے کیونکہ یہ معاملہ براہِ راست تعلیمی نظام اور طلباء کے مستقبل سے جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت بھی اس معاملے کا مثبت حل نکالے گی اور تعلیمی نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کرے گی۔
سلمان خان نے اپنے پیغام کے اختتام پر دعا کی کہ علم حاصل کرنے والے تمام طلباء اپنی منزل حاصل کریں اور ملک میں ایسا تعلیمی ماحول قائم ہو جہاں میرٹ، شفافیت اور انصاف کو اولین ترجیح دی جائے۔