سندھ ہائیکورٹ: پروفیسر ریاض احمد راجہ اور ڈاکٹر ارشد حسین ابڑو کیخلاف فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT
--فوٹو: فائل
محکمہ بورڈز و جامعات کو سیاسی اور سفارشی بنیادوں پر لگائے گئے 2 پرو وائس چانسلر مہنگے پڑ گئے۔
سندھ ہائیکورٹ نے لیاقت میڈیکل یونیورسٹی جامشورو کی ریٹائرڈ پروفیسر اور 34ویں نمبر پر آنے والے جونیئر پروفیسر ریاض احمد راجہ کے خلاف فیصلہ دے دیا ہے۔
عدالت عالیہ کے جج عدنان الکریم میمن کے فیصلے کے مطابق درخواست گزار سابق پرو وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر سیما ناز ریٹائرمنٹ کے بعد اس عہدے پر برقرار رہنے کی قانونی طور پر مجاز نہیں تھیں۔
ڈپٹی کمشنر ضلع شرقی نے جمعرات کو جامعہ کراچی کی اراضی پر بننے والے غیر قانونی پیٹرول پمپ کو باقاعدہ سیل کر دیا، جب کہ تین روز قبل پیٹرول پمپ کا این او سی منسوخ کر دیا گیا تھا۔
عدالت نے قرار دیا کہ سندھ یونیورسٹیز لاز (ترمیمی) ایکٹ 2013 کے تحت پرو وائس چانسلر کی تقرری صرف حاضر سروس پروفیسرز تک محدود ہے اور ریٹائرمنٹ کے بعد کسی انتظامی عہدے پر برقرار رہنے کا کوئی قانونی حق باقی نہیں رہتا۔
عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ پرو وائس چانسلر کی مدت چار سال مقرر ہے، تاہم یہ مدت عمر ریٹائرمنٹ کے بعد خود بخود جاری نہیں رہ سکتی۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ریٹائرمنٹ کے ساتھ ہی عہدہ رکھنے کا قانونی جواز ختم ہو جاتا ہے، اس لیے ایسی صورت میں نہ تو شوکاز نوٹس ضروری ہے اور نہ ہی سماعت کا حق پیدا ہوتا ہے۔
فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ ڈاکٹر ارشد حسین ابڑو کی پرو وائس چانسلر کے طور پر تقرری وزیر اعلیٰ سندھ کے آئینی و قانونی اختیارات کے تحت کی گئی، تاہم یہ اختیار مطلق نہیں بلکہ یونیورسٹی قوانین، یونیورسٹی کوڈ اور سینیارٹی کے اصولوں کا پابند ہے۔
عدالت کے مطابق سینیارٹی کو بلا جواز نظرانداز کر کے کسی کم سینئر امیدوار کی تقرری قانونی سوالات کو جنم دے سکتی ہے۔
عدالت نے معاملے کو حتمی طور پر نمٹاتے ہوئے جامعہ کے سنڈیکیٹ کو ہدایت دی کہ وہ سینیارٹی کے اصول کے مطابق اہل، موزوں اور سینئر ترین پروفیسرز کے نام سربمہر لفافے میں مجاز اتھارٹی کو ارسال کرے، تاکہ قانون کے مطابق ازسرِ نو تقرری پر غور کیا جا سکے۔ عدالت نے حکم دیا کہ یہ پورا عمل ایک ماہ کے اندر مکمل کیا جائے اور حتمی فیصلہ میرٹ کی بنیاد پر کیا جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: پرو وائس چانسلر ریٹائرمنٹ کے عدالت نے کے مطابق
پڑھیں:
نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
سپریم کورٹ نے نیب قانون میں کی گئی ترامیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق اہم مقدمے کا محفوظ شدہ فیصلہ سنا دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) سے متعلق تمام مقدمات اب وفاقی آئینی عدالت میں سنے جائیں گے۔
جسٹس محمد علی مظہر نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ نیب قانون میں ترامیم کے بعد سپریم کورٹ کو نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار حاصل نہیں رہا، اس لیے نیب سے متعلق تمام زیر التوا اور آئندہ مقدمات وفاقی آئینی عدالت کو منتقل کیے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں:ایرانی ڈیزل اسمگلنگ کیس: وفاقی آئینی عدالت نے اہم سوالات اٹھا دیے
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں نیب اور وفاقی حکومت کا مؤقف درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 175، نیب آرڈیننس کے سیکشن 32 اور 32 اے کے تحت نیب مقدمات کی سماعت کے لیے وفاقی آئینی عدالت ہی مجاز فورم ہے۔
سپریم کورٹ نے اس معاملے پر فریقین کے تفصیلی دلائل سننے کے بعد 16 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا، جو جمعہ کو سنایا گیا۔
اس فیصلے کے بعد نیب سے متعلق تمام مقدمات کی سماعت اب وفاقی آئینی عدالت میں ہوگی، جبکہ سپریم کورٹ ان مقدمات کی سماعت نہیں کرے گی۔ یہ فیصلہ نیب مقدمات کے عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق ایک اہم آئینی نظیر قرار دیا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں