عشرت فاطمہ کی پی ٹی وی پر شاندار واپسی
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT
پاکستان ٹیلی وژن اور ریڈیو پاکستان کی سینئر نیوز کاسٹر عشرت فاطمہ کی پی ٹی وی اسکرین پر واپسی نے ناظرین اور میڈیا حلقوں میں خوشی کی لہر دوڑادی ہے۔عشرت فاطمہ ایک مرتبہ پھر پی ٹی وی کے نیوز بلیٹن میں نظر آئیں. جہاں ان کے ہمراہ ان کے سابق شاگرد اور ساتھی نیوز اینکر زبیر احمد صدیقی موجود تھے۔زبیر احمد صدیقی نے عشرت فاطمہ کو نہایت احترام اور محبت کے ساتھ خوش آمدید کہا۔زبیر احمد صدیقی نے تعارف کرواتے ہوئے کہا کہ ان کے لیے یہ لمحہ باعثِ فخر ہے کہ وہ اپنی استاد، بڑی بہن اور پی ٹی وی کی پہچان عشرت فاطمہ کے ساتھ دوبارہ اسکرین شیئر کر رہے ہیں۔اس موقع پر عشرت فاطمہ نے زبیر احمد صدیقی کا شکریہ ادا کیا اور اپنے چاہنے والوں کی محبت اور حمایت پر اظہارِ تشکر کیا۔
واضح رہے کہ تقریباً تین دہائیوں تک میڈیا سے وابستہ رہنے والی عشرت فاطمہ کو ملک بھر میں 9 بجے کے مشہور نیوز بلیٹن کی بدولت خاص پہچان حاصل ہوئی۔چند روز قبل عشرت فاطمہ اس وقت خبروں میں آئیں جب انہوں نے ریڈیو پاکستان سے استعفیٰ دیا۔ان کا کہنا تھا کہ ادارے میں انہیں یہ احساس دلایا گیا کہ اب ان کی اہمیت باقی نہیں رہی، جس کے باعث انہوں نے علیحدگی کا فیصلہ کیا۔
بعد ازاں انہیں پی ٹی وی میں بطور مینٹور دوبارہ ذمہ داریاں سونپ دی گئیں، جسے میڈیا انڈسٹری میں ایک مثبت قدم قرار دیا جا رہا ہے۔عشرت فاطمہ کی واپسی پر سوشل میڈیا پر بھی بھرپور ردعمل دیکھنے میں آیا۔کئی ناظرین نے کہا کہ ان کی آواز سن کر بچپن کی یادیں تازہ ہو گئیں، جبکہ متعدد صارفین نے پی ٹی وی کو اپنے سینئر اور لیجنڈ اینکرز کو عزت دینے پر سراہا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: عشرت فاطمہ
پڑھیں:
میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت یا اے آئی پر مبنی چیٹ بوٹس کے خلاف ایک نئے قسم کے سائبر حملے سامنے آئے ہیں جن کے ذریعے ہیکرز سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ذاتی معلومات تک غیر مجاز رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا بھر کی اہم شخصیات کے انسٹاگرام اکاؤنٹس ہیک ہونے کا انکشاف، میٹا نے سب بتادیا
ماہرین کے مطابق جدید بڑی زبان کے ماڈلز(ایل ایل ایمز) جن میں میٹا اے آئی سمیت دیگر اے آئی چیٹ بوٹس شامل ہیں کو ایک تکنیک پرومپٹ انجیکشن‘ کے ذریعے دھوکا دیا جا سکتا ہے۔ اس طریقے میں حملہ آور چیٹ بوٹس کے حفاظتی نظام کو بائی پاس کرتے ہوئے انہیں ایسے احکامات پر عمل کرنے پر آمادہ کرتے ہیں جو عام حالات میں ممکن نہیں ہوتے۔
سائبر سیکیورٹی ماہر بروس شنائر کے مطابق ہیکرز اس مقصد کے لیے ’پرولیج ایسکلیشن‘ نامی حکمت عملی استعمال کرتے ہیں جس کے تحت اے آئی ماڈل کو ایسی فرضی شخصیت اختیار کرنے پر قائل کیا جاتا ہے جو حفاظتی قواعد کو نظر انداز کر دے یوں چیٹ بوٹ کی محدود صلاحیتیں وسیع ہو جاتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق حملہ آور یہ خفیہ ہدایات بظاہر بے ضرر مواد، جیسے ای میلز، ویب سائٹس یا آن لائن پیغامات میں شامل کرتے ہیں۔ اگر چیٹ بوٹ ان ہدایات کو قبول کر لے تو ہیکرز کو صارف کے منسلک اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل سروسز تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیے: اوپن اے آئی نے ’سورا‘ ایپ لانچنگ کے چند ماہ بعد ہی اچانک کیوں بند کردی؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک بار چیٹ بوٹ کے متاثر ہونے کے بعد اسے ذاتی معلومات چرانے، حساس ڈیٹا باہر منتقل کرنے یا صارف کے اکاؤنٹس تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنے جیسے اقدامات کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خطرہ اس وقت مزید بڑھ جاتا ہے جب صارفین اے آئی ٹولز کو اپنی ای میل، کیلنڈر یا دیگر ذاتی سروسز تک رسائی دے دیتے ہیں کیونکہ اس سے حملہ آوروں کے لیے نقصان دہ سرگرمیوں کے نئے راستے کھل سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: ’کوئی پڑھے نہ پڑھے اے آئی تو پڑھے گی‘: قدیم زمانوں کے محبت نامے، خفیہ تحریریں آشکار
ماہرین کے مطابق ہیکرز کا حتمی مقصد مالی فراڈ، شناختی معلومات کی چوری اور دیگر نقصان دہ سرگرمیوں کو انجام دینا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت کی اپنی استدلالی صلاحیتیں بھی صارفین کے خلاف استعمال کی جا سکتی ہیں جس سے روایتی سائبر سیکیورٹی اقدامات کو مؤثر بنانا مزید مشکل ہو جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اے آئی مصنوعی ذہانت ہیکنگ