سیاح مری کے سفر سے گریز کریں، عظمیٰ بخاری
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT
فائل فوٹو
وزیراطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے سیاحوں سے گزارش کی ہے کہ اب مری کے سفر سے گریز کریں۔
ایک بیان میں صوبائی وزیر نے کہا کہ مری میں تمام ہوٹل مکمل طور پر بھر چکے ہیں، گنجائش سے زیادہ گاڑیوں داخل ہوچکی ہیں۔
عظمیٰ بخاری نے مزید کہا کہ اب مری میں مزید گاڑیوں کے داخلے کی گنجائش نہیں ہے ،اس لیے سیاحوں سے گزارش ہے اب مری کا سفر کرنے سے گریز کریں۔
مری میں 22 گھنٹوں بعد رکنے والی برف باری ایک بار پھر شروع ہوگئی ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ مری میں موجود سیاحوں کی حفاظت حکومت کی پہلی ترجیح ہے۔
ذرائع کے مطابق مری میں برف باری کا سلسلہ آئندہ 24 گھنٹے تک جاری رہنے کا امکان ہے متعدد رابطہ سڑکیں برف سے ڈھک گئی ہیں۔
ڈی پی او مری نے سیاحوں کو مری نہ آنے کا مشورہ دیا اور کہا کہ گاڑیوں میں ہیٹر استعمال کرنے والے آکسیجن کا خاص خیال رکھیں۔
شہر میں مزید گاڑیوں کا داخلہ بند ہے، 5 ہزار سے زائد گاڑیوں کو بحفاظت نکالنے کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔
دوسری طرف کمشنر راولپنڈی ڈویژن عامر خٹک نے کہا ہے کہ عملہ فیلڈ میں موجود ہے،چٹہ موڑ، باڑیاں، جھیکا گلی، مال روڈ سے برف ہٹانے کا کام جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ مری میں بند رابطہ سڑکوں کو کھولنے کا کام تیزی سےجاری ہے، صورتحال انڈر کنٹرول ہے، ٹریفک پولیس اور ضلعی انتظامیہ سیاحوں کی رہنمائی کےلیے موجود ہے۔
عامر خٹک نے مزید کہا کہ سیاحوں سے گزارش ہے احتیاطی تدابیر اختیار کریں، سڑکوں کی صفائی ہورہی ہے، زیادہ تر چھوٹی گاڑیاں پھسل رہی ہیں، اسلام آباد کی جانب ایکسپریس وے خاص طور پر پھسلن کا شکار ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: کہا کہ
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔