خیبر پختونخوا، آزاد کشمیر، گلگت بلتستان میں شدید برفباری، رابطہ سڑکیں بند
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT
خیبر پختونخوا، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں شدید برف باری سے رابطہ سڑکیں بند ہوگئیں۔ چترال میں برفانی تودہ گھر پر گر گیا، 9 افراد جاں بحق ہوگئے، جن میں4 خواتین اور 5 مرد شامل ہیں۔
چلاس اور اپرکوہستان میں برف باری اور لینڈ سلائیڈنگ سے شاہراہِ قراقرم مختلف مقامات پر بند ہیں، سیکڑوں مسافر اور مال بردار گاڑیاں پھنس گئیں۔
مری میں شدید برف باری کے باعث سڑکیں پھسلن کا شکار ہیں، کمشنر راولپنڈیکمشنر راولپنڈی عامر خٹک نے کہا ہےکہ مری میں برفباری کا سلسلہ پھر سے شروع ہوگیا ہے، راولپنڈی اسلام آباد سے مری کا داخلہ بند کردیا گیا ہے۔
ملک کے بالائی علاقوں میں برف باری سے نظارے حسین ہوگئے، پہاڑ اور درخت برف سے ڈھک گئے، آبشاریں جم گئیں۔
ایبٹ آباد، مانسہرہ، لوئر دیر، باجوڑ، ملاکنڈ، سوات، ملم جبہ، کرم، شمالی وزیرستان، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے مختلف علاقوں میں برف باری ہوئی، کئی کئی فٹ برف پڑنے سے رابطہ سڑکیں متاثر ہوئیں، ساتھ ہی سردی کی شدت میں اضافہ ہوگیا، میران شاہ اور میرعلی کے علاقوں میں کئی سال بعد برف باری ہوئی۔
وزیراطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے سیاحوں سے گزارش کی ہے کہ اب مری کے سفر سے گریز کریں۔
شمالی بالائی بلوچستان میں برف باری کا سلسلہ تھم گیا لیکن سائبرین ہواؤں کا راج برقرار رہا، کوئٹہ، قلات، چمن اور زیارت میں تالابوں، پائپ لائنوں اور سڑکوں پر پانی برف بن گیا۔
شہریوں کو پینے کے پانی کی قلت کا سامنا ہے، کوئٹہ، زیارت شاہراہ کئی مقامات پر جم گئی، اگلے 24گھنٹوں تک سیاحوں کی زیارت جانے پر پابندی ہے، این50 ژوب ہائی وے کئی مقامات پر بند ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔