سلطان آباد موت کی منڈی بن گیا ، پولیس کی مبینہ سرپرستی میں نسل کشی کا بھیانک کھیل جاری
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر) ڈاکس تھانے کی حدود میں واقع سلطان آباد (یو سی 47) جرائم پیشہ افراد اور منشیات فروشوں کی آماجگاہ بن چکا ہے۔ حیران کن طور پر یہ سب کچھ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ناک کے نیچے اور مبینہ طور پر پولیس کی چھتری تلے ہو رہا ہے۔ علاقے میں چرس سے لے کر جدید مہلک منشیات ‘آئس’ اور ‘میتھ’ کی فروخت نے نوجوان نسل کے مستقبل پر موت کا سایہ ڈال دیا ہے۔ سلطان آباد کی گلیوں میں اب امن نہیں بلکہ خوف بستا ہے۔ بسم اللہ مسجد سے لے کر ابراہیم مسجد اور بلال مسجد تک کی گلیاں اب نمازیوں کے بجائے منشیات کے عادی افراد کے قبضے میں ہیں۔ علاقے کی خواتین کا ان گلیوں سے گزرنا محال ہو چکا ہے، نشے میں دھت افراد ناصرف انہیں ہراساں کرتے ہیں بلکہ نازیبا کلمات بھی کستے ہیں۔ منشیات کے سوداگر معصوم بچوں کو پہلے دوستی کے جال میں پھنساتے ہیں اور پھر انہیں “آئس” جیسے مہلک نشے کی لت لگا کر جرائم کے دلدل میں دھکیل رہے ہیں۔ مختلف مقامی اخبارات اور جرائد میں بارہا انکشاف ہوا ہے کہ سلطان آباد میں منشیات کے اڈوں کی باقاعدہ سرپرستی کی جا رہی ہے۔ عوامی حلقوں کا الزام ہے کہ ڈاکس تھانے کی کالی بھیڑیں ان اڈوں سے بھاری ہفتہ وصول کرتی ہیں، یہی وجہ ہے کہ جب بھی کوئی شہری شکایت کرتا ہے، الٹا اسے ہی ہراساں کیا جاتا ہے یا پھر جرائم پیشہ افراد اسے ڈرا دھمکا کر خاموش کرا دیتے ہیں ۔منشیات کی دستیابی نے علاقے میں اسٹریٹ کرائم کو مہمیز دی ہے۔ نشے کی طلب پوری کرنے کے لیے عادی افراد نے گھروں میں چوریاں، موبائل چھیننا اور دیگر چھوٹی بڑی وارداتیں روز کا معمول بنا لی ہیں۔ سلطان آباد کا ہر گھر آج عدم تحفظ کا شکار ہے۔ شہریوں نے آئی جی سندھ‘آئی جی اور ڈی آئی جی ساؤتھ سے دردمندانہ اپیل کی ہے کہ سلطان آباد کو ان موت کے سوداگروں سے نجات دلائی جائے۔ منشیات فروشوں کے ساتھ ساتھ ان کی سرپرستی کرنے والے پولیس اہلکاروں کے خلاف بھی سخت ایکشن لیا جائے۔ مساجد اور عوامی مقامات کے گرد پولیس پٹرولنگ کے بجائے ایماندار ٹیمیں تعینات کی جائیں۔ اگر آج سلطان آباد میں آئس اور چرس کے ان اڈوں کو جڑ سے نہ اکھاڑا گیا تو یہ علاقہ جلد ہی جرائم کا ایسا گڑھ بن جائے گا جہاں سے واپسی ناممکن ہوگی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ABN نیوز نے مبینہ جعلی بین الاقوامی ویکسینیشن سرٹیفکیٹ نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا
راولپنڈی(نیوز ڈیسک)راولپنڈی میں مبینہ طور پر جعلی بین الاقوامی ویکسی نیشن سرٹیفکیٹ جاری کرنے کا انکشاف ہوا ہے، جس سے صحت کی جعلی دستاویزات پر خدشات بڑھ گئے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق، اے بی این نیوز نے شہر میں کام کرنے والے مبینہ جعلی ویکسینیشن سرٹیفکیٹ نیٹ ورک کا سراغ لگانے کا دعویٰ کیا ہے۔ نیٹ ورک پر افراد کو جعلی بین الاقوامی ویکسینیشن سرٹیفکیٹ جاری کرنے کا شبہ ہے۔
رپورٹ نے سرکاری صحت کے ریکارڈ کے غلط استعمال اور صحت عامہ اور بین الاقوامی سفری تعمیل کے لیے ممکنہ خطرات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
حکام سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ الزامات کی تحقیقات کریں گے اور اگر دعوے درست ثابت ہوئے تو ملوث پائے جانے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کریں گے۔