کراچی میں سڑکوں کی بحالی کیلئے21 ارب کی منظوری
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT
شہری آمد و رفت میں بہتری آئے گی اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا، وزیراعلیٰ سندھ
7اضلاع میں 409سڑکوںکیلئے 10ارب 93کروڑ لاگت کا تخمینہ،اجلاس میں گفتگو
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کراچی کی سڑکوں سمیت دیگر انفرا سٹرکچر کی بہتری کے لیے 21 ارب روپے سے زائد کی منظوری دے دی۔شہر قائد میں سڑکوں کی بحالی کے حوالے سے اہم اجلاس وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں صوبائی وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ، میٔر کراچی مرتضیٰ وہاب، چیف سیکرٹری آصف حیدر شاہ، چیٔرمین پی اینڈ ڈی نجم شاہ اور محکمہ بلدیات اور کے ایم سی کے سینئر افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں وزیراعلیٰ سندھ نے کراچی کے انفرااسٹرکچر کی بہتری کے لیے مجموعی طور پر 21۔53 ارب روپے کی منظوری دے دی۔کراچی کی سڑکوں کی بحالی سے شہری آمد ورفت میں بہتری آئے گی اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا، عوامی سہولت اور شہری تحفظ سندھ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔وزیراعلیٰ سندھ نے کراچی کی سڑکوں کی بحالی کے لیے 13 ارب روپے کی خصوصی گرانٹ کی بھی منظوری دی، اجلاس میں میٔر کراچی مرتضیٰ وہاب نے وزیراعلیٰ سندھ کو بریفنگ دیتے ہوئے شہر کی 409 خستہ حال سڑکوں کی مرمت کی نشاندہی کی، ترجمان وزیراعلیٰ سندھ کے مطابق 24 ٹاؤن میونسپل کارپوریشنز کے لیے بھی مالی امداد کی منظوری دی گئی ہے۔صوبائی وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ نے اجلاس کو بتایا کہ کراچی کے 7 اضلاع میں 400 سڑکوں پر پیچ ورک کیا جائے گا جبکہ 9 سڑکوں کی مکمل تعمیر نو کی جائے گی، سڑکوں، سیوریج اور واٹر سپلائی کے منصوبوں پر مجموعی لاگت 12۔57 ارب روپے آئے گی۔اجلاس میں وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کراچی کی 26 بڑی سڑکوں کی بحالی کے لیے کے ایم سی کو ہدایات جاری کیں، اس کے ساتھ ہی وزیراعلیٰ سندھ نے سڑکوں، نالوں اور سٹریٹ لائٹس سے متعلق 8۔53 ارب روپے کے منصوبوں کی بھی منظوری دی۔وزیراعلیٰ سندھ نے تمام منصوبوں پر شفاف، معیاری اور بروقت کام مکمل کرنے کی ہدایت کی اور محکمہ خزانہ کو فنڈز فوری طور پر جاری کرنے کے احکامات بھی دیے ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: سڑکوں کی بحالی کی منظوری اجلاس میں نے کراچی کراچی کی ارب روپے کے لیے
پڑھیں:
وزیراعظم کا آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
سٹی42: وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت آئی ٹی شعبے کے اسٹرٹیجک روڈ میپ پر پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کی کارکردگی اور ڈیجیٹل معیشت کے فروغ سے متعلق اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
اجلاس میں وزیراعظم نے پاکستان کی سالانہ آئی ٹی برآمدات میں 21 فیصد اضافے کے ساتھ 4.6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے پر وزیرِ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور متعلقہ ٹیم کو مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کے لیے اختیار کی گئی پالیسیوں کا نتیجہ ہے اور آئی ٹی شعبے کی ترقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ آئی ٹی سے متعلق تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے اور تربیت کے معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے۔ انہوں نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو مزید بہتر بنانے کی بھی ہدایت کی۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ
اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم جون 2025 کے 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026 میں 880 میگا ہرٹز ہو چکا ہے، جس سے انٹرنیٹ کی رفتار اور کنیکٹیویٹی میں نمایاں بہتری آئے گی۔ اس کے علاوہ "کنیکٹ پاکستان وژن 2030" کے اجراء کی تیاریوں سے بھی آگاہ کیا گیا۔بریفنگ کے مطابق باغ، آزاد جموں و کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک مکمل ہو چکا ہے، جبکہ پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024 کے 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026 میں 72 فیصد ہو گیا ہے۔ جون 2026 تک 5.1 ملین گھروں کو فکسڈ براڈ بینڈ یا فائبر کنکشن فراہم کیے جا چکے ہیں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ گزشتہ مالی سال آئی ٹی برآمدات میں فری لانسرز کا حصہ 1.164 ارب ڈالر رہا، جبکہ "ڈیجیٹل نیشن پاکستان" کے تحت 130 سرکاری خدمات کو ڈیجیٹلائز کیا جا چکا ہے۔ اسی عرصے میں آئی ٹی شعبے میں 942,646 تربیتی سرٹیفکیٹس جاری کیے گئے، 5,053 ہائی اینڈ تربیتی پروگرام اور لیڈرشپ و سافٹ اسکلز سے متعلق 2,700 تربیتی سیشنز منعقد کیے گئے۔
بارشی پانی کی نکاسی نہ ہونے سے گاڑیاں اور موٹرسائیکلیں بند، شہری شدید مشکلات کا شکار
بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ ویمن انوویشن اینڈ اسٹارٹ اپ ایمپاورمنٹ لیب کا افتتاح جلد کیا جائے گا، جبکہ چینی کمپنی علی بابا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے تحت متعدد وفاقی وزارتوں اور اداروں میں مصنوعی ذہانت کے منصوبوں اور تربیتی پروگراموں پر کام جاری ہے۔
اجلاس میں وفاقی وزراء اعظم نذیر تارڑ، احد خان چیمہ، شزا فاطمہ خواجہ، خالد مقبول صدیقی، وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری حکام نے شرکت کی۔
شہر میں بارش سے بجلی کا ترسیلی نظام متاثر، 130 سے زائد فیڈرز بند