17سال سے مسلط پیپلز پارٹی اہل کراچی کے مسائل کا حل نہیں‘سیف الدین
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر) اپوزیشن لیڈرکے ایم سی اور نائب امیر جماعت اسلامی کراچی سیف الدین ایڈووکیٹ نے جمعہ کو سانحہ گل پلازہ کے مقام کا دورہ کیا ، صورتحال کا جائزہ لیا ، اس موقع پر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ سندھ پر 17سال سے مسلط پیپلز پارٹی اہل کراچی کے مسائل کا حل نہیں بلکہ خود سب سے بڑا مسئلہ ہے ، سندھ حکومت کراچی کے لیے سیکورٹی رسک بن چکی ہے ، سانحہ گل پلازہ نے سندھ حکومت اور اس کے ماتحت پورے نظام کو مکمل طور پر بے نقاب کر دیا ہے ، اس حکومت و نظام کو اب بدلنا پڑے گا ، سندھ حکومت کو اب اقتدار میں نہیں رہنا چاہیے ، وزیر اعلیٰ اور قابض میئر استعفا دیں ، یہ عوام کے حقیقی نمائندے نہیں، جماعت اسلامی کے میئر کا راستہ روکا گیا ، اگر ہمارا میئر ہوتا شہر کی موجودہ ابتر حالت یہ نہیں ہوتی اور شہر لاکھ درجے بہتر ہوتا ۔ سیف الدین ایڈووکیٹ نے سانحہ گل پلازہ اور 68قیمتی انسانی جانوں اور اربوں روپے کے مالی نقصانات کے حوالے سے کمشنر کراچی کی سربراہی میں بنائی گئی کمیٹی کو مسترد کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ہائی کورٹ کے حاضر سروس جج کی سربراہی میں انکوائری کمیٹی بنائی جائے جس میں شہر کے اسٹیک ہولڈرز کو بھی شامل کیا جائے ،ذمہ داروں کے تعین کے لیے جے آئی ٹی تشکیل دی جائے ۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت انتہائی ضروری امر یہ ہے کہ اعلیٰ سطح پر اس امر کا جائزہ لیا جائے کہ شہر کراچی کی موجودہ ابتر حالت ، حادثات ،سانحے پر سانحے کی نوبت کیوں پہنچی اور آئندہ ایسا نہیں ہونا چاہیے ،حکومتی سطح پر افسوس اور کوتاہی کے اظہار سے اہل کراچی کے دکھوں کا مداوا اور سانحہ گل پلازہ کے متاثرین کے زخموں پر مرحم نہیں رکھا جا سکتا ، موجودہ صورتحال میں کراچی ایک بے آسرا ، یتیم اور لاوارث شہر کی منظر کشی کر رہا ہے ، شہر میں حادثات اور سانحے آئے روز جنم لے رہے ہیں ، کوئی حادثہ یا سانحہ ہوجائے تو کوئی پوچھنے اور دیکھنے والا تک نہیں ہوتا ، فائر برگیڈ کا محکمہ جو براہ ِ راست قابض میئر کے پاس ہے قابض میئر کی نا اہلی و ناکامی کی تصویر بنا ہوا ہے ، شہر میں فائر فائٹنگ کا کوئی موثر نظام عملاً شہر میںموجود نہیں، صرف 21فائر اسٹیشن ہیں جبکہ 350ہونے چاہییں ، عملے کے پاس حفاظتی لباس ، ہیلمٹ اور ماسک تک موجود نہیں جس کے باعث آگ بجھانے والے عملے کی جانوں کو بھی شدید خطرات لاحق رہتے ہیں ، اس پورے نظام کو چلانے والوں کو شرم آنی چاہیئے لیکن افسوس شرم ان کو مگر آتی نہیں ۔ سندھ میں حکومت نام کی کوئی چیز نہیں اور اداروں کے درمیان کوئی کوآر ڈی نیشن موجود نہیں ، سندھ کے وزراء بڑی بڑی گاڑیوں میں گھومنے ، شاندار دفاتر میں بیٹھنے اور صرف اجلاس کرنے ہی کو حکومت سمجھتے ہیں ، پیپلز پارٹی نے شہری اداروں سے کراچی کا نام کھرچ کھرچ کر الگ کر کے سندھ لگا دیا ہے اور تمام اداروں کو تباہ و برباد اور شہری وسائل کو اپنی کرپشن و نا اہلی کی نذر کر دیا ہے ۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سانحہ گل پلازہ کراچی کے
پڑھیں:
ایچ آئی وی کے خلاف حکومت سندھ موثر اقدامات کر رہی ہے، وزیر صحت
کراچی:صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر عذرا افضل پیچوہو نے کہا ہے کہ ایچ آئی وی کے خلاف حکومت سندھ موثر اقدامات کر رہی ہے۔
جناح اسپتال کراچی میں چوتھی انٹرنیشنل فیملی پلاننگ سمٹ کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایچ آئی وی کی بروقت تشخیص کیلئےاسکریننگ کا عمل مزید تیز کردیا گیا ہے، زیادہ سے زیادہ اسکریننگ سے ایچ آئی وی پر جلد قابو پانے میں مدد مل سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسپتالوں میں سہولیات کی بہتری کے لیے حکومت سندھ بھرپور کوششیں کر رہی ہے، ہمیں معلوم ہے مریضوں کو مشکلات کا سامنا ہے، صحت کے شعبے میں حال ہی میں نئی بھرتیاں کی گئی ہیں، مزید بھرتیوں کی طرف بھی بڑھ رہے ہیں، اسپتالوں میں سہولیات کی بہتری کے لیے مزید بھرتیوں سے مدد ملے گی۔
صوبائی وزیر صحت نے کہا کہ اسپتالوں میں میڈیا کی موجودگی کی اجازت نہیں ہوتی، میڈیا سے بات کرنے کے خواہشمند ڈاکٹر اور دیگر افراد اسپتال سے باہر آکر موقف دیں، تمام ڈاکٹرز کو میڈیا سے بات کرنے اور اپنا مؤقف دینے کی اجازت ہے۔
انہوں نے کہا کہ میڈیا اسپتال میں موجود خامیوں کی نشاندہی کرے، میڈیا کی نشاندہی سے ہی ہمیں مدد ملتی ہے، جناح اسپتال میں ڈاکٹر خالد شیر کو کہہ دیا ہے اب سے وہ میڈیا کو موقف دیں گے۔