جو کام نیتن یاہو نہ کرسکا وہ اب امن بورڈ کے نام پرشروع ہوا، علامہ ناصرعباس
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT
غزہ امن بورڈ میں شمولیت پر اپوزیشن نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں احتجاج کیا۔ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سینیٹرعلامہ راجہ ناصرعباس نے کہا کہ جو کام نیتن یاہو نہ کرسکا وہ اب امن بورڈ کے نام پرشروع ہوا۔انہوں نے کہا کہ ہم اتفاق رائے کے بغیر امن بورڈ کا حصہ بن گئے، ہمیں نہیں پتا امن بورڈ کے نکات کیا ہیں۔اس موقع پر مولانا فضل الرحمان نے کہا ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیل کی جارحیت کو تقویت اور حماس کو دھمکیاں دے رہا ہے،ہم ایسے فورم میں جارہے ہیں جس کا آغاز دھمکیوں سے ہورہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ امن بورڈ میں شمولیت کے فیصلے پر وزیراعظم نے پارلیمنٹ اور کابینہ کو اعتماد میں نہیں لیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
برآمدات بڑھانے کیلئے مؤثر اقدامات ترجیح ہیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف
وزیرِ اعظم شہباز شریف—فائل فوٹووزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ صنعتی مصنوعات کی پیداوار میں اضافے سے برآمدات بڑھانے کے لیے مؤثر پالیسی اقدامات ترجیح ہیں۔
وزیرِاعظم کی زیرِ صدارت سرمایہ کاری میں اضافے، شعبہ جاتی اصلاحات اور پالیسی اقدامات پر جائزہ اجلاس ہوا جس میں متعلقہ وزارتوں کی جانب سے مختلف زیرِغور پالیسی تجاویز پر بریفنگ دی گئی۔
اجلاس میں وفاقی وزراء اسحاق ڈار، محمد اورنگزیب، احد چیمہ، عطاء تارڑ شریک ہوئے۔
نوجوانوں کو جدید علم اور مہارتوں سے آراستہ کرنا وقت کی ضرورت ہے، اے آئی کے فوائد اور چیلنجز دونوں ہیں: شہباز شریف
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِاعظم شہباز شریف نے کہا کہ ملکی معیشت کی پائیدار ترقی کے لیے صنعت کا فروغ اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ توانائی کی ضروریات متبادل توانائی ذرائع سے پوری کرنے کے لیے بھر پور کام ہو رہا ہے۔
وزیرِ اعظم کا مزید کہنا ہے کہ توانائی بچانے اور سستی ٹرانسپورٹ کے لیے الیکٹرک وہیکلز پالیسی ضروری ہے۔
وزیرِاعظم شہباز شریف نے یہ بھی کہا کہ تمام اصلاحات اور اقدامات میں انتظامی شفافیت اور بہترین کارکردگی اولین ترجیح ہے۔