کمار سانو کی 50 کروڑ ہرجانہ کیس میں سابقہ اہلیہ کیخلاف بڑی جیت
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT
بالی ووڈ کے نامور گلوکار کمار سانو کی بڑی جیت ہوئی ہے، 50 کروڑ روپے کے ہرجانے کے مقدمے میں عدالت نے ان کی سابقہ اہلیہ کو زبان بندی کا حکم دے دیا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق کمار سانو نے اپنی سابقہ اہلیہ ریٹا بھٹاچاریہ کے خلاف 50 کروڑ روپے کے ہتکِ عزت کے مقدمے میں بڑی قانونی کامیابی حاصل کر لی ہے۔
ممبئی ہائی کورٹ نے ریٹا بھٹاچاریہ کو کمار سانو اور ان کے خاندان کے خلاف کسی بھی قسم کے توہین آمیز، جھوٹے یا متنازع بیانات دینے سے سختی سے روک دیا ہے۔
سماعت کے دوران جسٹس ملند جادھو نے ریٹا بھٹا چاریہ اور بعض آزاد میڈیا ہاؤسز کے خلاف حکم جاری کیا جس میں کہا ہے کہ وہ پرنٹ، ڈیجیٹل یا سوشل میڈیا کے کسی بھی پلیٹ فارم پر گلوکار کے خلاف کوئی بھی ایسی بات نہ لکھیں یا بولیں جس سے گلوکار کی ساکھ متاثر ہو۔
جسٹس جادھو نے ریمارکس دیے کہ ریٹا کے پچھلے انٹرویوز محض تبصرے نہیں تھے بلکہ وہ ذاتی حملوں کی حد تک چلے گئے تھے۔
دورانِ سماعت کمار سانو کی وکیل ثناء رئیس خان نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ریٹا کے حالیہ انٹرویوز نے گلوکار کو شدید مالی اور ذاتی نقصان پہنچایا ہے۔
انہوں نے عدالت سے پرانے انٹرویوز ہٹانے کی استدعا بھی کی، جس پر عدالت نے کہا کہ وہ مدعا علیہان کا جواب موصول ہونے کے بعد اس پر غور کرے گی۔
واضح رہے کہ کمار سانو نے گزشتہ سال یہ مقدمہ اس وقت دائر کیا تھا جب ریٹا بھٹا چاریہ نے مختلف پلیٹ فارمز کو دیے گئے انٹرویوز میں الزام لگایا تھا کہ کمار سانو نے دورانِ حمل ان کے ساتھ بدسلوکی کی، انہیں کھانے سے محروم رکھا اور طبی سہولتیں فراہم نہیں کیں۔
کمار سانو کی قانونی ٹیم نے ان الزامات کو جھوٹا اور بدنیتی پر مبنی قرار دیا ہے۔
مقدمے میں یہ بھی مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ 2001ء میں طلاق کے معاہدے کے تحت دونوں فریقین نے ایک دوسرے کے خلاف الزام تراشی نہ کرنے کا عہد کیا تھا اور ریٹا نے اس معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے۔
عدالت نے کیس کی اگلی سماعت 28 جنوری کو مقرر کی ہے۔
یاد رہے کہ کمار سانو اور ریٹا کی شادی 1986ء میں ہوئی تھی، تاہم 7 سال بعد 1994ء میں دونوں الگ ہو گئے تھے، ان کی طلاق 2001ء میں مکمل ہوئی تھی، ان دونوں کے 3 بیٹے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کمار سانو کی کے خلاف
پڑھیں:
سارا انعام قتل کیس: شاہنواز امیر کی اپیلوں پر سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی
---فائل فوٹواسلام آباد ہائی کورٹ نے سارا انعام قتل کیس میں سزا یافتہ مجرم شاہنواز امیر کی سزا کے خلاف اپیل اور دیگر متعلقہ اپیلوں کی سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی کر دی۔
کیس کی سماعت جسٹس خادم حسین سومرو اور جسٹس محمد آصف نے کی، مجرم کی والدہ ثمینہ شاہ کی بریت کے خلاف درخواست بھی زیرِ سماعت آئی۔
سماعت کے دوران شاہنواز امیر کی جانب سے وکیل چوہدری عبدالعزیز جبکہ مقتولہ سارا انعام کے والد کی جانب سے رضوان عباسی عدالت میں پیش ہوئے۔
جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس انعام امین منہاس نے کیس کی سماعت کی۔
جسٹس خادم حسین سومرو نے استفسار کیا کہ کیا فریقین دلائل کے لیے تیار ہیں جس پر دونوں جانب کے وکلا نے آمادگی ظاہر کی، بعد ازاں وکیل چوہدری عبدالعزیز نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے سب سے پہلے ایف آئی آر کا متن پڑھا۔
وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ اس مقدمے میں ایاز امیر ابتدا ہی میں کیس سے ڈسچارج ہو گئے تھے اور اس حکم کو کسی فورم پر چیلنج نہیں کیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ ثمینہ شاہ کو بھی ٹرائل کورٹ نے عدم شواہد کی بنیاد پر بری کیا تھا تاہم اس وقت ان کے وکیل عدالت میں موجود نہیں تھے۔
عدالت نے آئندہ تاریخ کے حوالے سے فریقین سے رائے طلب کی جس پر رضوان عباسی نے سماعت آئندہ ہفتے یا موسم گرما کی تعطیلات کے بعد مقرر کرنے کی استدعا کی۔
اسلام آباداسلام آباد کی مقامی عدالت نے سارہ...
بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی کر دی۔
واضح رہے کہ ستمبر 2022ء میں سارا انعام کو ان کے شوہر شاہنواز امیر نے قتل کر دیا تھا جبکہ ٹرائل کورٹ شاہنواز امیر کو سزائے موت سنا چکی ہے۔