مشہور پاکستانی کوہ پیماؤں محمد علی صدپارہ اور جان سنوری کی 2021 کی سردیوں میں کے ٹو سر کرنے کی کوشش کے دوران پیش آنے والے المناک حادثہ پر The Last First: Winter K2 نامی ڈاکومنٹری نے 2026 کے سانڈنس فلم فیسٹیول میں بین الاقوامی پذیرائی حاصل کی ہے۔

یہ فلم ایوارڈ یافتہ ہدایتکار عامر بار لیو کی ہدایت کاری میں بنائی گئی ہے اور دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے سب سے خطرناک موسم میں ہونے والے واقعات کو بے باکی سے دکھاتی ہے۔ فلم میں کوہ پیمائی کی دنیا کے ‘آخری عظیم انعام’ کے حصول کی کوشش کا دل دہلا دینے والا قصہ بیان کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: شاہ رُخ خان کی سالگرہ کے موقع پر 2 ہفتوں پر مبنی خصوصی فلم فیسٹول کے انعقاد کا اعلان

کہانی اس مہم پر مرکوز ہے جس میں سنوری اور والد اور بیٹے کی ٹیم علی اور ساجد صدپارہ پہلی بار کے2 کو سردیوں میں سر کرنے کی کوشش کر رہے تھے، جب پہاڑ کی حالات سب سے سخت ہوتی ہیں۔

اس موسم میں چوٹی تک پہنچنے کی دوڑ میں کئی جانیں ضائع ہوئیں اور کوہ پیمائی کی موجودہ صورتحال کے کئی مسائل سامنے آئے، جن میں کمرشل دباؤ، سوشل میڈیا کے منفی اثرات، اور کھیل میں تاریخی طور پر نمایاں ہونے والوں اور حاشیے پر رہنے والوں کے درمیان کشیدگی شامل ہیں۔

ساجد صدپارہ، جو اس حادثے سے بچ گئے اور بعد میں اپنے والد کی تلاش میں حصہ لیا، پارک سٹی میں فلم کے پریمیئر میں موجود تھے۔ انہوں نے ناظرین کے ساتھ اپنے تجربات شیئر کیے، کے ٹو پر استعمال کی گئی حکمت عملی اور اس لمحے کی تفصیل بتائی جب ان کے والد اور سنوری چوٹی سے واپس آتے ہوئے لاپتا ہو گئے۔

یہ بھی پڑھیے: اشرف صدپارہ سمیت پاکستان کے 5 کوہ پیماؤں نے نانگا پربت کو سر کرلیا

فیسٹیول کے منتظمین نے کہا کہ دی لاسٹ فرسٹ ایک ایسی دستاویزی فلم ہے جو کے ٹو  کی سردیوں میں کوہ پیمائی کے انتہائی خطرات کو اجاگر کرتی ہے۔

عامر بار لیو نے فلم کے بارے میں کہا کہ جنوری 2005 تک دنیا کے سب سے بلند 14 پہاڑ، جو 8,000 میٹر سے بلند ہیں، سردیوں میں سر کر لیے گئے تھے۔ صرف ایک پہاڑ باقی تھا، کے ٹو۔

انہوں نے مزید کہا کہ کے ٹو کو سردیوں میں سر کرنے والا پہلا شخص بننا کوہ پیمائی کی آخری بڑی ناقابلِ حصول کامیابی یعنی  دی لاسٹ فرسٹ تھا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ساجد صدپارہ علی صدپارہ کے ٹو.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ساجد صدپارہ علی صدپارہ کے ٹو کوہ پیمائی سردیوں میں

پڑھیں:

پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی

عالمی ریٹنگ ایجنسی ’ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز‘ نے پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ  -B سے بڑھا کر B کر دی ہے، جبکہ ملک کا آؤٹ لک ’اسٹیبل‘ برقرار رکھا گیا ہے۔

یہ گزشتہ 7 برسوں میں پاکستان کی بلند ترین خودمختار کریڈٹ ریٹنگ ہے، جسے ملکی معیشت کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

ریٹنگ ایجنسی کے مطابق یہ اپ گریڈ پاکستان کی بہتر ہوتی معاشی بنیادوں، ادارہ جاتی صلاحیت میں اضافے، زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری اور بیرونی معاشی استحکام کی عکاسی کرتا ہے۔

معاشی اصلاحات اور مالیاتی نظم و ضبط کو سراہا گیا

ایس اینڈ پی نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ حکومت کی جانب سے مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھنے، محصولات میں اضافے، اصلاحاتی اقدامات اور محتاط معاشی پالیسیوں نے پاکستان پر سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ کیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق مالیاتی خسارے پر قابو پانے اور ساختی اصلاحات کے تسلسل نے ملکی معیشت کے خطرات میں کمی لانے میں اہم کردار ادا کیا، جس کے باعث پاکستان کی خودمختار کریڈٹ پروفائل مزید مضبوط ہوئی ہے۔

غیر ملکی سرمایہ کاری کے امکانات روشن

ماہرین کے مطابق کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری سے پاکستان کی عالمی مالیاتی منڈیوں میں ساکھ مزید مضبوط ہوگی، جس سے غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھے گا اور ملک میں نئی سرمایہ کاری کے امکانات پیدا ہوں گے۔

اس پیش رفت سے مستقبل میں عالمی سرمایہ کاروں کے لیے پاکستانی خودمختار بانڈز میں سرمایہ کاری کی راہ بھی ہموار ہو سکتی ہے، جبکہ نجکاری کے منصوبوں میں بھی بین الاقوامی دلچسپی بڑھنے کا امکان ہے۔

عالمی مالیاتی اداروں کا اعتماد مزید مستحکم

اقتصادی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بہتر کریڈٹ ریٹنگ پاکستان کو عالمی مالیاتی اداروں، قرض دہندگان اور ترقیاتی شراکت داروں کے سامنے زیادہ مضبوط حیثیت فراہم کرے گی۔ اس کے نتیجے میں بین الاقوامی سرمایہ تک رسائی آسان ہونے اور مالیاتی اخراجات میں بہتری آنے کی توقع ہے۔

ان کے مطابق عالمی سطح پر پاکستان کی اصلاحاتی پالیسیوں کو ملنے والی پذیرائی طویل المدتی معاشی استحکام اور پائیدار ترقی کے امکانات کو بھی تقویت دیتی ہے۔

معاشی استحکام کی جانب اہم پیش رفت

ریٹنگ میں اضافے کو پاکستان کے لیے ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک کی معیشت بتدریج استحکام کی جانب بڑھ رہی ہے۔

مالیاتی نظم و ضبط، محصولات میں اضافے اور اصلاحاتی ایجنڈے پر عمل درآمد کو آئندہ بھی جاری رکھا گیا تو پاکستان کی عالمی مالیاتی درجہ بندی میں مزید بہتری کے امکانات موجود ہیں۔

واضح رہے کہ کریڈٹ ریٹنگ کسی بھی ملک کی قرض واپس کرنے کی صلاحیت اور مالیاتی اعتبار سے اس کے خطرے کی سطح کا اہم پیمانہ سمجھی جاتی ہے۔

عالمی ریٹنگ ایجنسیاں، جن میں ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز، موڈیز اور فچ ریٹنگز شامل ہیں، مختلف معاشی اشاریوں کی بنیاد پر ممالک کی ریٹنگ کا تعین کرتی ہیں۔

پاکستان کو گزشتہ چند برسوں کے دوران بلند مہنگائی، کم زرمبادلہ کے ذخائر، بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ اور مالیاتی چیلنجز کا سامنا رہا۔ تاہم حالیہ عرصے میں معاشی اصلاحات، محصولات میں اضافے، مالیاتی خسارے پر قابو پانے کی کوششوں اور زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری کے باعث عالمی مالیاتی اداروں کا اعتماد بحال ہونا شروع ہوا ہے۔

 ماہرین کے مطابق ‘B’ ریٹنگ اگرچہ سرمایہ کاری کے درجے سے اب بھی نیچے ہے، تاہم یہ پاکستان کی معاشی سمت میں بہتری اور عالمی اعتماد میں اضافے کا ایک اہم اشارہ تصور کی جا رہی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

متعلقہ مضامین

  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ