کراچی: ایک ماہ میں 3 ہزار سے زائد کتوں کے کاٹنے کے کیسز ریکارڈ
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT
کراچی میں یکم جنوری سے اب تک شہر بھر کے اسپتالوں میں کتوں کے کاٹنے کے کیسز میں شدید اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جہاں تین ہزار سے زائد افراد متاثر ہو چکے ہیں۔
انڈس اسپتال کے ترجمان کے مطابق رواں سال اب تک ان کے مختلف مراکز میں 1,300 سے زائد ڈاگ بائٹ کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔ جناح اسپتال میں اسی عرصے کے دوران 700 سے زائد متاثرین رجسٹر ہوئے، جبکہ سول اسپتال میں ایک ہزار نئے کیسز سامنے آئے ہیں۔
اسپتال حکام کے مطابق متاثرہ افراد کی بڑی تعداد روزانہ ایمرجنسی میں پہنچتی ہے، اور نجی اسپتالوں میں بھی ایسے واقعات رپورٹ ہو رہے ہیں۔ مثال کے طور پر اسٹیڈیم روڈ پر ایک نجی اسپتال میں اب تک 20 کیسز رجسٹر ہوئے، جبکہ فیڈرل بی ایریا کے ایک نجی اسپتال میں بھی اتنے ہی کیسز رپورٹ ہوئے۔
ڈاکٹر فاروق مامجی نے بتایا کہ متاثرین کو ابتدائی طبی امداد دی جاتی ہے، اور ضروری ہونے پر انہیں مزید علاج کے لیے سرکاری اسپتال منتقل کیا جاتا ہے۔
حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ کتوں کے کاٹنے کے خطرات سے بچاؤ کے اقدامات اختیار کریں اور متاثر ہونے کی صورت میں فوراً طبی امداد حاصل کریں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: اسپتال میں
پڑھیں:
راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
راولپنڈی کے تھانہ سول لائن کے علاقے گلستان کالونی میں فیکٹری کے استاد کی 14 سالہ شاگرد سے مبینہ زیادتی و انسانیت سوز سلوک کا کیس سامنے آنے پر پولیس نے مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔
پولیس کے مطابق بچے کے والد نے بتایا 14 سالہ بیٹا پلاسٹک کے دروازے کھڑکیاں بنانے والی فیکٹری میں کام سیکھ رہا ہے، جہاں اسد جہانگیر نامی شخص نے اُسے مبینہ بدفعلی کا نشانہ بنایا۔
والد کے مطابق اسد جہانگیر نے آج فون پر بتایا کہ آپکے بیٹے کی طبیعت اچانک خراب ہوگی اسکو اسپتال لے کر آئے ہیں اور ڈاکٹر بچے کے والد کو بلوا رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اسپتال پہنچا تو بیٹے نے گلے لگ کر سہمے ہوئے انداز بتایا کہ اسکے فیکٹری کے استاد اسد جہانگیر نے مبینہ زیادتی کا نشانہ بنایا اور مزید بتایا فیکٹری استاد اسد جہانگیر نے مبینہ بربریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پرائیویٹ پارٹ میں پائپ بھی ڈالتا رہا۔
پولیس نے والد کی درخواست پر مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔ ایس پی پوٹھوہار سردار بابر ممتاز کا نے کہا کہ متاثرہ لڑکے کا میڈیکل کروایا جارہا ہے جس کی رپورٹ آنے کے بعد مزید کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے متاثرہ خاندان کو یقین دہانی کرائی کہ زیر حراست شخص کو ٹھوس شواہد کے ساتھ چالان کیا جائے گا،خواتین ، بچوں سے ہراسمنٹ یا زیادتی ناقابل برداشت ہیں۔