پاک بحریہ کا گوادر سے 1500 کلومیٹر دور کھلے سمندر میں کامیاب ریسکیو آپریشن، سری لنکن عملے کو محفوظ بحالی
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT
افواج پاکستان نے گوادر سے تقریباً 1500 کلومیٹر دور کھلے سمندر میں ایک شاندار ریسکیو آپریشن انجام دیتے ہوئے سری لنکن عملے کو محفوظ بحالی فراہم کی۔
ترجمان کے مطابق یہ آپریشن سری لنکن میری ٹائم ریسکیو کوآرڈینیشن سینٹر کی درخواست پر شروع کیا گیا۔ اطلاع ملتے ہی پاک بحریہ نے اپنے جہاز پی این ایس معاون اور پی این ایس تبوک فوری طور پر امدادی کارروائی کے لیے روانہ کیے۔
پاک بحریہ کے جہازوں نے انڈونیشیا کے پرچم بردار جہاز MV Grey Palm سے بیمار سری لنکن عملے کو ریسکیو کیا اور انہیں پی این ایس تبوک پر منتقل کرکے فوری طبی امداد فراہم کی۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ ریسکیو آپریشن میں پاک بحریہ نے پیشہ ورانہ مہارت اور مربوط میری ٹائم پروٹوکولز کا بھرپور استعمال کرتے ہوئے کامیابی حاصل کی۔ پاکستان نے سری لنکن حکام اور متاثرہ اہلکار کے اہلِ خانہ کے تعاون پر شکریہ بھی ادا کیا۔
پاک بحریہ کا کہنا ہے کہ وہ سمندر میں انسانی زندگی کے تحفظ کے لیے قومیت سے بالاتر ہو کر اپنی بین الاقوامی ذمہ داریاں پورا کرتی ہے، اور یہ آپریشن اسی جذبے کی روشن مثال ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: پاک بحریہ
پڑھیں:
طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
ممبر گلگت بلتستان اسمبلی نے ایک بیان میں کہا کہ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔ اسلام ٹائمز۔ سابق اپوزیشن لیڈر و ممبر گلگت بلتستان اسمبلی کاظم میثم نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پورے گلگت بلتستان میں طوفانی سیلاب اور دریائی کٹاو سے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں، وفاقی اور صوبائی حکومت کو فوری اقدامات اٹھاتے ہوئے ریلیف اور بحالی کے لیے کام تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ سکردو میں دریائی کٹاو کے سبب سترانگلونگما کواردو اور حوطو رنگاہ کے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں۔ زرعی اراضی اور درخت دریا برد ہو رہے ہیں لیکن تاحال کوئی ہنگامی بنیادوں پر بحالی کے لیے کوئی کام نہیں ہوا ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور جی بی ڈی ایم اے کو کواردو حوطو رنگاہ اور رزسنا رنگاہ کے دریائی کٹاو روکنے کے لیے فوری اقدامات اٹھانا چاہیے۔ گزشتہ مہینے آنے والے شگریخورد میں سیلاب متاثرین کی بحالی کے بھی تاحال اقدامات نہیں اٹھائے گئے ہیں۔ جس کے سبب عوام میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ کاظم میثم نے مزید کہا کہ طوفانی سیلاب کے سبب تقریبا تمام اضلاع میں تباہ کاریاں ہوئی ہیں اور شاہراہوں کی بندش کے سبب بھی مشکلات کے شکار ہیں۔ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔