متنازع ٹوئٹس کیس: ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کو 17، 17 سال قید کی سزا سنا دی گئی
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT
اسلام آباد کی عدالت نے متنازع ٹوئٹس کیس میں معروف وکیل ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی کو مجموعی طور پر 17، 17 سال قید کی سزا سنادی۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے متنازع ٹوئٹس کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے ایڈووکیٹ ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی کو مجموعی طور پر 17، 17 سال قید اور 3 کروڑ 60 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنا دی، فیصلہ ایڈیشنل سیشن جج افضل مجوکہ نے سنایا جبکہ عدالت کی جانب سے 22 صفحات پر مشتمل تفصیلی تحریری حکم نامہ بھی جاری کر دیا گیا ہے۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ دونوں ملزمان نے سوشل میڈیا پر بے بنیاد الزامات پر مبنی ٹوئٹس کے ذریعے ریاست اور ریاستی اداروں کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی، ان ٹوئٹس کا مقصد عوام کو ریاستی اداروں کے خلاف اکسانا اور نفرت پیدا کرنا تھا، جو قانون کے تحت قابلِ تعزیر جرم ہے۔
فیصلہ سنائے جانے کے موقع پر اسپیشل پراسیکیوٹرز بیرسٹر فہد اور رانا عثمان عدالت میں موجود تھے، تاہم ایمان مزاری اور ہادی علی کی جانب سے کوئی بھی وکیل کمرۂ عدالت میں پیش نہ ہوا۔
عدالت نے پیکا ایکٹ کے مختلف سیکشنز کے تحت سزائیں سناتے ہوئے قرار دیا کہ سیکشن 9 کے تحت ایمان مزاری اور ہادی علی کو پانچ، پانچ سال قید اور 50، 50 لاکھ روپے جرمانہ ادا کرنے کا حکم دیا جاتا ہے۔
اسی طرح سیکشن 10 کے تحت دونوں کو دس، دس سال قید اور تین، تین کروڑ روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی۔ مزید برآں سیکشن 26 اے کے تحت دو، دو سال قید اور دس، دس لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا گیا۔
فیصلے کے مطابق مختلف دفعات کے تحت دی جانے والی سزاؤں کو یکجا کرتے ہوئے ایمان مزاری اور ہادی علی کو مجموعی طور پر 17، 17 سال قید اور 3 کروڑ 60 لاکھ روپے جرمانے کی سزا دی گئی ہے۔ تحریری فیصلے میں اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ اظہارِ رائے کی آزادی کے نام پر ریاستی اداروں کے خلاف منظم مہم کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔
فیصلے کے بعد گرفتاری سے بچنے کے لیے ایمان مزاری اور ان کے شوہر نے گزشتہ تین راتیں اسلام آباد ہائی کورٹ کی حدود میں گزاریں، تاہم جمعہ کی صبح عدالت کے احاطے سے نکلنے کے کچھ ہی دیر بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے دونوں کو تحویل میں لے لیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل ایمان مزاری اور ہادی سال قید اور ہادی علی کو لاکھ روپے کی سزا کے تحت
پڑھیں:
حیسکو میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف
فائل فوٹوپبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف ہوا ہے۔
آڈٹ رپورٹ کے مطابق حیسکو کے ڈی ڈی او، ایکسیئن اور سی ایف او آفس کی ملی بھگت سے خرد برد کی گئی۔
سی ای او حیسکو کے مطابق اس کیس میں چار ملازمین کو برطرف کیا جا چکا ہے۔ تین اکاؤنٹس افسران، ایک فنانس افسر کو نوکری سے نکالا گیا۔
ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ اس کیس کے 5 مقدمات درج کیے گئے، 130 سے زائد افراد ملوث تھے، اب تک صرف 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔