کابینہ نے غزہ بورڈ آف پیس میں شمولیت کا اختیار دیا، وزیراعظم
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان کو بورڈ آف پیس میں شمولیت کی دعوت دی گئی جس پر کابینہ نے شمولیت کا اختیار دیا۔
لندن میں ہائی کمیشن سے روانگی کے بعد میڈیا سے غیر رسمی گفتگو میں وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کو بورڈ آف پیس میں شمولیت کی دعوت دی گئی تھی پھر اس معاملے کو کابینہ میں رکھا گیا تو کابینہ نے شمولیت کا اختیار دیا۔
انہوں نے کہا کہ امید ہے بورڈ آف پیس کے بعد غزہ میں جلد امن قائم ہوگا اور فلسطینیوں کو عزت و وقار کے ساتھ اُن کے حقوق ملیں گے۔
وزیراعظم نے کہا کہ ڈیووس کا دورہ انتہائی اچھا رہا، ٹرمپ نے پاکستان کیلیے نیک خواہشات کا اظہار کیا جبکہ میں نے جنگ رکوانے پر ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا۔
مزید پڑھیںغزہ پر اختیار صرف فلسطینیوں کا ہے؛ اسپین کا ٹرمپ کے بورڈ آف پیس میں شمولیت سے انکار
انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کی مینجنگ ڈائریکٹر کے ساتھ ملاقات شاندار رہی اور انہوں نے پاکستان کی معاشی اصلاحات کو سراہا ہے۔
قبل ازیں وزیراعظم شہباز شریف کی پاکستان ہائی کمیشن آمد ہوئی جہاں اُن کے ساتھ کرپٹو کونسل پاکستان کے سی ای او بلال بن ثاقب بھی تھے۔
ہائی کمیشن میں بزنس کمیونٹی اورڈیجیٹل کرنسی اور بلاک چین کے ماہرین سے وزیراعظم اور بلال بن ثاقب کی میٹنگ ہوئی، سابق ایم پی اے ڈاکٹر اشرف چوہان بھی میٹنگ کا حصہ تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بورڈ ا ف پیس میں شمولیت نے کہا کہ
پڑھیں:
ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
ایرانی سفیر رضا امیری مقدم(فائل فوٹو)۔پاکستان میں متعین ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا کہ ٹرمپ کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ میناب میں اسکول اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، امریکا اور اسرائیل کو 40 روزہ جنگ کے بعد شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے مزید کہا کہ مذاکرات کے حوالے پاکستان ثالث کے طور پر ابھرا، ہم مذاکرات میں اس لیے آئے کہ ہماری نیت ہے، ٹرمپ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔
ایرانی سفیر نے کہا ہمارے رہبر اعلیٰ نے فتویٰ دیا ہوا ہے کہ ہم ایٹمی ہتھیاروں کو حرام سمجھتے ہیں، مذاکرات کی میز پر امریکی کہتے ہیں آپ یورینیم بھی افزودہ نہیں کرسکتے۔
رضا امیری مقدم نے کہا کہ ایٹمی ہتھیاروں اور پرامن مقاصد کیلئے یورینیم افزودہ کرنا الگ ہے، امریکا اور مغرب کے سامنے ایران کبھی نہیں جھکے گا۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ ٹرمپ صبح سے شام تک دیوانوں کی طرح باتیں کرتے رہتے ہیں، ان کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔