افغانستان؛ برفباری اور خون جما دینے والی سردی میں 61 ہلاکتیں؛ 100 سے زائد زخمی
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT
افغانستان کے مختلف علاقوں میں تین روز سے جاری شدید بارشوں اور برفباری نے موسم کو یخ بستہ بنا دیا جس نے ناقص حکومتی کارکردگی کے باعث خوفناک انسانی المیے کو جنم دیا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق افغانستان میں گزشتہ تین روز میں کم از کم 61 افراد جان سے چلے گئے اور 110 سے زائد زخمی ہوگئے ہیں۔
حکام نے مزیدجانی و مالی نقصان کی پیش گوئی بھی کی ہے کیوں کہ کئی علاقوں میں مسلسل بارشوں اور برف باری کا سلسلہ جاری ہے۔
بارشوں اور برفباری میں تقریباً 458 مکانات تباہ ہو گئے۔ درجنوں پالتو جانوروں کی ہلاکت کی بھی اطلاع ہے جب کہ کئی سو ہیکٹر پر کھڑی فصلیں بھی تباہ ہوگئیں۔
یہ اعداد و شمار افغانستان نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی نے بدھ سے جمعہ تک ملک کے مختلف علاقوں سے جمع کیے ہیں۔ جن میں دور افتادہ علاقے شامل نہیں ہیں جہاں راستے مسدود ہوچکے ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ زیادہ تر ہلاکتیں چھتوں کے گرنے سے ہوئی ہوئیں جب کہ کچھ علاقوں میں برفانی تودے گرنے سے ہلاکتیں ہوئیں۔
صفر سے نیچے درجہ حرارت نے بزرگ افراد کو صحت کے شدید مسائل میں مبتلا کیا اور اس میں کئی اپنی جانوں سے گئے۔
برفباری نے نقل و حمل کو شدید متاثر کیا ہے بالخصوص شمالی علاقوں اور دور دراز گاؤں تک رسائی ناممکن ہو گئی ہے۔ امدادی ٹیموں کو پہنچنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔
طالبان حکام نے شہریوں سے غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔ دور دراز علاقوں میں پھنسے افراد کو راشن اور ضروری سامان بھی تقسیم کیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: علاقوں میں
پڑھیں:
طالبان نے خواتین و بچوں کی فلاحی تنظیم کا دفتر سیل کر دیا، 6 اہلکار لاپتا
افغانستان کے دارالحکومت کابل میں طالبان حکام نے خواتین اور بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی ویمن اینڈ چلڈرن لیگل ریسرچ فاؤنڈیشن کے دفتر پر چھاپہ مار کر تنظیم کے 6 ملازمین کو حراست میں لے لیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، کارروائی کے دوران طالبان اہلکاروں نے تنظیم کے کمپیوٹرز، دستاویزات اور دیگر دفتری سامان بھی قبضے میں لے لیا۔
یہ بھی پڑھیں: افغانستان: طالبان حکومت کا ایک اور متنازع فیصلہ، خواتین کو صحت کی تعلیم سے روکنے کا حکم
تاہم اب تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ گرفتار کیے گئے ملازمین کو کہاں منتقل کیا گیا ہے اور ان کی موجودہ حالت کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق گرفتار ہونے والوں میں 2 افراد تنظیم کی سربراہ زرقا یفتلی کے قریبی رشتہ دار ہیں، جو اس وقت افغانستان سے باہر مقیم ہیں۔
Sources in Kabul told Afghanistan International on Wednesday that Taliban agents raided the office of the Women and Children Legal Research Foundation (WCLRF) earlier this week and detained six staff members.https://t.co/ly2WtJb202 pic.twitter.com/fQ8qbUdHiN
— Afghanistan International English (@AFIntl_En) July 23, 2026
زرقا یفتلی خواتین کے حقوق کی معروف کارکن ہیں اور گزشتہ سال انہیں متحدہ عرب امارات کی جانب سے 2026 زاید ایوارڈ فار ہیومن فریٹرنٹی سے نوازا گیا تھا۔
ذرائع کے مطابق زیرِ حراست افراد کے اہلِ خانہ نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے طالبان حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے عزیزوں کی حراست کی جگہ، قانونی حیثیت اور صحت کے بارے میں فوری طور پر آگاہ کیا جائے۔
مزید پڑھیں: کرکٹ اسٹارز سے ملاقاتوں اور لباس کے معاملے پر طالبان رہنماؤں میں اختلافات بڑھ گئے
ویمن اینڈ چلڈرن لیگل ریسرچ فاؤنڈیشن تعلیم، خواتین اور بچوں کے حقوق کی وکالت، تحقیقی سرگرمیوں اور تحقیقاتی رپورٹس کی تیاری کے شعبوں میں کام کرتی رہی ہے۔
طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد افغانستان میں سول سوسائٹی کی متعدد تنظیموں، خصوصاً خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے اداروں، پر سخت پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔
اس عرصے کے دوران کئی سماجی کارکنوں کو حراست میں لیا گیا، جبکہ متعدد تنظیمیں اپنی سرگرمیاں محدود کرنے یا مکمل طور پر بند کرنے پر مجبور ہو چکی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
افغانستان سول سوسائٹی طالبان فلاحی تنظیم کابل کمپیوٹرز متحدہ عرب امارات ویمن اینڈ چلڈرن لیگل ریسرچ فاؤنڈیشن