Islam Times:
2026-07-24@05:19:40 GMT

سی آئی اے کا اعتراف

اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT

سی آئی اے کا اعتراف

اسلام ٹائمز: جانسن نے دعویٰ کیا کہ جنگ سے پہلے ایران کے پاس جدید S-400 دفاعی نظام نہیں تھا، لیکن اب ہے۔ سی آئی اے کے ریٹائرڈ افسر نے مزید کہا کہ ایران کی دفاعی صلاحیتوں میں "بہت زیادہ اضافہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جنگ کے خاتمے کے دو دن بعد ایران نے چین اور روس کے ساتھ وسیع رابطے قائم کیے اور ان ممالک کے فوجی حکام نے ایک دوسرے سے کئی ملاقاتیں کیں۔ لیری جانسن نے کہا: "ایران نے اپنی دفاعی صلاحیتیں دوبارہ حاصل کر لی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ صرف اپنی صلاحیتوں کو دوبارہ بنانے کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ اب ایران نے ایسی عملی صلاحیتیں حاصل کرلی ہیں، جو 13 جون (12 روزہ جنگ کے آغاز) سے پہلے اس کے پاس نہیں تھیں۔ تحریر: محمد رضا جعفری

سی آئی اے کے ایک سابق افسر نے ایران کی دفاعی طاقت میں نمایاں مضبوطی کا اعتراف کیا ہے۔ سی آئی اے کے ریٹائرڈ افسر لیری جانسن نے اس بات پر زور دیا کہ ایران نے نہ صرف اپنی دفاعی صلاحیتیں دوبارہ حاصل کی ہیں، بلکہ 12 روزہ جنگ کے دوران سے کہیں زیادہ مضبوط ہوگیا ہے۔ ماریو نوفل کے ساتھ ایک انٹرویو میں لیری جانسن نے ایران میں حالیہ بدامنی اور تہران کے خلاف امریکی حکام کی جانب سے نئی دھمکیوں کا جائزہ لیا ہے۔ اس انٹرویو میں، جو جمعہ کو X سوشل نیٹ ورک پر نوفل کے صفحے پر شائع ہوا تھا، سی آئی اے کے ریٹائرڈ افسر نے ایران میں حکومت کی تبدیلی کی ابتدائی کوششوں کو "سی آئی اے، موساد اور MI6 کے درمیان ایک مشترکہ انٹیلی جنس آپریشن" قرار دیا، جس کی منصوبہ بندی "ایک طویل عرصہ پہلے" کی گئی تھی اور اس کا ایران میں حالیہ معاشی مظاہروں سے کوئی تعلق نہیں تھا۔

جانسن نے کہا کہ جنوری کے اوائل میں ایرانی قومی کرنسی کی قدر کو لگنے والا دھچکا نہ صرف پابندیوں سے متعلق تھا بلکہ یہ "امریکی انٹیلی جنس  کے اقدامات کا نتیجہ تھا۔ حالیہ بدامنی کے دوران جس کا اعتراف امریکی اور اسرائیلی سیاسی اور میڈیا شخصیات نے کیا ہے کہ وہ غیر ملکی ایجنٹوں بالخصوص صیہونی حکومت کے زیرانتظام انجام پایا ہے اور یہ ایک مسلح کارروائی تھی، جس میں دو ہزار سے زائد ایرانی شہید اور متعدد زخمی ہوئے۔ سی آئی اے کے ریٹائرڈ افسر نے مزید کہا کہ ریال کی قدر میں کمی سے چند ہفتے پہلے، "اسٹار لنک سیٹلائٹ اور خطرناک ہتھیار ایران میں سمگل کیے گئے۔ ایران میں قتل عام کے منصوبے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ احتجاج کے آغاز کے ساتھ ہی یوکرین میں "یورومیدان" کے مظاہروں جیسا تجربہ کیا گیا اور لوگوں نے "مظاہرین کو قتل کرکے کشیدگی بڑھانے کی کوشش کی۔

جانسن نے مزید کہا کہ انٹرنیٹ بند ہونے کے بعد سٹار لنک سیٹلائٹس کو بھی بند کر دیا گیا اور اس کے بعد ملک کی خود مختاری کی حمایت میں "لاکھوں لوگوں" نے مارچ کیا۔ سابق سی آئی اے افسر کے بقول، انٹرنیٹ کے بند ہونے پر غور کرنا ایک دلچسپ امر ہوگا۔ سابق سی آئی اے افسر نے زور دے کر کہا کہ "مغربی پروپیگنڈے کے برعکس، ایران نے کبھی بھی کسی دوسرے ملک پر حملہ نہیں کیا۔" مظاہرین کے ساتھ سلوک کے بارے میں میڈیا کے جھوٹ کا حوالہ دیتے ہوئے، انہوں نے زور دے کر کہا کہ ہلاکتوں اور ان کے خلاف تشدد کی تعداد کے بارے میں اکثر اعداد و شمار اور معلومات غلط ہیں۔ جانسن نے ایران اور وینزویلا میں روسی دفاعی نظام کی کارکردگی کے بارے میں میزبان کے سوال کے جواب میں یہ بھی کہا کہ وینزویلا میں دفاع کو "اسٹینڈل آرڈر" دیا گیا ہے۔ جانسن نے وضاحت کی کہ  "میں جانتا ہوں کہ  وہاں کیا حکم دیا گیا تھا۔ میں ایک ایسے شخص سے رابطے میں تھا، جو کسی ایسے شخص سے رابطے میں تھا، جس کو وینزویلا کے ایک سینیئر فوجی اہلکار کی طرف سے باقاعدہ پلان ملا تھا۔

12 روزہ جنگ کے دوران ایران میں روسی دفاعی آپریشن کے بارے میں، انہوں نے مزید کہا کہ "ملک میں واحد S-400 سسٹم جنوب مغربی ایران میں ایک جوہری پاور پلانٹ میں تھا۔۔۔۔ اس مقام کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔ جانسن نے دعویٰ کیا کہ جنگ سے پہلے ایران کے پاس جدید S-400 دفاعی نظام نہیں تھا، لیکن اب ہے۔ سی آئی اے کے ریٹائرڈ افسر نے مزید کہا کہ ایران کی دفاعی صلاحیتوں میں "بہت زیادہ اضافہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جنگ کے خاتمے کے دو دن بعد ایران نے چین اور روس کے ساتھ وسیع رابطے قائم کیے اور ان ممالک کے فوجی حکام نے ایک دوسرے سے کئی ملاقاتیں کیں۔ لیری جانسن نے کہا: "ایران نے اپنی دفاعی صلاحیتیں دوبارہ حاصل کر لی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ صرف اپنی صلاحیتوں کو دوبارہ بنانے کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ اب ایران نے ایسی عملی صلاحیتیں حاصل کرلی ہیں، جو 13 جون (12 روزہ جنگ کے آغاز) سے پہلے اس کے پاس نہیں تھیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: نے مزید کہا کہ لیری جانسن نے روزہ جنگ کے کے بارے میں کیا کہ جنگ ایران میں ایران نے نے ایران انہوں نے کے ساتھ سے پہلے کے پاس نے کہا گیا ہے

پڑھیں:

امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور

امریکا کے ریپبلکن اکثریتی ایوان نمائندگان (ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز) نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیاں روکنے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کر لی جسے کانگریس کی جانب سے صدر ٹرمپ کے لیے ایک اور علامتی پیغام قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: آبنائے ہرمز میں کسی بھی جہاز پر حملہ ہوا تو ایران کا بنیادی ڈھانچہ تباہ کردیں گے، ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی

قرارداد 214 کے مقابلے میں 208 ووٹوں سے منظور ہوئی جبکہ چار ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیتے ہوئے اس کی حمایت کی۔

یہ قرارداد واشنگٹن سے تعلق رکھنے والی ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال نے پیش کی جس میں صدر ٹرمپ کو ہدایت دی گئی ہے کہ کانگریس کی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف امریکی مسلح افواج کی کارروائیاں بند کی جائیں۔

تاہم ماہرین کے مطابق اس قرارداد کی حیثیت زیادہ تر علامتی ہے، کیونکہ حالیہ مہینوں میں بھی کانگریس اس نوعیت کی متعدد قراردادیں منظور کر چکی ہے مگر ان کے نتیجے میں جنگی کارروائیاں نہیں رک سکیں۔

مزید پڑھیے: ایران مذاکرات کے لیے بے تاب، لیکن بامعنی بات چیت ہی ہوگی، ڈونلڈ ٹرمپ

قرارداد کی حمایت کرنے والے چار ریپبلکن ارکان میں ٹام بیریٹ (مشی گن)، برائن فٹزپیٹرک (پنسلوانیا)، وارن ڈیوڈسن (اوہائیو) اور تھامس میسی (کینٹکی) شامل ہیں۔

Today, the House PASSED my bipartisan War Powers Resolution to end the war in Iran by a vote of 214-208.

This is a big victory for the vast majority of Americans who want President Trump to end this illegal war and focus on their lives right here at home. pic.twitter.com/ZaE3NtTJdP

— Rep. Pramila Jayapal (@RepJayapal) July 23, 2026

اگرچہ ریپبلکن پارٹی کو ایوان نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں معمولی برتری حاصل ہے تاہم اس قرارداد کی منظوری کو صدر ٹرمپ کی پالیسیوں پر اپنی ہی جماعت کے بعض ارکان کے تحفظات کی علامت بھی قرار دیا جا رہا ہے۔

ادھر امریکی سینیٹ میں بھی ایران سے متعلق ایک علیحدہ مگر ملتی جلتی قرارداد پر ووٹنگ متوقع تھی۔

یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں مزید شدت لانے کا اعلان کیا ہے اور امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کی بھی تصدیق کی ہے۔

مزید پڑھیں: ایران کو ایک امریکی فوجی کے قتل کی کئی گنا زیادہ قیمت چکانی پڑےگی، ڈونلڈ ٹرمپ کی تہران کو وارننگ

صدر ٹرمپ نے جمعرات کو ایران اور اس کے اتحادی یمنی حوثی گروپ کو بڑی فوجی سزا دینے کا عندیہ دیا۔ دوسری جانب، عارضی جنگ بندی کے مؤثر طور پر ختم ہونے کے 2 ہفتے بعد امریکی فوج نے ایران پر ایک اور رات فضائی حملے کیے، جس کے جواب میں ایران نے پڑوسی ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکا امریکی ایوان نمائندگان ایران امریکا کشیدگی ٹرمپ کو جنگ روکنے کی ہدایت ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز

متعلقہ مضامین

  • ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی