اسلام ٹائمز: جانسن نے دعویٰ کیا کہ جنگ سے پہلے ایران کے پاس جدید S-400 دفاعی نظام نہیں تھا، لیکن اب ہے۔ سی آئی اے کے ریٹائرڈ افسر نے مزید کہا کہ ایران کی دفاعی صلاحیتوں میں "بہت زیادہ اضافہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جنگ کے خاتمے کے دو دن بعد ایران نے چین اور روس کے ساتھ وسیع رابطے قائم کیے اور ان ممالک کے فوجی حکام نے ایک دوسرے سے کئی ملاقاتیں کیں۔ لیری جانسن نے کہا: "ایران نے اپنی دفاعی صلاحیتیں دوبارہ حاصل کر لی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ صرف اپنی صلاحیتوں کو دوبارہ بنانے کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ اب ایران نے ایسی عملی صلاحیتیں حاصل کرلی ہیں، جو 13 جون (12 روزہ جنگ کے آغاز) سے پہلے اس کے پاس نہیں تھیں۔ تحریر: محمد رضا جعفری
سی آئی اے کے ایک سابق افسر نے ایران کی دفاعی طاقت میں نمایاں مضبوطی کا اعتراف کیا ہے۔ سی آئی اے کے ریٹائرڈ افسر لیری جانسن نے اس بات پر زور دیا کہ ایران نے نہ صرف اپنی دفاعی صلاحیتیں دوبارہ حاصل کی ہیں، بلکہ 12 روزہ جنگ کے دوران سے کہیں زیادہ مضبوط ہوگیا ہے۔ ماریو نوفل کے ساتھ ایک انٹرویو میں لیری جانسن نے ایران میں حالیہ بدامنی اور تہران کے خلاف امریکی حکام کی جانب سے نئی دھمکیوں کا جائزہ لیا ہے۔ اس انٹرویو میں، جو جمعہ کو X سوشل نیٹ ورک پر نوفل کے صفحے پر شائع ہوا تھا، سی آئی اے کے ریٹائرڈ افسر نے ایران میں حکومت کی تبدیلی کی ابتدائی کوششوں کو "سی آئی اے، موساد اور MI6 کے درمیان ایک مشترکہ انٹیلی جنس آپریشن" قرار دیا، جس کی منصوبہ بندی "ایک طویل عرصہ پہلے" کی گئی تھی اور اس کا ایران میں حالیہ معاشی مظاہروں سے کوئی تعلق نہیں تھا۔
جانسن نے کہا کہ جنوری کے اوائل میں ایرانی قومی کرنسی کی قدر کو لگنے والا دھچکا نہ صرف پابندیوں سے متعلق تھا بلکہ یہ "امریکی انٹیلی جنس کے اقدامات کا نتیجہ تھا۔ حالیہ بدامنی کے دوران جس کا اعتراف امریکی اور اسرائیلی سیاسی اور میڈیا شخصیات نے کیا ہے کہ وہ غیر ملکی ایجنٹوں بالخصوص صیہونی حکومت کے زیرانتظام انجام پایا ہے اور یہ ایک مسلح کارروائی تھی، جس میں دو ہزار سے زائد ایرانی شہید اور متعدد زخمی ہوئے۔ سی آئی اے کے ریٹائرڈ افسر نے مزید کہا کہ ریال کی قدر میں کمی سے چند ہفتے پہلے، "اسٹار لنک سیٹلائٹ اور خطرناک ہتھیار ایران میں سمگل کیے گئے۔ ایران میں قتل عام کے منصوبے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ احتجاج کے آغاز کے ساتھ ہی یوکرین میں "یورومیدان" کے مظاہروں جیسا تجربہ کیا گیا اور لوگوں نے "مظاہرین کو قتل کرکے کشیدگی بڑھانے کی کوشش کی۔
جانسن نے مزید کہا کہ انٹرنیٹ بند ہونے کے بعد سٹار لنک سیٹلائٹس کو بھی بند کر دیا گیا اور اس کے بعد ملک کی خود مختاری کی حمایت میں "لاکھوں لوگوں" نے مارچ کیا۔ سابق سی آئی اے افسر کے بقول، انٹرنیٹ کے بند ہونے پر غور کرنا ایک دلچسپ امر ہوگا۔ سابق سی آئی اے افسر نے زور دے کر کہا کہ "مغربی پروپیگنڈے کے برعکس، ایران نے کبھی بھی کسی دوسرے ملک پر حملہ نہیں کیا۔" مظاہرین کے ساتھ سلوک کے بارے میں میڈیا کے جھوٹ کا حوالہ دیتے ہوئے، انہوں نے زور دے کر کہا کہ ہلاکتوں اور ان کے خلاف تشدد کی تعداد کے بارے میں اکثر اعداد و شمار اور معلومات غلط ہیں۔ جانسن نے ایران اور وینزویلا میں روسی دفاعی نظام کی کارکردگی کے بارے میں میزبان کے سوال کے جواب میں یہ بھی کہا کہ وینزویلا میں دفاع کو "اسٹینڈل آرڈر" دیا گیا ہے۔ جانسن نے وضاحت کی کہ "میں جانتا ہوں کہ وہاں کیا حکم دیا گیا تھا۔ میں ایک ایسے شخص سے رابطے میں تھا، جو کسی ایسے شخص سے رابطے میں تھا، جس کو وینزویلا کے ایک سینیئر فوجی اہلکار کی طرف سے باقاعدہ پلان ملا تھا۔
12 روزہ جنگ کے دوران ایران میں روسی دفاعی آپریشن کے بارے میں، انہوں نے مزید کہا کہ "ملک میں واحد S-400 سسٹم جنوب مغربی ایران میں ایک جوہری پاور پلانٹ میں تھا۔۔۔۔ اس مقام کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔ جانسن نے دعویٰ کیا کہ جنگ سے پہلے ایران کے پاس جدید S-400 دفاعی نظام نہیں تھا، لیکن اب ہے۔ سی آئی اے کے ریٹائرڈ افسر نے مزید کہا کہ ایران کی دفاعی صلاحیتوں میں "بہت زیادہ اضافہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جنگ کے خاتمے کے دو دن بعد ایران نے چین اور روس کے ساتھ وسیع رابطے قائم کیے اور ان ممالک کے فوجی حکام نے ایک دوسرے سے کئی ملاقاتیں کیں۔ لیری جانسن نے کہا: "ایران نے اپنی دفاعی صلاحیتیں دوبارہ حاصل کر لی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ صرف اپنی صلاحیتوں کو دوبارہ بنانے کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ اب ایران نے ایسی عملی صلاحیتیں حاصل کرلی ہیں، جو 13 جون (12 روزہ جنگ کے آغاز) سے پہلے اس کے پاس نہیں تھیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: نے مزید کہا کہ لیری جانسن نے روزہ جنگ کے کے بارے میں کیا کہ جنگ ایران میں ایران نے نے ایران انہوں نے کے ساتھ سے پہلے کے پاس نے کہا گیا ہے
پڑھیں:
امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے خاتمے سے متعلق خبروں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں غلط اور گمراہ کن قرار دیا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ یہ اطلاعات درست نہیں ہیں کہ ایران اور امریکا نے چند روز قبل ایک دوسرے سے بات چیت بند کردی ہے۔
ان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان رابطے اور گفتگو کا سلسلہ مسلسل جاری ہے، اور آج بھی بات چیت ہوئی ہے۔
انہوں نے کہاکہ ان مذاکرات کا انجام کیا ہوگا، اس حوالے سے کوئی کچھ نہیں جانتا، تاہم ایران کو واضح پیغام دیا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ کسی نہ کسی صورت ایک معاہدہ کیا جائے۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران گزشتہ 47 برس سے اسی طرز پر معاملات چلا رہا ہے اور یہ صورتحال مزید جاری نہیں رہ سکتی۔
واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی بدستور برقرار ہے، اور پاکستان دونوں ممالک میں معاہدہ کرانے کے لیے بھرپور سفارتکاری کررہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews امریکا ایران مذاکرات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ معاہدہ وی نیوز