امریکا کی بلند رہائشی عمارت میں خوفناک آتشزدگی
اشاعت کی تاریخ: 25th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
نیویارک (مانیٹرنگ ڈیسک) نیویارک کے علاقے برونکسمیں ایک 17 منزلہ رہائشی عمارت میں شدید آگ بھڑک اْٹھی جس نے اوپری 2 منزلوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ تفصیلات کے مطابق آگ کی شدت کو 4 درجے پر رکھا گیا ہے۔ آگ برونکس کے ایک بلند رہائشی ٹاور میں پھیلی جس نے کئی اپارٹمنٹس کو لپیٹ میں لے لیا۔ 200 سے زاید فائر فائٹرز اور ایمرجنسی عملے نے موقع پر پہنچ کر آگ پر قابو پایا۔ ابھی تک آگ لگنے کی وجہ یا ممکنہ وجہ واضح نہیں ہوئی ہے اور تحقیقات جاری ہیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق کسی کے زخمی یا ہلاک ہونے کی تصدیق فوری طور پر نہیں ہوئی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
واشنگٹن:مشرق وسطیٰ میں ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران امریکہ کے خام تیل کے ذخائر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جس نے ملکی توانائی کے تحفظ سے متعلق نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
بینک آف امریکا کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت امریکہ کے پاس خام تیل کا ذخیرہ صرف 43 روز کی ضروریات پوری کرنے کے لیے باقی رہ گیا ہے۔
یہ صورت حال جولائی 1983 کے بعد پہلی مرتبہ سامنے آئی ہے جسے توانائی کے شعبے کے لیے غیر معمولی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے تازہ ڈیٹا کے مطابق 10 جولائی تک ملک کے کمرشل خام تیل کے ذخائر کم ہو کر 409.7 ملین بیرل رہ گئے، جو گزشتہ پانچ برس کی اوسط کے مقابلے میں تقریباً 6 فیصد کم ہیں۔
ادھر امریکی اسٹریٹیجک پیٹرولیم ریزرو بھی مسلسل دباؤ کا شکار ہے۔ 18 جولائی تک اس کا حجم گھٹ کر 316.5 ملین بیرل رہ گیا، جو اپریل 1983 کے بعد کی سب سے کم سطح ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق کمرشل اور اسٹریٹیجک ذخائر کو ملا کر امریکہ کے مجموعی خام تیل کے ذخائر تقریباً 730.8 ملین بیرل رہ گئے ہیں جو گزشتہ چار دہائیوں کی کم ترین سطحوں میں شمار کیے جا رہے ہیں۔