data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد: وفاقی حکومت کا کراچی میں اکنامک زون قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اپنے بیان میں ترجمان حکومت پاکستان برائے سندھ بیرسٹر راجہ خلیق الزماں انصاری نے کہا ہے کہ وفاق نے سندھ میں تعلیمی اور معاشی ترقی کے بڑے منصوبے شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے، وفاقی حکومت سندھ میں تعلیمی اور معاشی ترقی کے فروغ کے لیے اہم اور دور رس منصوبے شروع کرنے جا رہی ہے۔

انہوںنے کہا کہ یہ دانش اسکول جدید تعلیمی سہولیات سے آراستہ ہوں گے اور بالخصوص پسماندہ و کم وسائل رکھنے والے علاقوں کے بچوں کو معیاری تعلیم کی فراہمی میں اہم کردار ادا کریں گے۔

ترجمان نے کہا کہ وفاقی حکومت کراچی کے ضلع ملیر میں ایک اکنامک زون بھی قائم کرنے جارہی ہے جس سے صنعتی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا، روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور مقامی معیشت کو مستحکم بنانے میں مدد ملے گی۔

ترجمان نے کہا کہ وفاقی حکومت وزیرِاعظم شہباز شریف کی قیادت میں سندھ کی ترقی، نوجوانوں کے روشن مستقبل اور معاشی خود کفالت کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے، تعلیم اور صنعت کے یہ منصوبے نہ صرف سندھ بلکہ پورے پاکستان کی ترقی میں اہم سنگِ میل ثابت ہوں گے۔

ترجمان نے واضح کیا کہ وفاق سندھ کے عوام کے ساتھ کھڑا ہے اور ترقیاتی منصوبوں میں کسی قسم کی تفریق کے بغیر تمام علاقوں کو شامل کیا جا رہا ہے تاکہ حقیقی معنوں میں عوام کو ریلیف اور خوشحالی میسر آسکے۔

ویب ڈیسک عادل سلطان.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: وفاقی حکومت نے کہا

پڑھیں:

سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان

مزمل حسین ہالیپوٹو کی نااہلی کے باعث کراچی کا بنیادی ڈھانچہ شدید دباؤ کا شکار
پی ای سی ایچ ایس بلاک 2میں رہائشی پلاٹ پر کمرشل یونٹس تعمیر، آصف شیخ ملوث

شہر قائد میں رہائشی علاقوں میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے ، جس کے باعث شہر کا بنیادی ڈھانچہ شدید متاثر ہو رہا ہے ۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل مزمل حسین ہالیپوٹو کی ناقص نگرانی اور انتظامی کمزوریوں کے سبب رہائشی پلاٹوں پر کمرشل پورشن اور یونٹس کی تعمیرات میں مسلسل دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے ۔تازہ معاملہ پی ای سی ایچ ایس بلاک 2کے پلاٹ نمبر 40-K/40Mکا سامنے آیا ہے ، جہاں مقامی ذرائع کے مطابق رہائشی حیثیت رکھنے والی اراضی پر کمرشل سرگرمیوں اور یونٹس کے قیام کے ذریعے مبینہ طور پر قبضے کیے گئے ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ تمام سرگرمیاں آصف شیخ کی سربراہی میں انجام دی جا رہی ہیں، جبکہ متعلقہ ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔شہریوں اور سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ غیر قانونی تعمیرات اور کمرشلائزیشن کے خلاف فوری کارروائی کی جائے ، ذمہ دار افسران کا احتساب کیا جائے اور کراچی کے متاثرہ انفراسٹرکچر کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائے جائیں۔

متعلقہ مضامین

  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • کراچی میں فائرنگ سے باپ اور نوجوان بیٹا جاں بحق
  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، معیشت کی مجموعی ترقی اور پالیسی اقدامات پر جائزہ
  • کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
  • طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ