ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں ٹیم بھیجنے کا فیصلہ وزیراعظم کی مشاورت کے بعد ہوگا: محسن نقوی
اشاعت کی تاریخ: 25th, January 2026 GMT
پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیئر مین محسن نقوی کا کہنا ہے کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں ٹیم بھیجنے کا فیصلہ وزیراعظم کی مشاورت کے بعد ہوگا۔ پی سی بی آئی سی سی کے دوہرے معیار کو مسترد کرتا ہے۔ ہم نے کرکٹ کے سنہری اصولوں کو مدنظر رکھ کر بنگلا دیش کی حمایت کی۔
کھلاڑیوں سے گفتگو میں کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی حکومت جو فیصلہ کرے گی اسے من و عن عمل کریں گے۔ سیاست زدہ کرکٹ کسی کے مفاد میں نہیں۔ سب کو کرکٹ کے اصولوں پر چلنا چاہیے۔
سربراہ پی سی بی نے کہا کہ ہمارے کھلاڑی با صلاحیت اور ہر لحاظ سے مقابلہ کرنا جانتے ہیں۔کسی بھی میدان میں کامیابی ٹیم ورک سے حاصل ہوتی ہے ۔
محسن نقوی کی کل وزیراعظم سے بھی ملاقات متوقع ہے جس میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سے متعلق مشاورت ہوگی۔
اس متعلق محسن نقوی کا کہنا تھا کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں ٹیم بھیجنے کا فیصلہ وزیراعظم کی مشاورت کے بعد ہوگا۔
کھلاڑیوں نے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ ہم سب پی سی بی کے اصولی موقف کے ساتھ ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ محسن نقوی پی سی بی میں ٹی
پڑھیں:
علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی
ملاقات میں امتِ مسلمہ کے اتحاد، موجودہ حالات میں قومی و ملی ذمہ داریوں اور پروگرام کی تیاری و اہداف پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ مزید برآں علامہ سید جواد نقوی نے 13 جون مینارِ پاکستان ’’شہیدِ اُمت کانفرنس‘‘ میں شرکت اور تعاون کی دعوت بھی پیش کی اور اس پروگرام کو ملتِ اسلامیہ کے اتحاد، بیداری اور استقامت کا اہم ذریعہ قرار دیا۔ اسلام ٹائمز۔ تحریک بیداری امت مصطفیٰ کے سربراہ اور اتحاد امت فورم کے رہنما علامہ سید جواد نقوی نے شیعہ علماء کونسل پاکستان کے سربراہ علامہ سید ساجد علی نقوی صاحب سے ملاقات کی اور ان کی اہلیہ کے انتقال پر تعزیت و تسلیت، فاتحہ خوانی اور دعائے مغفرت کی۔ علامہ سید جواد نقوی نے علامہ سید ساجد علی نقوی کیساتھ 13 جون کو مینارِ پاکستان لاہور میں منعقد ہونے والی ’’شہیدِ اُمت کانفرنس‘‘ کے حوالے سے بھی گفتگو کی۔ ملاقات میں امتِ مسلمہ کے اتحاد، موجودہ حالات میں قومی و ملی ذمہ داریوں اور پروگرام کی تیاری و اہداف پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ مزید برآں علامہ سید جواد نقوی نے 13 جون مینارِ پاکستان ’’شہیدِ اُمت کانفرنس‘‘ میں شرکت اور تعاون کی دعوت بھی پیش کی اور اس پروگرام کو ملتِ اسلامیہ کے اتحاد، بیداری اور استقامت کا اہم ذریعہ قرار دیا۔