وادیٔ تیراہ سے انخلاء پر وفاقی حکومت کا بیان بے بنیاد ہے: شفیع جان
اشاعت کی تاریخ: 25th, January 2026 GMT
وزیرِ اعلیٰ خیبر پختون خوا کے معاونِ خصوصی برائے اطلاعات شفیع جان—فائل فوٹو
وزیرِ اعلیٰ خیبر پختون خوا کے معاونِ خصوصی برائے اطلاعات شفیع جان نے کہا ہے کہ وادیٔ تیراہ سے لوگوں کے انخلاء سے متعلق وفاقی حکومت کا بیان بے بنیاد ہے۔
شفیع جان نے وفاقی حکومت کے وادیٔ تیراہ سے مقامی آبادی کی نقل مکانی سے متعلق بیان پر ردِعمل دیا۔
انہوں نے کہا ہے کہ وفاق آپریشن کا ملبہ صوبائی حکومت پر ڈالنےکی ناکام کوشش کر رہی ہے۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ اب مجھے جنازوں میں شرکت کی اجازت نہیں دی جاتی اور نہ ہی بلایا جاتا ہے۔
شفیع جان کا کہنا ہے کہ پوری قوم جان چکی ہے کہ وادیٔ تیراہ سے لوگ نقل مکانی پر مجبور ہیں۔
وزیرِ اعلیٰ کے پی کے معاونِ خصوصی برائے اطلاعات نے مزید کہا کہ پوری قوم جان چکی ہے کہ وادیٔ تیراہ سے لوگ آپریشن کی وجہ سے نقل مکانی پر مجبور ہیں۔
اُن کا کہنا ہے کہ وزیرِ دفاع خواجہ آصف اور وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کی قومی اسمبلی میں تقاریر ریکارڈ پر موجود ہیں۔
شفیع جان نے کہا کہ وزیر ِاعلیٰ سہیل آفریدی وادیٔ تیراہ آپریشن کے حوالے سے اپنا مؤقف بارہا واضح کر چکے ہیں، صوبائی اسمبلی کے امن جرگے میں تمام سیاسی جماعتوں نے آپریشن کی مخالفت کی تھی۔
انہوں نے کہا کہ آپریشن پر صوبائی حکومت، سیاسی جماعتوں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لینا چاہیے تھا، نقل مکانی کرنے والوں کے لیے 4 ارب روپے کے اجراء پر وفاقی حکومت کا بیان انتہائی مضحکہ خیز ہے، صوبائی حکومت نے انخلاء کرنے والے متاثرین کو ریلیف دینے کے لیے بر وقت فنڈز جاری کیے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: وفاقی حکومت نقل مکانی شفیع جان تیراہ سے نے کہا
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔