Express News:
2026-07-24@03:58:26 GMT

غزہ امن بورڈ: چیلنج اور امکانات

اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT

ٹرمپ کا امن بورڈ وہ کیا کارنامہ کرے گا جو اقوام متحدہ اب تک نہیں کر پائی؟ لحظہ بہ لحظہ بدلتی ہوئی دنیا میں اگر کوئی سوال اہمیت رکھتا ہے تو وہ یہی ہے۔ابتدا سے اب تک دنیا کبھی ایک جیسی نہیں رہی۔ ماضی قریب میں اس کی مثال دو عالمی جنگیں خاص طور پر دوسری جنگ عظیم ہے جس کے بعد وہ دنیا وجود میں آئی جس کا ہمیں تجربہ ہے یعنی اقوام متحدہ والی دنیا جس کے دو مراکز تھے۔

دوسری جنگ عظیم کے بعد ابھرنے والی طاقتوں نے دنیا تقسیم کر لی تھی۔ سرد جنگ اسی تقسیم کی دین تھی جس کا گرم حصہ کم و بیش ہماری سرزمین پر لڑا گیا۔ اس جنگ کے نتیجے میں دنیا یک قطبی ہو گئی۔ تین دہائی تک اس دنیا کو بھی ہم نے بھگتا ہے۔ اب یہ دنیا ایک بار پھر تقسیم ہو رہی ہے یا تقسیم ہو چکی ہے۔ یہ نئی دنیا جو عین ہماری آنکھوں کے سامنے تقسیم ہوئی ہے اور ہو رہی ہے، ان دنوں ہم اس تبدیلی کے نتائج دیکھ رہے ہیں۔

 ہم چاہیں تو اپنی سادہ دلی کے باوصف یہ سوال اٹھا سکتے ہیں کہ تیسری عالمی جنگ تو ابھی تک ہوئی نہیں، دنیا ایک بار پھر کیسے بدل رہی ہے؟ ہمیں یہ سوال اٹھانے سے کوئی روک نہیں سکتا لیکن اس سے تبدیلی کا عمل اور اس کے اثرات تو رک نہیں جائیں گے یعنی ڈونلڈ ٹرمپ نے جو ٹھان رکھی ہے، وہ ہوتی رہے گی۔ سوال یہ ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے کیا ٹھان رکھی ہے؟

اس سوال کے کئی جواب ہو سکتے ہیں جیسے یہ کہ صہیونی لابی کے زیر اثر وہ صہیونی مقاصد کی تکمیل کر رہے ہیں یا وہ کرۂ ارض پر امریکی تسلط کے لیے سر دھڑ کی بازی لگائے ہوئے ہیں۔ اس قسم کے تمام جواب اپنی جگہ درست ہو سکتے ہیں لیکن بدلی ہوئی دنیا کا ایک منظر اور بھی ہے۔ نئی دنیا کی یہی کیفیت ہے جس نے ٹرمپ یا امریکا کو نئی حکمت عملی اختیار کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ نئی دنیا کی دو بڑی حقیقتوں میں ایک روس ہے اور دوسرا چین۔ یہ چین ہی ہے جس کی طاقت دنیا کا نقشہ بدل رہی ہے۔ گویا ہم ایک نئی قسم کی عالمی جنگ سے گزرے ہیں اور گزر رہے ہیں جس میں طاقت کے ابھرنے والے نئے مراکز اپنے اپنے حلقہ اثر کو مضبوط بنانے میں مصروف ہیں۔

کیا نئی دنیا میں ہمارا یعنی مسلمانوں کا بھی کوئی حصہ ہے جیسے چین اور یورپ وغیرہ کا حصہ دکھائی دیتا ہے؟ اس سوال کا جواب ہمیں اداسی کے اندھیرے میں دھکیل دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ سرد جنگ کے خاتمے کے بعد دنیا پر صرف امریکا کی حکمرانی تھی لیکن طاقت ور اقوام نے امریکی قوت کی چٹان سے سر پھوڑنے کے بہ جائے اپنی قوت مجتمع کرنے کی کوشش کی جس میں چین خاص طور پر کام یاب رہا۔ یہ چین کی طاقت ہی ہے جس کے ردعمل میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کبھی وینزویلا پر دھاوا بولتے ہیں اور کبھی گرین لینڈ کی طرف دیکھتے ہیں۔ امن بورڈ بھی ان کی اسی حکمت عملی کا نتیجہ ہے۔

ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ سرد جنگ کی تباہ کاریوں سے زخمی ہونے کے بعد اسلامی دنیا بھی کوئی حکمت عملی اختیار کرتی جس کے نتیجے میں بدلی ہوئی دنیا میں اس کا بھی کوئی حصہ ہوتا لیکن بدقسمتی سے ایسا نہیں ہو سکا۔ اس زمانے میں جب دنیا مستقبل بینی کر کے آنے والے چیلنجز کے لیے کمر بستہ ہو رہی تھی، ہم کچھ مختلف قسم کے مسائل سے دوچار تھے۔ ان میں کچھ مسائل داخلی تھے، کچھ خارجی اور کچھ ہماری کمزوری تھی یا کم کوشی۔ اسی سبب سے دنیا کی نئی تقسیم میں ہمارا اپنا کوئی دھڑا نہیں جس کی قیادت کسی مسلمان ملک یا راہ نما کے ہاتھ میں ہو۔ اس لیے جب تک ہم اس منزل تک نہیں پہنچتے، ہمیں کوئی راستہ تو اختیار کرنا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اسلامی دنیا کیا راستہ اختیار کر رہی ہے؟

سامنے کی بات تو یہی ہے کہ اسلامی دنیا صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہاں میں ہاں ملا رہی ہے اور ڈونلڈ ٹرمپ کی رگ جاں چوں کہ پنجہ یہود میں ہے، اس لیے صاف دکھائی دیتا ہے کہ مسلمان قیادت امریکی بالادستی میں اسرائیل کو تسلیم کرنے جا رہی ہے۔ یہی انداز فکر ہمیں پاکستان کے اندر بھی دکھائی دیتا ہے۔ ہماری دینی جماعتوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کے امن بورڈ میں پاکستان کی شرکت کو مسترد کر دیا ہے۔ ہمارے دانش ور دوست اور ممتاز قانون دان ڈاکٹر مشتاق احمد نے اس ضمن میں ایک دل چسپ سوال اٹھایا ہے۔ ہماری سیاست میں افسوس ناک بحث رہی ہے جس کے تحت بعض سیاست دانوں کی کمٹمنٹ پر سوال اٹھائے جاتے رہے ہیں اور کچھ سیاست دانوں کے بارے میں کہا جاتا رہا ہے کہ وہ صہیونی ایجنڈے کی تکمیل کے لیے سرگرم عمل رہے ہیں۔ ڈاکٹر مشتاق نے امن بورڈ میں پاکستان کی شمولیت پر تبصرہ کرتے سوال اٹھایا ہے کہ آج کے حالات کے مطابق صہیونی ایجنٹ کون ثابت ہوا؟

اس سوال پر ہمیں توجہ رکھنی ہے لیکن اس کے ساتھ ہی یہ بھی سمجھنا ہے کہ بدلی ہوئی دنیا میں وہ کون سا راستہ ہے جسے اختیار کر کے مسلمانوں کو نئے چیلنجز اور مسائل سے محفوظ رکھا جا سکتا ہے؟ حالیہ واقعات پر سرسری نگاہ ہی ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ مسلم دنیا چین کی طرح اپنا کلاؤٹ اگرچہ نہیں بنا سکی، اس کے باوجود وہ ایک ایسی حکمت عملی پر گامزن ہے جس پر عمل پیرا ہو کر مسلمانوں کو آنے والی تباہی سے محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔ اس حکمت عملی میں دیگر مسلم ممالک سمیت پاکستان کا کردار کلیدی ہے جو ایک قیمتی موقع ہے۔

پاکستان اور اسلامی دنیا کو یہ قیمتی موقع مئی کے معرکے کی بدولت حاصل ہوا ہے جس میں پاکستان نے اللہ تعالی کی مدد اور تائید سے بھارت کو شکست سے دوچار کر کے خطے میں اسٹریٹجک بالادستی حاصل کی۔ یہ پاکستان کی اہمیت ہی ہے جس کی وجہ سے ڈونلڈ ٹرمپ اسے غیر معمولی اہمیت دیتے ہیں۔ بدلے ہوئے حالات میں سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان اپنی اہمیت کو استعمال کر کے مسلم دنیا کے مفادات کا تحفظ کرے یا امریکا سے ٹکر لے کر اس کی مخالفت مول لے اور اپنے سمیت پوری مسلم دنیا کے لیے نئے مسائل پیدا کر دے؟ لمحہ ٔموجود کا یہ سب سے بڑا چیلنج ہے۔

پاکستان اور مسلم دنیا نے باہمی مشاورت کے بعد اتفاق رائے سے اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے دوسرا راستہ اختیار کیا ہے اور اس مقصد کے لیے ایک حکمت عملی ترتیب دی ہے۔ اس حکمت عملی کا پہلا قدم پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدہ ہے جس میں ترکیہ کی بامعنی شمولیت امکانی طور پر مسلم دنیا کو ایک نئی قوت عطا کرے گی۔ اسی سبب سے ایران نے بھی اس دفاعی معاہدے میں شمولیت کی خواہش ظاہر کی ہے۔ امن بورڈ والے عالمی فورم ہوں یا پرانے، ان تمام فورموں پر پاکستان اور مسلم دنیا اس اسٹریٹجک طاقت کے ساتھ شریک ہو رہی ہے۔ ویسے پاکستان ہو یا مسلم دنیا، انھیں کسی بھی نئے یا پرانے عالمی فورم سے لا تعلق نہیں ہونا چاہیے لیکن امن بورڈ والے فورم سے تو بالکل لاتعلق نہیں ہونا چاہیے۔

اس کا سبب یہ ہے کہ پاکستان اور مسلم دنیا اگر اس فورم پر نہیں ہو گی تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ مسلمانوں نے غزہ اور فلسطین کو غیروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے۔ اس لیے امن بورڈ میں شمولیت کو جذباتی انداز میں دیکھنے کے بہ جائے پورے پس منظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر ہوں یا ولی عہد محمد بن سلمان اور صدر رجب طیب اردوان، ہمارے ان قائدین نے دستیاب حالات میں وہ راستہ اختیار کیا ہے جس میں فائدے کے امکانات زیادہ اور نقصان کے کم سے کم ہیں۔ ہمارے قائدین شاید یہ سوچتے ہیں کہ اقوام متحدہ اگر ہمارے دکھوں کا مداوا نہیں کر سکی تو نئے امکانات کو بھی آزما کر دیکھا جائے۔ ان کی حکمت عملی اپنی طے شدہ پالیسی سے انحراف نہیں بلکہ دست یاب حالات میں نئے مواقع کی آزمائش ہے۔

اقبال نے فرمایا تھا

آئین نو سے ڈرنا، طرز کہن پہ اڑنا

منزل یہی کٹھن ہے قوموں کی زندگی میں

غزہ امن بورڈ میں شمولیت کیوں اختیار کی گئی، اس سوال کا جواب اگر اس طویل پس منظر کے باوجود سمجھ میں نہ آئے تو اس شعر سے روشنی حاصل کی جائے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: میں پاکستان اسلامی دنیا پاکستان اور ڈونلڈ ٹرمپ حکمت عملی اختیار کر مسلم دنیا ہوئی دنیا نئی دنیا دنیا میں یہ ہے کہ ہی ہے جس نہیں ہو رہے ہیں دنیا کی اس سوال ہے اور رہی ہے ہو رہی کے بعد کے لیے

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف