وادی تیراہ خالی کرنے کا نوٹیفکیشن واپس نہ لیا تو جرگہ بلاؤں گا: سہیل آفریدی
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
پشاور (نوائے وقت رپورٹ) وزیراعلیٰ خیبرپی کے سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ وادی تیراہ کو خالی کرنے کا نوٹی فکیشن واپس نہ لیا تو پوری پختون قوم کا جرگہ بلاؤں گا، مجھے ہٹانے کے لیے تین آپشن ہیں، گورنر راج لگایا جائے، مجھے نااہل کیا جائے ورنہ مجھے مار دیا جائے۔ مینگورہ میںسٹریٹ موومنٹ ریلی کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ وفاقی حکومت کی طرف سے جاری کردہ نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ تیراہ متاثرین اپنی مرضی سے نقل مکانی کر رہے ہیں، اگر یہ نوٹی فکیشن واپس نہ لیا گیا اور اس پر معافی نہ مانگی گئی تو میں آفریدی قوم کا جرگہ بلاؤں گا، اس کے بعد پختون قوم کا جرگہ بلاؤں گا، اگر بات غلط ہوئی تو نقل مکانی کرنے والے متاثرین کو خود تیراہ لے کے جاؤں گا۔ اسلام آباد سے آکر پشاور میں پریس کانفرنس کی جاتی ہیں کہ سہیل آفریدی کا نام منظور نہیں جب بیانیہ نہ بنا تو میرے بارے میں کہا گیا کہ یہ دہشت گردوں سے ملا ہوا ہے، جب ہر بیانیہ میں شکست تو تین آپشنز دیے گئے، آپشنز دیے گئے صوبے میں گورنر راج لگے یا سہیل آفریدی کو نااہل کیا جائے گا، جب گورنرراج اور نااہلی کے آپشن ناکام ہوئے تو سہیل آفریدی کو مار دیا جائے گا۔ گورنر راج اور مجھے مارنے کے لیے عوامی حمایت کی ضرورت ہے، جب دہشت گرد اور اسمگلر کا بیانیہ ناکام ہوا تو میرے علاقہ تیراہ میں آپریشن شروع کردیا گیا، وادی تیراہ آپریشن کے لیے 24 رکنی کمیٹی بنائی جس نے آپریشن کا فیصلہ کیا، تیراہ میں آپریشن کے لیے کمیٹی کو ڈرایا دھمکایا گیا، بیانیہ بنایا گیا کہ ہم فوج یا ادارے کے دشمن ہیں، ہم فوج کے دشمن ہیں نہ اداروں کے بس جو بند کمروں میں فیصلہ کرتے ہیں ہم ان کی مخالفت کرتے ہیں، ہم ان فیصلوں، منصوبوں کو نہیں مانیں گے جو بند کمروں میں ہوں۔ ہم نے فوجی جوانوں کے جنازوں میں شرکت کی اور اپنا کندھا دیا، اس کے بعد مجھے بلایا گیا نہ بلایا جاتا ہے،آج پھر ایک نوٹی فکیشن وفاقی حکومت کی جانب سے جاری کیا گیا، اب بیانیہ بنایا گیا ہے کہ عوام خود تیراہ چھوڑ کر جارہے ہیں، مجھے بتایا جائے کہ کیا یہ لوگ نواز شریف کے نواسے کے شادی پر جارہے تھے؟ آخر انہوں نے اپنا گھر کیوں چھوڑا؟ صوبائی حکومت کو ہدایت دیتا ہوں اداروں کے ساتھ رابطہ تحریری اور ثبوت کے ساتھ ہونا چاہیے، کہا جارہا ہے تیراہ کے لوگ رضاکارانہ طور پر آرہے ہیں، آئندہ اتوار کو تیراہ کا جرگہ بلایا جارہا ہے اس جرگہ میں لوگوں سے پوچھا جائے گا انھیں نکالا جارہا ہے یا خود آرہے ہیں، اگر لوگوں نے کہا کہ انھیں علاقے سے نکالا جارہا ہے تو ہم اپنے لوگوں کو خود تیراہ لے کر جائیں گے، دو روز میں اعلامیہ واپس نہ لیا اور معافی نہ مانگی تو پورے پختون قوم کا جرگہ کروں گا۔ اگر دو یا تین دن میں تیراہ آپریشن نہ روکا گیا تونئی حکمت عملی بنائیں گے۔ کے پی کے میں گورنر راج ناممکن ہے مجھے نااہل کرنے کی کوشش ہو رہی ہے۔ چکدرہ اور مالا کنڈ میں کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ عوام لاڑکان نہیں بنی گالہ کے ساتھ ہیں۔ بانی کا پورا خاندان عوام کی خاطر قربانی دے رہا ہے۔ اڈیالہ میں بیٹھنے والے کا سپاہی ہوں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: سہیل ا فریدی واپس نہ لیا قوم کا جرگہ گورنر راج جارہا ہے کے لیے
پڑھیں:
عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی خدمت، فوری انصاف، مؤثر گورننس اور شفاف احتساب کے ذریعے وزیراعلیٰ سندھ کے عوام دوست وڑن کو مزید مضبوط بنایا جائے گا، جبکہ تمام متعلقہ محکمے شہریوں کے مسائل کے بروقت، پائیدار اور مؤثر حل کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری دیانت داری اور پیشہ ورانہ انداز میں ادا کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے وزیراعلیٰ سندھ کے مرکزی شکایات سینٹر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ٹیلیفون پر شہریوں کی شکایات اور مسائل براہِ راست سنے اور مختلف سرکاری محکموں سے متعلق موصول ہونے والی درخواستوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر متعلقہ افسران کو شکایات کے فوری، شفاف اور مؤثر ازالے کے لیے ضروری ہدایات بھی جاری کی گئیں۔ وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی مسائل کے حل میں غیر ضروری تاخیر کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام متعلقہ ادارے مقررہ مدت کے اندر شکایات کے ازالے کو یقینی بناتے ہوئے اپنی تعمیلی رپورٹس پیش کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ شہریوں کو بروقت ریلیف کی فراہمی حکومت سندھ کی اولین ترجیح ہے اور ہر جائز شکایت پر فوری، منصفانہ اور مؤثر کارروائی کی جائے گی۔
ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ شہریوں کو سرکاری دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور کرنے کے بجائے ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کریں۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ درخواست گزاروں کو ہر شکایت پر ہونے والی عملی پیش رفت سے باقاعدگی سے آگاہ رکھا جائے تاکہ عوام اور سرکاری اداروں کے درمیان اعتماد کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ شکایات کے ازالے میں غفلت، لاپرواہی یا غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے والے افسران کے خلاف قانون اور قواعد کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی خدمت صرف ایک انتظامی ذمہ داری نہیں بلکہ حکومت کی بنیادی ترجیح ہے، جس کے لیے تمام متعلقہ محکموں کو جوابدہی اور اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔