رواں مالی سال کے پہلے 5 ماہ جولائی تا نومبر 2025 کے دوران پاور سیکٹرکے سرکلر ڈیٹ میں 223  ارب روپےکا اضافہ ہوگیا جس کے بعد بجلی شعبےکا سرکلر ڈیٹ 1837ارب روپے پر پہنچ گیاجو جون 2025 میں 1614 ارب روپے تھا۔

نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ذرائع نے بتایا کہ سرکلرڈیٹ ایک ہزار 225 ارب روپےکم کرنے کے معاہدوں کے 2 ماہ بعد بھی پاور سیکٹرکے سرکلر ڈیٹ میں اضافہ ہوا۔

ستمبر 2025 میں بینکوں کے ساتھ حکومت نے معاہدے کیے جس کے بعد اکتوبراور نومبر 2025 کے 2 مہینوں کے دوران پاور سرکلر ڈیٹ کا سرکلر ڈیٹ 144 ارب روپے بڑھ گیا۔

ذرائع کے مطابق مطابق نومبر 2025  تک بجلی شعبےکا سرکلر ڈیٹ ایک ہزار 837 ارب روپے رہاجو  ستمبر 2025 میں ایک ہزار 693 ارب اور جون 2025 میں ایک ہزار 614 ارب روپے تھا، یعنی رواں مالی سال کے پہلے 5 ماہ کے دوران جون کے مقابلے میں پاور سیکٹر کا سرکلر ڈیٹ 223 ارب روپے کا اضافہ ظاہر کرتا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ نومبر2024 کے مقابلے میں نومبر 2025 میں بجلی شعبےکے سرکلر ڈیٹ میں544 ارب روپےکی کمی ظاہر ہوتی ہےکیونکہ نومبر 2024 تک پاور سیکٹر کا سرکلر ڈیٹ 2 ہزار 381 ارب روپےتھا۔

ستمبر 2025 میں پاور سیکٹر کے گردشی قرضے میں کمی کے لیے وفاقی حکومت اور 18کمرشل بینکوں کے درمیان معاہدوں پر دستخط ہوئے تھے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کے سرکلر ڈیٹ میں کا سرکلر ڈیٹ پاور سیکٹر ارب روپے ایک ہزار

پڑھیں:

پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ

اسلام آباد: ملک بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ جاری ہے، جہاں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کرتے ہوئے آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے نئے نرخوں کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ نئی قیمتوں کا اطلاق رات 12 بجے کے بعد سے ہوگا۔

اوگرا کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 40 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد نئی قیمت 331 روپے 52 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے۔

اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 62 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد ڈیزل 378 روپے 66 پیسے فی لیٹر میں دستیاب ہوگا۔

حکام کے مطابق نئی قیمتوں کا اطلاق فوری طور پر رات 12 بجے کے بعد سے ہوگا، جس کے بعد ملک بھر کے تمام پیٹرول پمپس پر نئے نرخ نافذ ہو جائیں گے۔

واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا ہے، جس کے اثرات پاکستان میں بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر مرتب ہو رہے ہیں۔ گزشتہ چند روز کے دوران بھی مختلف پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں متعدد بار اضافہ کیا جا چکا ہے۔

ماہرین کے مطابق ایندھن کی قیمتوں میں مسلسل اضافے سے ٹرانسپورٹ، اشیائے خور و نوش اور دیگر بنیادی ضروریات کی قیمتوں پر بھی اثر پڑ سکتا ہے، جس کے باعث مہنگائی کے دباؤ میں مزید اضافہ ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

نئی قیمتیں ایک نظر میں
پیٹرول: 331 روپے 52 پیسے فی لیٹر (4.40 روپے اضافہ)
ہائی اسپیڈ ڈیزل: 378 روپے 66 پیسے فی لیٹر (3.62 روپے اضافہ)

اوگرا کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق یہ قیمتیں آئندہ حکم نامے تک نافذ العمل رہیں گی۔

متعلقہ مضامین

  • سونے اور چاندی کی قیمتوں میں کمی
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے ٹرانسپورٹ سیکٹر متاثر, بس اڈے پر مسافروں میں نمایاں کمی
  • عالمی و مقامی سطح پر سونے اور چاندی کی قیمتوں میں کمی
  • سوناہزاروں روپے سستا، ایک دن کی بڑی کمی نے مارکیٹ ہلا دی
  • سونے کی قیمت میں نمایاں کمی،فی تولہ نئی قیمت جانئے
  • پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ
  • سونے کی قیمت میں اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے ہوگیا
  • ہیڈ مرالہ میں پانی کی سطح میں ایک بارپھر اضافہ
  • موبائل کال اور انٹرنیٹ پیکجز مہنگے، صارفین پر نیا مالی بوجھ
  • سونے کی قیمت میں نمایاں کمی