Islam Times:
2026-06-02@23:11:42 GMT

لاہور میں ‘‘حسینؑ سب کا بین المذاہب کانفرنس‘‘ کا انعقاد

اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT

‍‍‍‍‍‍

مقررین نے کہا کہ حسینؑ نجاتِ پاکستان بھی ہیں، نجاتِ غزہ بھی اور نہ صرف امتِ مسلمہ بلکہ ساری انسانیت کی نجات کا راستہ ہیں۔ جہاں جہاں بھی ظلم ہے، حسینؑ وہاں معیارِ حق ہیں اور جہاں بھی مزاحمت ہے، حسینؑ وہاں روحِ بیداری ہیں۔ متعلقہ فائیلیںرپورٹ: ٹی ایچ شہزاد

تحریکِ بیداریِ امتِ مصطفیٰ کے زیرِاہتمام بین المذاہب و بین المسالک کانفرنس "حسین سب کا"  ایوانِ اقبال لاہور میں منعقد ہوئی، جس  کی صدارت معروف دینی رہنماء علامہ سید جواد نقوی نے کی۔ کانفرنس میں مختلف مذاہب اور مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والی ممتاز شخصیات لیاقت بلوچ، ماڈریٹر ڈاکٹر مجید ایبل، ڈاکٹر فرید احمد پراچہ، سردار بشن سنگھ، فادر آصف سردار، مولانا محمد عاصم مخدوم، ڈاکٹر میر آصف اکبر، ڈاکٹر عبدالغفور راشد، مفتی محمد زبیر فہیم، پندت بھگت،  پنڈت سکھ دیو جی مہاراج، فادر نقاش اعظم سمیت دیگر نے خطاب کیا۔ کانفرنس کا مقصد یہ اجاگر کرنا تھا کہ ہر مذہب اور مکتبِ فکر میں ظلم، جبر اور ناانصافی کے خلاف قیام ایک بنیادی انسانی اور اخلاقی قدر ہے اور امام حسینؑ کا پیغام اسی مشترکہ انسانی اصول کی عملی اور آفاقی مثال ہے۔ قارئین محترم آپ اس ویڈیو سمیت بہت سی دیگر اہم ویڈیوز کو اسلام ٹائمز کے یوٹیوب چینل کے درج ذیل لنک پر بھی دیکھ اور سن سکتے ہیں۔ (ادارہ)
https://www.

youtube.com/@ITNEWSUrduOfficial  

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

پڑھیں:

باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔

عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔

(جاری ہے)

درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔

متعلقہ مضامین

  • نواز شریف این او سی لے کر گلگت بلتستان گئے، راناثنا
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • لاہور میں ہونیوالی ’’شہید اُمت کانفرنس‘‘ میں ایک اور نشست کا اضافہ
  • علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی
  • دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں: بلاول بھٹو زرداری
  • دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، بلاول بھٹو زرداری
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ
  • قدرت کا حیرت انگیز شاہکار، ہولونگ درخت کے ’ہیلی کاپٹر پھلوں‘ کی حسین اڑان