ٹرمپ کی دھمکی، کینیڈا کا چین کے ساتھ فری ٹریڈ ڈیل سے صاف انکار
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
ٹرمپ کی دھمکی، کینیڈا کا چین کے ساتھ فری ٹریڈ ڈیل سے صاف انکار WhatsAppFacebookTwitter 0 26 January, 2026 سب نیوز
اوٹاوہ (آئی پی ایس )کینیڈا کے وزیرِ اعظم مارک کارنی نے واضح کیا ہے کہ کینیڈا کا چین کے ساتھ کسی بھی قسم کا فری ٹریڈ معاہدہ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں۔ان کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اس دھمکی کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اگر کینیڈا نے چین کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدہ کیا تو امریکا کینیڈین مصنوعات پر 100 فیصد ٹیرف عائد کر دے گا۔
مارک کارنی نے کہا کہ چین کے ساتھ حالیہ سمجھوتا فری ٹریڈ ڈیل نہیں بلکہ صرف چند مخصوص شعبوں میں ٹیرف میں کمی سے متعلق ہے، جن پرحالیہ برسوں میں اضافی محصولات عائد کیے گئے تھے۔ان کے مطابق امریکا، میکسیکو اور کینیڈا کے درمیان موجود تجارتی معاہدے کے تحت غیر مارکیٹ معیشتوں کے ساتھ فری ٹریڈ معاہدے سے پہلے اطلاع دینا لازم ہے، اور کینیڈا چین کے ساتھ ایسا کوئی معاہدہ نہیں کر رہا۔ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر دعوی کیا کہ چین کینیڈا پر اثر و رسوخ بڑھا رہا ہے اور خبردار کیا کہ کینیڈا کو امریکا کے لیے چینی مصنوعات کا راستہ بننے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے بھی کہا کہ امریکا نہیں چاہتا کہ چین سستی اشیا کینیڈا کے ذریعے امریکی منڈی میں داخل کرے۔واضح رہے کہ 2024 میں کینیڈا نے امریکا کی پیروی کرتے ہوئے چینی الیکٹرک گاڑیوں پر 100 فیصد اور اسٹیل و ایلومینیم پر 25 فیصد ٹیرف عائد کیے تھے، جس کے جواب میں چین نے کینیڈا کی کینولا آئل، سور اور سی فوڈ مصنوعات پر بھاری ٹیکس لگا دیے تھے۔حالیہ دنوں میں کینیڈا نے چینی الیکٹرک گاڑیوں پر ٹیرف میں جزوی نرمی کی ہے، تاہم حکومت کا مقف ہے کہ یہ اقدام محدود اور مشروط ہے اور اسے فری ٹریڈ معاہدہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرجے یو آئی کا 8 فروری کو انتخابات کے خلاف یومِ سیاہ منانے کا فیصلہ جے یو آئی کا 8 فروری کو انتخابات کے خلاف یومِ سیاہ منانے کا فیصلہ اسٹیٹ بینک مانیٹری پالیسی کمیٹی کا اجلاس، شرح سود برقرار رکھنے کا فیصلہ ٹی 20 ورلڈکپ میں شرکت کا معاملہ، وزیر اعظم سے چیئرمین پی سی بی کی مشاورت بورڈ آف پیس صرف غزہ تک محدود نہیں، بھارت میں تہلکہ مچا ہوا ہے، مشاہد حسین سید پاکستان ،میانمار دوطرفہ تعلقات اور تعاون کے فروغ پر متفق فراڈ کیس میں فواد چوہدری کے وارنٹ گرفتاری جاریCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: چین کے ساتھ فری ٹریڈ
پڑھیں:
ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات انتہائی ٹیکنیکل اور کئی مہینے لگ سکتے ہیں جبکہ آبنائے ہرمز کی بحالی کی صورت میں امریکا کی جانب سے پابندیوں میں نرمی کی کوئی پیش کش نہیں کی گئی ہے۔
امریکی سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو مارکو روبیو نے بتایا کہ دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ ایران اس بات پر تفصیلی اور واضح مذاکرات کے لیے آمادہ ہو کہ گہرے پہاڑی مقام میں محفوظ انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے کا مستقبل میں کیا تصرف کیا جائے گا۔
ایران کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ انہیں اپنے ملک میں افزودگی کی سرگرمیوں کو طویل مدت تک محدود یا ختم کرنے کے حوالے سے مذاکرات پر اتفاق کرنا ہوگا۔
مارکو روبیو نے کہا کہ یہ انتہائی ٹیکنیکل معاملات ہیں اس لیے میں نہیں سمجھتا کہ اس کو 5 دنوں کے اندر حل کرسکتے ہیں، اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو 30، 60 یا 90 روز کی مدت میں کام کرے اور تفصیلات اخذ کرے لیکن انہیں ایسا کرنے کے لیے سنجیدہ ہونا پڑے گا۔
انہوں نے اشارہ دیا کہ تہران نے اپنے جوہری پروگرام کے پہلوؤں پر مذاکرات کے لیے اتفاق کیا ہے لیکن اس حوالے سے تفصیلات فراہم نہیں کی کہ کون سے امور ہیں اور واضح کیا کہ مذاکرات اس بات کی ضمانت نہیں ہیں کہ حتمی طور پر ایسے معاہدے کا باعث ہوں گے جو سینیٹ یا امریکی عوام کے لیے قابل قبول ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران کو پہلے بغیر کسی ٹول کے آبنائے ہرمز کی بحالی کا اعلان کرنا ہوگا، وہ مائنز ہٹائیں گے اور جہازوں پر فائرنگ نہیں کریں گے۔
مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا نے ایران کو آبنائے ہرمز کی بحالی پر پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے اور پابندیوں کا خاتمہ شرائط کی بنیاد پر ہوگا۔
ایرانی سپریم لیڈر زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں، روبیو
امریکی وزیر خارجہ نے سینیٹ کمیٹی کو بتایا کہ میرے خیال میں ایران کے نئے سپریم لیڈڑ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں زیادہ حصہ لے رہے ہیں اور اس کے اشارے مل رہے ہیں۔
خیال رہے کہ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نیا منصب سنبھالنے کے بعد عوامی سطح پر نظر نہیں آئے ہیں تاہم وہ ایرانی حکام کو بدستور ہدایات دے رہے ہیں اور رپورٹ بھی کیا گیا تھا کہ ایرانی اعلیٰ حکام ان سے ملاقات اور مشاورت کرچکے ہیں۔
امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ حملے میں زخمی ہیں جبکہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ امریکی انٹیلی جینس کا تجزیہ ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای جنگی حکمت عملی میں ایران کے سینئر عہدیداروں کے ساتھ انتہائی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔