data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی(اسٹاف رپورٹر) قہقہوں کی گونج، جھولوں کی آواز اور خوشی سے دمکتے معصوم چہرے—یہ مناظر اُس وقت دیکھنے کو ملے جب سندھ کے پسماندہ ترین علاقوں سے تعلق رکھنے والے گرین کریسنٹ ٹرسٹ (GCT) کے 777 یتیم طلبہ نے حیدرآباد کے تاریخی رانی باغ میں ایک یادگار دن گزارا۔ یہ خصوصی تفریحی پروگرام گرین کریسنٹ ٹرسٹ کے زیرِ اہتمام منعقد ہوا، جس میں اندرونِ سندھ کے 18 اضلاع سے تعلق رکھنے والے جی سی ٹی کے 65 اسکولوں کے طلبہ شریک ہوئے۔ آئندہ دنوں میں اسی نوعیت کی تفریحی تقریب سکھر کے بینظیر پارک (لبِ مہران) میں بھی منعقد کی جائیں گی تاکہ جی سی ٹی کے تمام یتیم طلبہ اس خوشیوں بھرے سلسلے کا حصہ بن سکیں۔

یہ تقریب جی سی ٹی کی صوبہ بھر میں جاری تفریحی گالا تقریبات کا حصہ تھی، جن کا مقصد سندھ بھر کے 173 فلاحی اسکولوں میں زیرِ تعلیم 2,150 یتیم بچوں کو خوشی، توجہ اور ایک معمول کے بچپن کا احساس فراہم کرنا ہے۔ دن بھر بچے جھولوں سے لطف اندوز ہوتے رہے، خصوصی ظہرانے سے محظوظ ہوئے اور ایسے ماحول میں وقت گزارا جو مکمل طور پر اُن کی خوشی اور فلاح کے لیے ترتیب دیا گیا تھا۔

حیدرآباد کا یہ گالا اُس شاندار افتتاحی تقریب کے بعد منعقد ہوا جو ایم-9 موٹروے کے قریب ایک معروف تفریحی مقام پر منعقد ہوئی تھی، جہاں کراچی اور ٹھٹھہ سے تعلق رکھنے والے 1,300 سے زائد یتیم بچوں کو پورے دن کی سیر و تفریح فراہم کی گئی۔ اس سلسلے کی آخری تقریب سکھر کے بینظیر پارک (لبِ مہران) میں منعقد ہوگی، جہاں مزید 111 یتیم طلبہ خوشیوں کے اس جشن کا مرکز ہوں گے۔

تفریح اور مسرت سے بڑھ کر، ان گالا تقریبات کے ذریعے گرین کریسنٹ ٹرسٹ کی رمضان 2026 کی فنڈ ریزنگ مہم کا باضابطہ آغاز بھی کیا گیا، جس کا ہدف ناخواندگی کے خاتمے اور سندھ کے محروم بچوں کے لیے معیاری تعلیم کے دائرہ کار کو وسیع کرنے کے لیے 900 ملین روپے جمع کرنا ہے۔*

اس موقع پر اپنے پیغام میں گرین کریسنٹ ٹرسٹ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر، زاہد سعید نے ادارے کے مخیر حضرات، سرپرستوں اور خیرخواہوں کو دلی خراجِ تحسین پیش کیا اور کہا کہ اُن کی مسلسل سخاوت ہی سال بھر یتیم بچوں کی نگہداشت، تعلیم اور تفریح کو ممکن بناتی ہے۔ انہوں نے خاص طور پر آئی اکنا کینیڈا (اسلامک سرکل آف نارتھ امریکہ) کا شکریہ ادا کیا، جن کے مخیر افراد نے یتیم بچوں کے لیے ہمہ جہت، سال بھر جاری رہنے والے امدادی پروگرام کا تصور پیش کیا اور مکمل تعاون فراہم کیا۔

زاہد سعید نے کہا، “ان بچوں کی علمی، سماجی اور جذباتی سطح پر جامع سرپرستی کی جا رہی ہے تاکہ وہ پراعتماد اور ذمہ دار شہری بن کر پاکستان کے مستقبل میں مثبت کردار ادا کر سکیں۔”

انہوں نے بتایا کہ مضبوط فلاحی تعاون کی بدولت گرین کریسنٹ ٹرسٹ اس وقت سندھ کے پسماندہ علاقوں میں 173 اسکولوں کے ذریعے 34,660 طلبہ کو تعلیم فراہم کر رہا ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ 2026 سے جی سی ٹی اپنے تعلیمی مشن کو سندھ سے باہر ملک کے دیگر محروم علاقوں تک بھی وسعت دینے کا ارادہ رکھتا ہے۔ زاہد سعید نے لاہور اور اسلام آباد کی کاروباری برادری کا بھی خصوصی ذکر کیا، جنہوں نے حالیہ فنڈ ریزنگ تقاریب میں مجموعی طور پر 150 ملین روپے کے عطیات کی فراہمی کا بھی وعدہ کیا، جو محروم طبقات کے بچوں کی تعلیم کے لیے قومی سطح پر اعتماد اور حمایت کی عکاسی ہے۔

زاہد سعید نے مزید کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے تعلیم اور صحت پر مجموعی طور پر ریکارڈ 3.

2 کھرب روپے خرچ کیے، جو پاکستان کے دفاعی بجٹ سے بھی زیادہ ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اگر اس عوامی سرمایہ کاری کو شفاف اور ذمہ دارانہ انداز میں استعمال کیا جائے تو ملک میں تیزی سے مثبت تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔ انہوں نے سندھ میں ناخواندہ بچوں کے اسکولوں میں داخلے کے لیے اسلام آباد کی کاروباری برادری کی غیرمعمولی حمایت پر بھی دلی تشکر کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ 31 برسوں میں غیر معمولی مخیرانہ تعاون کی بدولت گرین کریسنٹ ٹرسٹ سندھ کے دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں تعلیمی ترقی کی ایک مضبوط قوت بن کر ابھرا ہے۔ ادارہ اس وقت 173 اسکول فلاحی بنیادوں پر چلا رہا ہے، جہاں 34,660 طلبہ زیرِ تعلیم ہیں، جن میں 40 فیصد سے زائد بچیاں ہیں۔ ان میں 2,150 یتیم بچے بھی شامل ہیں جنہیں خصوصی تعلیمی اور فلاحی معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔ اس وسیع تعلیمی نیٹ ورک کو 2,000 سے زائد مستند اساتذہ کی خدمات حاصل ہیں، جو اُن بچوں کی زندگیاں بدلنے کے لیے کوشاں ہیں جو بصورتِ دیگر تعلیم سے محروم رہ جاتے۔

“اپنے مخلص مخیر حضرات کی فراخدلانہ معاونت کے باعث گرین کریسنٹ ٹرسٹ اپنے وژن 2030 کی تکمیل کے لیے پُرعزم ہے،” زاہد سعید نے اس موقع پرکہا۔ انہوں نے بتایا کہ آئندہ پانچ برسوں میں ان کا ادارہ اپنے اسکولوں کی تعداد 250 تک بڑھانے کا منصوبہ رکھتا ہے، جس کے ذریعے سندھ بھر کے 100,000 محروم بچوں کو معیاری تعلیم تک رسائی دی جائے گی۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ جی سی ٹی وفاقی و صوبائی حکومتوں اور ہم خیال غیر سرکاری اداروں کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے محروم طبقات کے بچوں کو معیاری اسکول کی تعلیم فراہم کرنے کے لیے تیزی سے مشترکہ کوششیں جاری رکھے گا۔ اس ضمن میں سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن، محمد شفیع ٹرسٹ اور دیگر معروف این جی اوز کے ساتھ تعاون کا بھی انھوں نے ذکر کیا۔

رانی باغ میں بچوں کی ہنسی بکھرتی رہی اور پیغام بالکل واضح تھا: گرین کریسنٹ ٹرسٹ کے نزدیک تعلیم صرف کلاس روم تک محدود نہیں، بلکہ یہ عزتِ نفس، نگہداشت اور ہر بچے کے چہرے پر مسکراہٹ بکھیرنے کا نام ہے۔ جی سی ٹی کے آرفن سپورٹ پروگرام کے رضاکار پورے پروگرام کے دوران متحرک رہے، جنہوں نے ہر بچے کی حفاظت، سہولت اور فلاح کو یقینی بنایا تاکہ وہ بے فکری سے اس دن سے لطف اندوز ہو سکیں۔ ادارے کے اُن مخلص مخیر حضرات کی سال بھر جاری رہنے والی بے مثال سخاوت کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا گیا—جن میں سے بیشتر کسی بھی قسم کی ذاتی تشہیر کے خواہشمند نہیں—جن کے تعاون سے سندھ کے دور دراز اور محروم علاقوں میں گرین کریسنٹ ٹرسٹ کے فلاحی اسکولوں میں زیرِ تعلیم 2,150 یتیم بچوں کی تعلیم، وقار اور بہبود محفوظ ہو رہی ہے۔

عادل سلطان

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: گرین کریسنٹ ٹرسٹ کے زاہد سعید نے یتیم بچوں انہوں نے کے ذریعے جی سی ٹی بچوں کو بچوں کی سندھ کے بچوں کے کے لیے

پڑھیں:

طالبان نے خواتین و بچوں کی فلاحی تنظیم کا دفتر سیل کر دیا، 6 اہلکار لاپتا

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں طالبان حکام نے خواتین اور بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی ویمن اینڈ چلڈرن لیگل ریسرچ فاؤنڈیشن کے دفتر پر چھاپہ مار کر تنظیم کے 6 ملازمین کو حراست میں لے لیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق، کارروائی کے دوران طالبان اہلکاروں نے تنظیم کے کمپیوٹرز، دستاویزات اور دیگر دفتری سامان بھی قبضے میں لے لیا۔

یہ بھی پڑھیں: افغانستان: طالبان حکومت کا ایک اور متنازع فیصلہ، خواتین کو صحت کی تعلیم سے روکنے کا حکم

تاہم اب تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ گرفتار کیے گئے ملازمین کو کہاں منتقل کیا گیا ہے اور ان کی موجودہ حالت کیا ہے۔

ذرائع کے مطابق گرفتار ہونے والوں میں 2 افراد تنظیم کی سربراہ زرقا یفتلی کے قریبی رشتہ دار ہیں، جو اس وقت افغانستان سے باہر مقیم ہیں۔

Sources in Kabul told Afghanistan International on Wednesday that Taliban agents raided the office of the Women and Children Legal Research Foundation (WCLRF) earlier this week and detained six staff members.https://t.co/ly2WtJb202 pic.twitter.com/fQ8qbUdHiN

— Afghanistan International English (@AFIntl_En) July 23, 2026

زرقا یفتلی خواتین کے حقوق کی معروف کارکن ہیں اور گزشتہ سال انہیں متحدہ عرب امارات کی جانب سے 2026 زاید ایوارڈ فار ہیومن فریٹرنٹی سے نوازا گیا تھا۔

ذرائع کے مطابق زیرِ حراست افراد کے اہلِ خانہ نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے طالبان حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے عزیزوں کی حراست کی جگہ، قانونی حیثیت اور صحت کے بارے میں فوری طور پر آگاہ کیا جائے۔

مزید پڑھیں: کرکٹ اسٹارز سے ملاقاتوں اور لباس کے معاملے پر طالبان رہنماؤں میں اختلافات بڑھ گئے

ویمن اینڈ چلڈرن لیگل ریسرچ فاؤنڈیشن تعلیم، خواتین اور بچوں کے حقوق کی وکالت، تحقیقی سرگرمیوں اور تحقیقاتی رپورٹس کی تیاری کے شعبوں میں کام کرتی رہی ہے۔

طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد افغانستان میں سول سوسائٹی کی متعدد تنظیموں، خصوصاً خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے اداروں، پر سخت پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔

اس عرصے کے دوران کئی سماجی کارکنوں کو حراست میں لیا گیا، جبکہ متعدد تنظیمیں اپنی سرگرمیاں محدود کرنے یا مکمل طور پر بند کرنے پر مجبور ہو چکی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

افغانستان سول سوسائٹی طالبان فلاحی تنظیم کابل کمپیوٹرز متحدہ عرب امارات ویمن اینڈ چلڈرن لیگل ریسرچ فاؤنڈیشن

متعلقہ مضامین

  • اسلام آباد میں گلاسگو 2026 دولتِ مشترکہ کھیلوں کی افتتاحی تقریب
  • سندھ حکومت کا مہنگے داموں پاسکو سے گندم خریدنے کا فیصلہ
  • ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کا آغاز، اسحاق ڈار کی شرکت
  • طالبان نے خواتین و بچوں کی فلاحی تنظیم کا دفتر سیل کر دیا، 6 اہلکار لاپتا
  • ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
  • ڈیرہ اسماعیل خان، بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا