پاکستان میں قابل تجدید توانائی بڑھانا مشکل حالات کے باوجود ممکن ہے، شیری رحمان
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی نائب صدر سینیٹر شیری رحمان نے کہا ہے کہ پاکستان میں قابل تجدید توانائی کو بڑھانا مشکل حالات کے باوجود ممکن ہے۔
شیری رحمان نے آلودگی سے پاک توانائی کے عالمی دن پر شیری رحمان نے ایک بیان میں کہ گزشتہ مالی سال میں بجلی کی پیداوار میں 53 فیصد حصہ قابل تجدید ذرائع سے حاصل ہوا۔
انہوں نے کہا کہ عالمی تعاون، مالی مدد اور ٹیکنالوجی کی منتقلی سے ترقی پذیر ممالک میں صاف توانائی کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔
پی پی سینیٹرنے مزید کہا کہ توانائی کی منتقلی منصفانہ اور عوام کے مرکز پر ہونی چاہیے تاکہ ماحولیاتی انصاف قائم رہے، صاف توانائی نہ صرف آلودگی کم کرے گی بلکہ درآمدی ایندھن کے زرمبادلہ میں بھی کمی لائے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ نئی انرجی پالیسی میں نیٹ میٹرنگ سے نیٹ بلنگ کی تبدیلی شہریوں کے لیے صاف توانائی کے فروغ میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں 23 فیصد کمی
پاکستان میں مختلف اقسام کے ایندھن کی فروخت کا ماہانہ ڈیٹا جاری(mothly data) کردیا گیا۔ ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت میں سالانہ بنیادوں پر 23 اور ماہانہ 14 فیصد کمی آئی۔
اعداد وشمار کے مطابق مئی 2026 میں11لاکھ 72ہزارٹن پیٹرولیم مصنوعات فروخت کی گئیں، مئی میں پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت میں سالانہ 23اورماہانہ14فیصد کمی آئی۔
مئی میں آئل ریفائنریز کی پیداوارمیں بھی 7فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، سب سےبڑی کمی فرنس آئل کی فروخت میں سالانہ 64اورماہانہ 79فیصد آئی، فرنس آئل کی فروخت سالانہ بنیادپر80ہزارٹن سےگرکر29ہزارٹن پرآگئی۔
مئی میں سالانہ بنیاد پرڈیزل کی فروخت 32 فیصد کم ہوکر4لاکھ 55 ہزار ٹن جبکہ سالانہ بنیاد پرپیٹرول کی فروخت 12فیصد کم ہوکر6لاکھ 17ہزار ٹن رہی۔
مزید پڑھیں:حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
مئی میں پاکستان اسٹیٹ آئل کی فروخت میں 19اوراٹک پیٹرولیم میں 30فیصد کمی دیکھی گئی جبکہ وافی انرجی کی فروخت 16فیصداورحیسکول پیٹرولیم کی فروخت میں37 فیصد کمی آئی۔