پاکستان میں قابل تجدید توانائی بڑھانا مشکل حالات کے باوجود ممکن ہے، شیری رحمان
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی نائب صدر سینیٹر شیری رحمان نے کہا ہے کہ پاکستان میں قابل تجدید توانائی کو بڑھانا مشکل حالات کے باوجود ممکن ہے۔
شیری رحمان نے آلودگی سے پاک توانائی کے عالمی دن پر شیری رحمان نے ایک بیان میں کہ گزشتہ مالی سال میں بجلی کی پیداوار میں 53 فیصد حصہ قابل تجدید ذرائع سے حاصل ہوا۔
انہوں نے کہا کہ عالمی تعاون، مالی مدد اور ٹیکنالوجی کی منتقلی سے ترقی پذیر ممالک میں صاف توانائی کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔
پی پی سینیٹرنے مزید کہا کہ توانائی کی منتقلی منصفانہ اور عوام کے مرکز پر ہونی چاہیے تاکہ ماحولیاتی انصاف قائم رہے، صاف توانائی نہ صرف آلودگی کم کرے گی بلکہ درآمدی ایندھن کے زرمبادلہ میں بھی کمی لائے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ نئی انرجی پالیسی میں نیٹ میٹرنگ سے نیٹ بلنگ کی تبدیلی شہریوں کے لیے صاف توانائی کے فروغ میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
نیوز بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ توانائی اور سول جوہری تعاون کا معاہدہ سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہے۔ نیوز بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی سعودی عرب کے ساتھ مختلف معاہدوں کے حوالے سے بات چیت کر چکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب ابراہیم اکارڈز پر دستخط کرے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کی مبینہ چوری کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ کیرولین لیویٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ توانائی اور سول جوہری تعاون سے متعلق مذاکرات جاری رکھے گا، تاہم کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے متعلقہ شرائط پوری ہونا ضروری ہوں گی۔