اپوزیشن اتحاد کی 8 فروری کی ہڑتال پر مشاورت مکمل: احتجاج کی کال واپس نہ لینے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان نے 8 فروری کو یوم سیاہ منانے اور ہڑتال پر مشاورت کرلی۔
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں محمود خان اچکزئی کی زیر صدارت اجلاس ہوا، جس میں سینیٹر راجا ناصر عباس، بیرسٹر گوہر، محمد زبیر، عمار علی جان اور مصطفیٰ نواز کھوکھر نے شرکت کی۔
اپوزیشن اتحاد کے اجلاس کے اعلامیے کے مطابق 8 فروری پاکستانی قوم کی اجتماعی تضحیک کا دِن ہے، اس روز عوام کے بنیادی اختیار اور حکمران چننے کے حق پر ڈاکا ڈالا گیا، عوام کو اس دن بے اختیار اور اُن کی حیثیت کو بے معنی کردیا گیا۔
سربراہ تحریک تحفظ آئین پاکستان اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم کسی صورت 8 فروری کے احتجاج کی کال واپس نہیں لیں گے۔ہوسکتا ہے ہم جیل بھرو تحریک شروع کر دیں۔ ابھی تو آغاز ہے، ابھی بہت سے مراحل باقی ہیں۔
اعلامیے کے مطابق 8 فروری کی ہڑتال سے متعلق جماعتوں اور اُن کی تنظیموں کے لیے ہدایات مرتب کی گئیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بیرسٹر علی ظفر نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ تحریک انصاف کے بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے۔
جیو نیوز کے پروگرام کیپیٹل ٹاک میں بات کرتے ہوئے بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے تحریک انصاف کے فارم 47 والے بیانیے کو مانا ہے اس کے بعد پیپلز پارٹی کو چاہیے کہ وہ تمام عہدوں سے استعفے دے اور ہمارے ساتھ اپوزیشن میں بیٹھے۔
پروگرام میں شریک پیپلز پارٹی کے رہنما سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ ہم مسلم لیگ ن کے ساتھ پاکستان کی خاطر حکومت میں بیٹھے ہیں۔
ن لیگ کے بیرسٹر دانیال چوہدری نے کہا کہ پیپلز پارٹی ان کے ساتھ ہی رہے گی اور اسی تنخواہ پر دونوں ایک دوسرے کے ساتھ چلتے رہيں گے۔