بند کمروں کے فیصلے سے لوگ دل برداشتہ ہوگئے، سہیل آفریدی
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ بند کمروں کے فیصلے سے لوگ دل برداشتہ ہوگئے ہیں۔
اسمبلی اجلاس سے خطاب میں سہیل آفریدی نے کہا کہ صوبے اور اس کے عوام کے لیے کسی کے ساتھ بھی بیٹھنے کو تیار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے خیبر پختونخوا کے عوام کو سہولیات فراہم کرنی ہے، بند کمروں کے فیصلے سے لوگ دل برداشتہ ہوگئے ہیں۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے مزید کہا کہ ایک بار پھر تیراہ کے لوگوں کا جبری انخلاء کیا جارہا ہے، مجھے ہرانے کے لیے تیراہ میں آپریشن شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
اُن کا کہنا تھا کہ جبری انخلاء ہوا تو میں تیراہ گیا، لوگوں نے مجھے عزت دی، ہم حل بھی دیتے ہیں، آپ کیوں بضد ہیں، تمام اسٹیک ہولڈر کےساتھ مل بیٹھیں۔
سہیل آفریدی نے یہ بھی کہا کہ ان سے غلطی ہوگئی کہ شدید سردی میں لوگوں کا انخلاء کیا تو کل اس پر پریس ریلیز جاری کی، پریس ریلیز میں 4 ارب کا ذکر کیا گیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ وفاق کے ذمے ہمارے 4 ہزار 758 ارب روپے بقایا ہیں، جو نہیں دیے جا رہے، ملک دیوالیہ ہوتا جا رہا ہے۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے کہا کہ وفاق 52 ارب روپے کا ہمارے آئی ڈی پیز کا مقروض ہے، یہ ہمیں کیڑے مکوڑے سمجھتے ہیں، اب تحریری رابطہ ہوگا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: خیبر پختونخوا سہیل ا فریدی نے کہا کہ
پڑھیں:
خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔
احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔
فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔