Islam Times:
2026-07-24@09:35:15 GMT

ٹرمپ کو قتل کرنے کی کوشش!

اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT

ٹرمپ کو قتل کرنے کی کوشش!

اسلام ٹائمز: ٹرمپ کی اسطرح کی پالیسیوں کی وجہ سے اپنی صدارتی مہم کے دوران دو قاتلانہ حملوں کا نشانہ بنے، لیکن وہ ان میں بچ گئے۔ پہلا واقعہ 13 جولائی 2024ء کو پیش آیا جب ٹرمپ، پنسلوانیا میں ایک انتخابی ریلی سے خطاب کر رہے تھے۔ اس واقعے میں ٹرمپ کے دائیں کان میں گولی لگی تھی۔ فائرنگ کرنے والا 20 سالہ تھامس میتھیو کروکس تھا، جو پینسلوینیا کے بیٹل پارک کا رہائشی تھا۔ حملہ آور نے ریلی سے متصل ایک عمارت کی چھت سے اے آر 15 سیمی آٹومیٹک رائفل سے آٹھ راؤنڈ فائر کیے۔ اس کے بعد اسے سیکرٹ سروس کی انسداد حملہ ٹیم کے ایک سنائپر نے مار ڈالا۔ دوسرا واقعہ تقریباً دو ماہ بعد یعنی 15 ستمبر کو پیش آیا۔ یہ کوشش فلوریڈا میں ڈونلڈ ٹرمپ کے گولف کلب کے قریب فائرنگ کے بعد کی گئی، جس میں ایف بی آئی نے کہا کہ امریکہ کے سابق صدر نشانہ تھے۔ تحریر: احسان احمدی

امریکی میڈیا نے بتایا ہے کہ ایک 39 سالہ خاتون کو امریکی صدر کے قتل کی کوشش کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔ میڈیا ذرائع کے مطابق امریکی ریاست ویسٹ ورجینیا میں مورگن ایل مورو نامی 39 سالہ خاتون کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ اس پر الزام ہے کہ اس نے سوشل میڈیا کے ذریعے لوگوں کو بھرتی کرنے اور منظم کرنے کی کوشش کی، تاکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا سراغ لگایا جا سکے۔ جیکسن کاؤنٹی شیرف کے دفتر (ایلی نوائے کی ایک کاؤنٹی) کے مطابق، یہ گرفتاری شیرف کے افسران اور کاؤنٹی کے بیورو آف انویسٹی گیشن کی طرف سے رات بھر مکمل چھان بین کے بعد کی گئی۔ مورو کو "دہشت گردی کے خطرات" کے ایک باضابطہ الزام کا سامنا ہے، ایک ایسا الزام جو امریکی قانون کے تحت ایسے اقدامات سے مربوط ہے، جو عوامی یا مخصوص افراد کی حفاظت کو سنگین خطرے میں ڈالتے ہیں۔

شیرف کے عہدیداروں نے کہا کہ مورو نے لوگوں کو سوشل میڈیا پر اپنی پوسٹوں یا سرگرمیوں کے ذریعے صدر کو قتل کرنے کی سازش میں حصہ لینے کی دعوت دی تھی۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ یہ کیس ابھی زیر تفتیش ہے اور مزید تفصیلات تفتیش کے بعد جاری کی جائیں گی۔ مورو کو اس وقت ساؤتھ سنٹرل ریجنل جیل میں رکھا گیا ہے اور اس کی رہائی کے لیے کوئی ضمانت طے نہیں کی گئی ہے۔ جیکسن کاؤنٹی کے  شیرف کے دفتر نے اپنے فیس بک پیج پر گرفتاری کا اعلان کرتے ہوئے پوسٹ کیا ہے کہ  "یہ سنگین اور مستند دستاویزی خدشات کے ساتھ ایک فعال مجرمانہ تفتیش ہے۔ اس پوسٹ کو 12 گھنٹوں کے اندر ہزاروں کمنٹس اور شیئرز موصول ہوئے۔ کاونٹی عہدیداروں نے مزید کہا ہے کہ ان کے آفیشل پیج پر اعلان کسی بھی طرح سے سیاسی بیان نہیں تھا، بلکہ ایک جاری فوجداری مقدمے کی تازہ کارروائی تھی۔

حالیہ مہینوں میں امریکہ میں سیاسی تشدد میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ امریکی سیاست میں ڈونلڈ ٹرمپ کی مخالفت کو اس رجحان میں اضافے کی ایک وجہ قرار دیا گیا ہے۔ اس وقت امریکہ میں مینی سوٹا ریاست میں ہونے والے ریاستی تشدد کے خلاف ملگیر مظاہرے جاری ہیں۔ مینیاپولس شہر سے موصول ہونے والی ویڈیو اور تصاویر میں دیکھا جا جاسکتا ہے کہ امریکی فوجیوں نے ریاست مینے سوٹا کے مرکز کو میدان جنگ بنا دیا ہے۔ عینی شاہدوں کے مطابق، امیگریشن پولیس کے ہاتھوں مہاجروں کے خلاف پرتشدد اور بے رحمانہ رویئے کے بعد مینیاپولس میں شہری سڑکوں پر نکل آئے، جس کے بعد امریکی وزیر جنگ نے مینیاپولس میں فوج اتارنے کا فیصلہ کر دیا۔ گذشتہ روز امریکی امیگریشن پولیس ICE نے 37 سالہ امریکی شہری کو متعدد گولیوں کا نشانہ بنا کر ہلاک کر دیا، جس کے بعد مظاہروں میں مزید شدت آگئی۔

ہلاک شدہ امریکی شہری ایلکس پریٹی ایک ہسپتال میں نرس کے طور پر خدمات پیش کر رہا تھا۔ مینیاپولس شہر کے بحرانی حالات کے انتظامی ادارے کی سربراہ ریچل سیر نے شہر کی صورتحال کو ہولناک قرار دیا ہے۔ ادھر امریکی رکن کانگریس ایلیگزینڈریا کورٹیز نے کہا ہے کہ امریکی شہری اپنی حکومت کے ہاتھوں قتل ہو رہے ہیں؛ امریکہ کا آئین تہس نہس ہو رہا ہے اور ہمارے حقوق پامالی کا شکار ہیں۔ انہوں نے امریکی امیگریشن اینڈ کسٹمز کے بجٹ کو روکنے اور فیڈرل فورس سے عوام کو بچانے کے لیے نیشنل گارڈ کے متحرک ہونے کی بھی اپیل کی۔ اس دوران مینے سوٹا کے گورنر نے اعلان کیا ہے کہ مقامی قیادت کی درخواست پر نیشنل گارڈ کو تعینات کرنے جا رہے ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ امریکی وزیر قومی سلامتی نے دعوی کیا تھا کہ ICE کے ہاتھوں قتل شدہ امریکی شہری پستول ہاتھ میں لیے ہوئے تھا، تاہم افسروں کے باڈی کیمروں اور اطراف میں جن لوگوں نے ویڈیو بنائی ہے، اس میں صاف دکھائی دے رہا ہے کہ مقتول نہتا تھا اور اس کے ہاتھ میں صرف اس کا موبائل فون تھا۔ اس وقت امریکی عوام میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے اور امریکی عوام ٹرمپ اور ان کی فیڈرل افواج کا قیاس نازی جرمنی کے لیڈر ہٹلر اور ان کی خفیہ پولیس گیشٹاپو سے کر رہے ہیں۔

ٹرمپ کی اسطرح کی پالیسیوں کی وجہ سے اپنی صدارتی مہم کے دوران دو قاتلانہ حملوں کا نشانہ بنے، لیکن وہ ان میں بچ گئے۔ پہلا واقعہ 13 جولائی 2024ء کو پیش آیا جب ٹرمپ، پنسلوانیا میں ایک انتخابی ریلی سے خطاب کر رہے تھے۔ اس واقعے میں ٹرمپ کے دائیں کان میں گولی لگی تھی۔ فائرنگ کرنے والا 20 سالہ تھامس میتھیو کروکس تھا، جو پینسلوینیا کے بیٹل پارک کا رہائشی تھا۔ حملہ آور نے ریلی سے متصل ایک عمارت کی چھت سے اے آر 15 سیمی آٹومیٹک رائفل سے آٹھ راؤنڈ فائر کیے۔ اس کے بعد اسے سیکرٹ سروس کی انسداد حملہ ٹیم کے ایک سنائپر نے مار ڈالا۔ دوسرا واقعہ تقریباً دو ماہ بعد یعنی 15 ستمبر کو پیش آیا۔ یہ کوشش فلوریڈا میں ڈونلڈ ٹرمپ کے گولف کلب کے قریب فائرنگ کے بعد کی گئی، جس میں ایف بی آئی نے کہا کہ امریکہ کے سابق صدر نشانہ تھے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: امریکی شہری ڈونلڈ ٹرمپ کو پیش آیا کہ امریکی شیرف کے ٹرمپ کے ریلی سے ہے اور کے بعد کی گئی گیا ہے نے کہا کہا کہ

پڑھیں:

ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے

واشنگٹن (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 24 جولائی2026ء) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے یورپی یونین جیسے گروپوں اور ممالک سمیت 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی مصنوعات پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے ٹیرف نافذ کر دیئے۔ برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی تجارتی نمائندے جیمی سن گریئر نے بیان میں کہا ہےکہ نئی ڈیوٹیز امریکی تجارتی قانون 1974 کے سیکشن 301 کے تحت نافذ کی گئی ہیں اور ان کا اطلاق امریکی درآمدات کے تقریباً 99.4 فیصد حصے پر ہوگا، تاہم تیل و گیس، کھاد اور بعض غذائی اشیاء سمیت متعدد مصنوعات کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔

ان ممالک میں یورپی یونین،جاپان، جنوبی کوریا، تائیوان، سوئٹزرلینڈ، کینیڈا، بھارت ، برطانیہ، میکسیکو اور دیگر شامل ہیں۔

(جاری ہے)

جیمی سن گریئر نے کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور اس پر سختی سے عمل درآمد کرتا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی ایسے ہی موثر اقدامات کریں۔

امریکا نے ارجنٹائن، بنگلہ دیش، برطانیہ، کمبوڈیا، کینیڈا، ایکواڈور، ایل سلواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، بھارت، انڈونیشیا، اردن، ملائیشیا، میکسیکو ،سری لنکا، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو سمیت متعدد ممالک پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا ہے۔ دوسری جانب یورپی یونین، تائیوان، جاپان، جنوبی کوریا اور سوئٹزرلینڈ پر پہلے سے موجود درآمدی محصولات کو مدنظر رکھتے ہوئے مجموعی ٹیرف 10 یا 12.5 فیصد مقرر کیا گیا ہے جبکہ باقی 38 ممالک پر 12.5 فیصد شرح نافذ کی گئی ہے جن میں چین اور ویتنام بھی شامل ہیں۔

امریکا کے اس اقدام پر متعدد ممالک نے فوری ردِعمل دیتے ہوئے احتجاج کیا۔ یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ کاجا کیلس نے کہا کہ یورپی بلاک اس اقدام کو ایک غیر متوقع دھچکا سمجھتا ہے اور امریکا کی جانب سے پیش کی گئی اس کی توجیہ ناقابلِ فہم ہے۔

متعلقہ مضامین

  • مسجد اقصیٰ کی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش مسترد، 8 اسلامی ممالک کا اسرائیل کو فوری انتباہ
  • ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
  • مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
  • سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ کا نیا حربہ، عالمی درآمدات پر نئے ٹیرف کا نفاذ
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل