امریکی حملے کا خدشہ: خامنہ ای زیر زمین پناہ گاہ منتقل، فوجی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینگے ‘ ایران
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260127-01-14
تہران /ابوظہبی/بغداد (مانیٹرنگ ڈیسک) ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو ممکنہ امریکی حملے کے خدشے کے پیشِ نظر تہران میں ایک خصوصی زیرِ زمین پناہ گاہ منتقل کر دیا گیا ہے۔ یہ دعویٰ ویب سائٹ ایران انٹرنیشنل نے اپنی رپورٹ میں کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ مقام ایک مضبوط کمپلیکس ہے جس میں ایک دوسرے سے جڑی ہوئی سرنگیں شامل ہیں‘ آیت اللہ خامنہ ای کے تیسرے بیٹے، مسعود خامنہ ای نے ان کے دفتر کے روزمرہ امور کی ذمہ داریاں سنبھالی ہوئی ہیں۔ ایرانی حکام نے سرکاری طور پر ان رپورٹس کی تردید کی ہے۔ ایرانی حکام نے امریکا اور اسرائیل پر سنگین الزامات عاید کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی فوجی یا سیاسی جارحیت کا بھرپور اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔ عراق کی کتائب حزب اللہ نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران پر حملہ ہوا تو مکمل جنگ ہو گی۔ عراقی نیم فوجی گروپ کتائب حزب اللہ نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا خطے میں فوجی اثاثے جمع کر رہا ہے تو تنازع شروع ہونے کی صورت میں وہ تہران کی فوجی حمایت کرے گا۔ ایران کے حمایت یافتہ گروپ کے سربراہ ابو حسین الحمیدوی نے بیان میں کہا کہ جنگجوؤں سے جنگ کے لیے تیار رہنے کا کہہ دیا ہے۔متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کی جانب سے کہا گیا ہے کہ وہ ایران پر کسی حملے کے لیے اپنی زمینی، فضائی یا سمندری حدود استعمال نہیں کرنے دے گا۔ اماراتی وزارت خارجہ کے مطابق یو اے ای نے ایران پر کسی بھی حملے کے لیے اپنی سرزمین استعمال نہ کرنے دینے کے عزم کا اظہار کیا ہے‘ لاجسٹک معاونت بھی فراہم نہیں کریں گے۔اماراتی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ موجودہ بحران کے حل کے لیے بات چیت اور کشیدگی میں کمی پر زور دیتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: خامنہ ای کیا ہے کے لیے
پڑھیں:
جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
تہران:ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔
مزید پڑھیںمشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔
ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔